عمران خان اپنے اوپر قاتلانہ حملے کے نئے نئے رازوں سے پردہ اٹھا رہے ہیں

چیئرمین تحریک انصاف کا کہنا ہے جس مجھ پر وزیرآباد میں حملہ ہوا اس دن میجر جنرل فیصل نصیر ایک اور افسر کے ساتھ ملکر کنٹرول روم میں حملے کی مانیٹرنگ کررہے تھے۔

سابق وزیراعظم اور چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے ایک اور پینڈورا باکس کھول دیا ہے ، کہتے ہیں اب میں بتاؤں گا کہ جس دن مجھ پر حملہ ہوا تھا کون کنٹرول قائم کرکے بیٹھا تھا ، رہنما تحریک انصاف فرخ حبیب کا کہنا ہے کہ فرانزک رپورٹ میں یہ ثابت ہو گیا ہے کہ حملہ آور دو افراد تھے۔ دوسری جانب سپریم کورٹ بار نے یہ مطالبہ کردیا ہے کہ عمران خان کی ڈیمانڈ کے مطابق ایف آئی آر میں نامزد لوگوں کے ناموں کا اندراج کیا جائے۔

گزشتہ روز قوم سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین تحریک انصاف کا کہنا تھا کہ جمعرات کے روز حقیقی آزادی مارچ کا آغاز وہیں سے ہوگا جہاں پر ہمارے 13 لوگوں کو گولیاں لگیں تھیں اور ہمارا کارکن معظم جاں بحق ہوا تھا۔

عمران خان کا قوم کو حقیقی آزادی مارچ میں  شرکت کی دعوت دیتے ہوئے کہنا تھا میں حقیقی آزادی مارچ سے آن لائن خطاب کروں گا ، پاکستان بننے کے بعد حقیقی آزادی مارچ سب سے بڑی تحریک ہے۔

سابق وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا اپنے قتل کے منصوبے کا دو ماہ پہلے علم ہوچکاتھا ، جلسوں میں اس بات سے پردہ اٹھایا ، وزیرآباد میں قاتلانہ حملہ اسی اسکرپٹ کا حصہ تھا۔

کل قوم سے اپنے خطاب میں  چیئرمین تحریک انصاف کا کہنا تھا میں بتاؤں گا کہ کنٹرول روم میں میجر جنرل فیصل نصیر کے ساتھ اور کون افسر موجود تھا۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پیغام شیئر کرتے ہوئے عمران خان نے لکھا ہے کہ "میں نے تقریباً دو ماہ قبل اپنے خلاف رچی گئی قاتلانہ سازش کا پتا چلا لیا تھا ، اور اسے رحیم یار خان کے 24 ستمبر اور میانوالی 7 اکتوبر کے عوامی جلسوں میں بے نقاب کیا تھا۔ وزیرآباد میں قاتلانہ حملہ اسی اسکرپٹ کا حصہ تھا۔”

انہوں نے مزید لکھا ہے کہ "میں دوسرے افسر کا نام بھی بتاتا ہوں جو میجر جنرل فیصل کے ساتھ کنٹرول روم میں دوپہر 12 بجے سے شام 5 بجے تک بیٹھ کر اس سازش کی نگرانی کر رہا تھا۔”

عمران خان پر حملے کی فرانزک رپورٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے رہنما تحریک انصاف فرخ حبیب نے اپنے ٹوئٹر ہینڈل پر لکھا ہے کہ "پنجاب فرانزک ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے جو ابتدائی رپورٹ وزیر داخلہ پنجاب عمر چیمہ کو بریفنگ ملی ہے اسکے مطابق عمران خان پر قاتلانہ حملہ میں کم از کم 2 حملہ آور شامل تھے۔”

انہوں نے مزید لکھا ہے کہ "اس کا مطلب جو cover up کے لئے طوطا تیار کیا گیا وہ مذہبی بنیاد کو حملہ کی وجہ بتا رہا تھا وہ غلط ثابت ہوئی۔ ہمارا پہلے دن سے یہ موقف رہا ہے کہ عمران خان پر یہ قاتلانہ حملہ منظم منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا جو آج فرنزک کی ابتدائی رپورٹ دے درست ثابت ہوا۔ اب یہ حقیقت عیاں ہوگئی ہے کہ قاتلانہ حملہ سے لیکر FIR تک cover up کرنے کی کوشش جاری ہے۔”

دوسری جانب سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے سابق وزیراعظم عمران خان پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہ ہر شہری شخص کو اپنے اوپر حملے کی ایف آئی آر درج کرانے کا حق ہے ۔ عمران خان نے ایف آئی آر جو نام دیئے تھے اگر ان کو ایف آئی آر میں شامل نہیں کیا گیا تو یہ غیرقانونی ہے۔

سپریم کورٹ بار کا خط

تجزیہ کاروں کا ہے کہ چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کے بیان سے تو ایسا لگتا ہے کہ یہ بالکل ایک منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا حملہ تھا ، اس لیے عمران خان جو الزامات لگا رہے ہیں ، ان کی ایف آئی آر بھی ان کی ڈیمانڈ کے مطابق درج ہونی چاہیے۔ تاہم اب جو پینڈورا باکس عمران خان نے کھول دیا ہے وہ بند ہوتا دکھائی نہیں دے رہا۔ جب تک جوڈیشل انکوائری مکمل نہیں ہوتی۔

متعلقہ تحاریر