نیا آرمی چیف یا توسیع: گیند نواز شریف کے کورٹ میں آگئی
اسٹیبلشمنٹ نے افواج پاکستان کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں 6 ماہ کی توسیع یا نئے فوج کے نئے سربراہ کی تعیناتی کے حوالے سے فیصلہ نواز شریف پر چھوڑ دیا ،تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کی بات مانی جاتی ہے تو قومی اسمبلی تحلیل ہو جائے گی اور نگراں حکومت نئے انتخابات کے شیڈول کا اعلان کرے گی

افواج پاکستان کے سربراہ جنرل قمرجاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں 6 ماہ کی توسیع یا فوج کے نئے سربراہ کی تعیناتی کے حوالے سے اسٹیبلشمنٹ نے گیند نواز شریف کے کورٹ میں ڈال دی۔
موجودہ چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں چھ ماہ کی توسیع یا لیفٹیننٹ جنرل سید عاصم منیر کو نیا آرمی چیف مقرر کرنے پر طاقتور حلقوں کی تقسیم کے بعد اسٹیبلشمنٹ نے گیند نواز شریف کے کورٹ میں ڈال دی ہے۔
یہ بھی پڑھیے
پاک فوج میرے بچوں کی طرح ہے آرمی چیف کی تعیناتی میرا ایشو نہیں، عمران خان
وزیراعظم شہباز شریف اہم فیصلوں کے حوالے سے نواز شریف سے مشاورت کے لیے لندن روانہ ہو گئے ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ کور کمانڈرز کانفرنس کے دوران آرمی چیف کے عہدے کے لیے لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر کے نام پر طاقتور حلقے تقسیم ہو گئے۔
گزشتہ کور کمانڈرز کانفرنس کے بارے میں تاحال پریس بیان جاری نہیں کیا گیا۔ اعلیٰ کمانڈروں نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو چھ ماہ کی توسیع دینے پر غور کیا اور حکومت سے اس معاملے پر نظرثانی کرنے کی اپیل کی ۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ نواز شریف کو پاکستان واپسی کی پیشکش کی گئی ہے کیونکہ انہیں لیول پلیئنگ فیلڈ دیا جائے گا۔ مزید یہ کہ انہیں نئے الیکشن شیڈول کے اعلان کے علاوہ موجودہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں چھ ماہ کی توسیع دینے کی سفارش کی گئی۔
گیند حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز (پی ایم ایل-این) کے قائد نواز شریف کے کورٹ میں ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف اہم فیصلوں کے حوالے سے نواز شریف سے مشاورت کے لیے لندن روانہ ہو گئے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر وفاقی حکومت سفارشات قبول کرتی ہے تو قومی اسمبلی تحلیل ہو جائے گی اور نگراں حکومت نئے انتخابات کے شیڈول کا اعلان کرے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ نئے آرمی چیف کا فیصلہ نئی حکومت کرے گی۔
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سربراہ عمران خان نے بھی حکومت سے کہا تھا کہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع دے اور نئے انتخابات کا اعلان کرے۔ انہوں نے زور دیا کہ نئے آرمی چیف کی تقرری کا طریقہ کار میرٹ پر ہونا چاہیے۔









