شہباز شریف کو برطانوی اخبار پر مقدمہ گلے پڑگیا، جواب الجواب اور التوا کی درخواست مسترد
لندن ہائیکورٹ نے وزیراعظم شہبازشریف اور ان کے داماد عمران علی یوسف کی غیرمعینہ مدت تک التوا کی درخواست اور جواب الجواب مسترد کرتے ہوئے حکم امتناع جاری کردیا، میری عدالت میں وزیراعظم اور عام آدمی برابر ہے، جج کے التوا کی درخواست پر ریمارکس

وزیراعظم شہباز شریف کو برطانوی اخبار ڈیلی میل کیخلاف ہتک عزت کا مقدمہ گلے پڑگیا۔
لندن ہائیکورٹ نے وزیراعظم شہبازشریف اور ان کے داماد عمران علی یوسف کی غیرمعینہ مدت تک التوا کی درخواست اور جواب الجواب مسترد کرتے ہوئے حکم امتناع جاری کردیا۔
یہ بھی پڑھیے
وفاقی حکومت نے عدالتی اشتہاری ملزم نواز شریف کو سفارتی پاسپورٹ جاری کردیا
نیا آرمی چیف یا توسیع: گیند نواز شریف کے کورٹ میں آگئی
برطانیہ میں مقیم پاکستانی صحافی عرفان ہاشمی نے اپنے ٹوئٹر تھریڈ میں بتایا ہے کہ شہباز شریف کے کیس میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔برطانوی صحافی ڈیوڈ روز نے اخبار’ دی میل آن سنڈے‘ میں اپنے مضمون میں الزام لگایا گیا تھا کہ شہبازشریف نے اور ان کے خاندان نے لاکھوں چوری کیے اور انہیں اپنے زیرانتظام بینک اکاؤنٹس میں لانڈر کیا۔
There has been an important development in the case brought by @CMShehbaz over the article alleging he and his family stole millions and laundered it to bank accounts they controlled by @DavidRoseUK in the Mail on Sunday.
— Irfan Hashmi (@IrfanHashmiUK) November 10, 2022
عرفان ہاشمی کے مطابق گزشتہ روز لندن ہائی کورٹ میں ہونے والی سماعت میں شہباز شریف اور ان کے داماد عمران علی یوسف کے وکلا نے ہتک عزت کے اس مقدمے میں غیر معینہ مدت تک کے لیے التوا کا مطالبہ کیا۔ مسٹر جسٹس نکلن نے ان کی درخواست مسترد کر دی۔
وزیراعظم پاکستان مصروف ہیں، جواب کےلئے مزید وقت دیا جائے، وکلا
میری عدالت میں وزیراعظم اور عام آدمی برابر ہیں۔
جسٹس میتھیو نیکلن کا تاریخی جواب
Complete videohttps://t.co/NLz1dBVBfp pic.twitter.com/ExLYL2jlvv— Irfan Hashmi (@IrfanHashmiUK) November 10, 2022
عرفان ہاشمی کے مطابق ایک مرحلے پر یہ تجویز پیش کی گئی کہ بطور وزیراعظم پاکستان شہباز شریف بہت مصروف آدمی ہیں ،اس لیے انہیں کیس پر توجہ مرکوز کرنے میں زیادہ وقت لگ سکتا ہے۔ جج نے ریمارکس دیے کہ اس کمرہ عدالت میں وزیراعظم بھی کسی اور کی طرح دعویدار ہیں۔
At one stage, it was suggested that as the PM of Pakistan, Sharif was a very busy man and so it might take longer for him to focus on the case, and the judge said “in this courtroom the PM is a Claimant like anyone else”.
— Irfan Hashmi (@IrfanHashmiUK) November 10, 2022
عرفان ہاشمی کے مطابق وکلا نے موقف اپنایا کہ وزیراعظم پاکستان مصروف ہیں، جواب کےلئے مزید وقت دیا جائےجس پر جسٹس میتھیو نیکلن نے تاریخٰ جواب دیا کہ میرعدالت میں وزیراعظم اور عام آدمی برابر ہیں۔
عرفان ہاشمی نےکیس کی تفصیلات بتاتے ہوئے اپنے ٹوئٹر تھریڈ میں لکھاکہ اب معاملہ یہ ہے کہ جنوری میں عدالت میں ایک کیس مینجمنٹ کانفرنس ، ایک پری ٹرائل سماعت ہوگی اور اکتوبر میں ایک مقدمے کی سماعت ہوگی۔ لیکن سب کچھ یہی نہیں ہے۔
The Mail submitted a detailed defence to the defamation claims some months ago. It insists the article was true and cites evidence to support this claim. The next step for Sharif and Yousaf was to submit a written reply to try to refute it.
