شہباز شریف کو برطانوی اخبار پر مقدمہ گلے پڑگیا، جواب الجواب اور التوا کی درخواست مسترد

لندن ہائیکورٹ نے وزیراعظم شہبازشریف اور ان کے داماد عمران علی یوسف کی غیرمعینہ مدت تک التوا کی درخواست اور جواب الجواب مسترد کرتے ہوئے حکم امتناع جاری کردیا، میری عدالت میں وزیراعظم اور عام آدمی برابر ہے، جج کے التوا کی درخواست پر ریمارکس

وزیراعظم شہباز شریف کو برطانوی اخبار ڈیلی میل کیخلاف ہتک عزت کا مقدمہ گلے پڑگیا۔

لندن ہائیکورٹ نے وزیراعظم شہبازشریف اور ان کے داماد عمران علی یوسف کی غیرمعینہ مدت تک التوا کی درخواست اور جواب الجواب مسترد کرتے ہوئے حکم امتناع جاری کردیا۔

یہ بھی پڑھیے

وفاقی حکومت نے عدالتی اشتہاری ملزم نواز شریف کو سفارتی پاسپورٹ جاری کردیا

نیا آرمی چیف یا توسیع: گیند نواز شریف کے کورٹ میں آگئی

برطانیہ میں مقیم پاکستانی صحافی عرفان ہاشمی نے اپنے ٹوئٹر تھریڈ میں بتایا ہے کہ  شہباز شریف کے کیس میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔برطانوی صحافی ڈیوڈ روز نے  اخبار’ دی میل آن سنڈے‘ میں اپنے مضمون میں الزام لگایا گیا تھا کہ شہبازشریف نے اور ان کے خاندان نے لاکھوں چوری کیے اور انہیں اپنے زیرانتظام  بینک اکاؤنٹس میں لانڈر کیا۔

عرفان ہاشمی کے مطابق  گزشتہ روز لندن   ہائی کورٹ میں ہونے والی سماعت میں شہباز شریف  اور ان کے داماد عمران علی یوسف کے وکلا نے  ہتک عزت کے اس مقدمے میں غیر معینہ مدت تک کے لیے التوا کا مطالبہ کیا۔ مسٹر جسٹس نکلن نے ان کی درخواست مسترد کر دی۔

عرفان ہاشمی کے مطابق ایک مرحلے پر یہ تجویز پیش کی گئی کہ   بطور وزیراعظم پاکستان شہباز شریف بہت مصروف آدمی ہیں ،اس لیے انہیں کیس پر توجہ مرکوز کرنے میں زیادہ وقت لگ سکتا ہے۔ جج نے ریمارکس دیے کہ  اس کمرہ عدالت میں وزیراعظم بھی کسی اور کی طرح دعویدار ہیں۔

عرفان ہاشمی کے مطابق  وکلا نے موقف اپنایا کہ وزیراعظم پاکستان مصروف ہیں، جواب کےلئے مزید وقت دیا جائےجس پر جسٹس میتھیو نیکلن نے تاریخٰ جواب دیا کہ میرعدالت میں وزیراعظم اور عام آدمی برابر ہیں۔

عرفان ہاشمی نےکیس کی تفصیلات بتاتے ہوئے اپنے ٹوئٹر تھریڈ میں لکھاکہ اب معاملہ یہ ہے کہ  جنوری میں عدالت میں ایک کیس مینجمنٹ کانفرنس ، ایک پری ٹرائل سماعت ہوگی اور اکتوبر میں ایک مقدمے کی سماعت ہوگی۔ لیکن سب کچھ یہی نہیں ہے۔

انہوں نے بتایا کہ برطانوی اخبار نے  کچھ مہینے پہلے ہتک عزت کے دعووں کا تفصیلی دفاع پیش کیا تھا۔ اخبار  کا اصرار ہے کہ مضمون سچ تھا اور اس  نے دعوے کی تائید کے لیے ثبوت بھی  پیش  کردیے۔شہباز شریف اور ان کے داماد کے وکلا تحریری  جواب جمع کرانے کےبجائے مسلسل التوا کی درخواستیں دائر کررہے ہیں۔

عرفان ہاشمی نے بتا یا کہ انہوں نے کچھ ہفتے قبل آخر کارجواب جمع  کرانے سے پہلے کئی وقت میں توسیع کی درخواست کی تھی لیکن مسٹر جسٹس نکلن کے مطابق ان کے جوابات انگریزی قانون کے تحت تقاضوں کے مطابق نہیں تھے۔

وہ دفاع کے موادکو چیلنج کرنے میں ناکام رہے لہٰذا جج  نے حکم امتناع جاری کیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب تک وہ تقاضوں کے مطابق  نئے جوابات کے ساتھ نہیں آتے  کیس کو خارج کر دیا جائے گا۔ اس کا مطلب ہے کہ یہ  کیس مکمل طور پر ناکام ہو جائے گا اور انہیں میل کے تمام اخراجات ادا کرنے ہوں گے۔

عرفان ہاشمی کے مطابق  جج نے انہیں کل کی سماعت کے لیے میل کے اخراجات بھی ادا کرنے کا حکم دیا  جو ہزاروں پاؤنڈز تک ہوں گے۔ اگر وہ کیس کو چھوڑنے کا فیصلہ کرتے ہیں اور چلے جاتے ہیں، تو پھر انہیں بھی میل کے تمام اخراجات ادا کرنے ہوں گے۔

عرفان ہاشمی نے کہا کہاب ان کی پسند یہ ہے کہ وہ ایسا کریں یا کسی طرح میل کے دفاع کو چیلنج کریں اور اگر ان کے نئے جوابات کو قبول کر لیا جاتا ہے اور مقدمے کی سماعت آگے بڑھ جاتی ہے، تو امکان ہے کہ انہیں حلفیہ ثبوت دینا پڑے گا  اور میل کے بیرسٹر کے الزامات پر جرح کا سامنا کرنا پڑے گا۔

عرفان ہاشمی نے سوال اٹھایا کہ کیا شہبازشریف کے لندن آنے کی یہی وجہ ہے؟ انہوں نے کہا کہ یہ ممکن لگتا ہے  ہردوصورتوں میں  کل کی سماعت میں انہیں  دو بڑی شکستیں ہوئی ہیں ،ان کی التوا کی درخواست  اور دفاع میں ان کا جواب مسترد کردیا گیا ہے، یہ بات انہیں سیاسی طور پر نقصان پہنچا سکتی ہے۔

متعلقہ تحاریر