— Irfan Hashmi (@IrfanHashmiUK) November 10, 2022
انہوں نے بتایا کہ برطانوی اخبار نے کچھ مہینے پہلے ہتک عزت کے دعووں کا تفصیلی دفاع پیش کیا تھا۔ اخبار کا اصرار ہے کہ مضمون سچ تھا اور اس نے دعوے کی تائید کے لیے ثبوت بھی پیش کردیے۔شہباز شریف اور ان کے داماد کے وکلا تحریری جواب جمع کرانے کےبجائے مسلسل التوا کی درخواستیں دائر کررہے ہیں۔
عرفان ہاشمی نے بتا یا کہ انہوں نے کچھ ہفتے قبل آخر کارجواب جمع کرانے سے پہلے کئی وقت میں توسیع کی درخواست کی تھی لیکن مسٹر جسٹس نکلن کے مطابق ان کے جوابات انگریزی قانون کے تحت تقاضوں کے مطابق نہیں تھے۔
They failed to challenge the substance of the defence. So the judge has issued what is called an "unless order”.
— Irfan Hashmi (@IrfanHashmiUK) November 10, 2022
وہ دفاع کے موادکو چیلنج کرنے میں ناکام رہے لہٰذا جج نے حکم امتناع جاری کیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب تک وہ تقاضوں کے مطابق نئے جوابات کے ساتھ نہیں آتے کیس کو خارج کر دیا جائے گا۔ اس کا مطلب ہے کہ یہ کیس مکمل طور پر ناکام ہو جائے گا اور انہیں میل کے تمام اخراجات ادا کرنے ہوں گے۔
The judge also ordered them to pay the Mail’s costs for yesterday’s hearing, which will run to thousands of pounds. If they decide to drop the case and simply walk away, they will then too have to pay all the Mail’s costs.
— Irfan Hashmi (@IrfanHashmiUK) November 10, 2022
عرفان ہاشمی کے مطابق جج نے انہیں کل کی سماعت کے لیے میل کے اخراجات بھی ادا کرنے کا حکم دیا جو ہزاروں پاؤنڈز تک ہوں گے۔ اگر وہ کیس کو چھوڑنے کا فیصلہ کرتے ہیں اور چلے جاتے ہیں، تو پھر انہیں بھی میل کے تمام اخراجات ادا کرنے ہوں گے۔
And if their new replies are accepted and the trial goes ahead, it is likely they will have to give sworn evidence – and face cross-examination on the allegations by the Mail’s barrister.
— Irfan Hashmi (@IrfanHashmiUK) November 10, 2022
عرفان ہاشمی نے کہا کہاب ان کی پسند یہ ہے کہ وہ ایسا کریں یا کسی طرح میل کے دفاع کو چیلنج کریں اور اگر ان کے نئے جوابات کو قبول کر لیا جاتا ہے اور مقدمے کی سماعت آگے بڑھ جاتی ہے، تو امکان ہے کہ انہیں حلفیہ ثبوت دینا پڑے گا اور میل کے بیرسٹر کے الزامات پر جرح کا سامنا کرنا پڑے گا۔
Is this the real reason @CMShehbaz came to London? It does seem possible. In any event, for him, yesterday’s hearing represents two significant defeats. He lost his application for a stay and his reply to the defence was rejected. He may find this politically uncomfortable.
— Irfan Hashmi (@IrfanHashmiUK) November 10, 2022
عرفان ہاشمی نے سوال اٹھایا کہ کیا شہبازشریف کے لندن آنے کی یہی وجہ ہے؟ انہوں نے کہا کہ یہ ممکن لگتا ہے ہردوصورتوں میں کل کی سماعت میں انہیں دو بڑی شکستیں ہوئی ہیں ،ان کی التوا کی درخواست اور دفاع میں ان کا جواب مسترد کردیا گیا ہے، یہ بات انہیں سیاسی طور پر نقصان پہنچا سکتی ہے۔









