کسی بھی ٹرینڈ پر محض ٹوئٹ کرنا کوئی جرم نہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ

مقدمہ صارف کے اپنے الفاظ میں جب تک کچھ غلط نہ ہو جرم نہیں، جسٹس بابر ستار نے متنازع ٹویٹ پر مقدمہ درج کرنا  ایف آئی اےکا اختیارات سے تجاوز قرار دے دیا، مقدمہ خارج کردیا۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے متنازع ٹوئٹ پر مقدمے کے اندراج کو ایف آئی اے کا اختیارات سے تجاو ز قراردیتے ہوئے صارف کیخلاف مقدمہ خارج کردیا۔

جسٹس بابر ستار نے کیس کے فیصلے میں قراریا ہے کہ  کسی بھی ٹرینڈ پر محض ٹوئٹ کرنے سے کوئی جرم سرزد نہیں ہوتا ،صارف کے اپنے الفاظ میں جب تک کچھ غلط نہ ہو جرم نہیں۔

یہ بھی پڑھیے

پی ٹی آئی کا افواج پاکستان کے خلاف بیان بازی روکنے والا ہدایت نامہ جعلی قرار

وزیراعظم شہباز شریف کے لندن میں طویل قیام کی وجوہات کیا ہیں ؟

اسلام آبادسے تعلق رکھنے والے سینئر کورٹ رپورٹر ثاقب بشیر نے  اپنے ٹوئٹ میں  لکھا کہ  اسلام آباد ہائیکورٹ نے متنازع ٹویٹ پر مقدمے کے  اندراج کو ایف آئی اے کا اختیار سے تجاوز قرار دے دیا۔

ثاقب بشیر کے مطابق  اپریل میں حکومت کی تبدیلی کے بعد سوشل میڈیا پر چلائی گئی مہم کے  کیس میں مقدمہ خارج کرتے ہوئے جسٹس بابر ستار نے اپنے فیصلے میں لکھا ہے کہ  ایف آئی آر اظہار رائے پر قدغن کی کوشش ہے۔

جسٹس بابر ستار نے مزید قرار دیا کہ کسی بھی ٹرینڈ پر محض ٹویٹ کرنے سے کوئی جرم سرزد نہیں ہوتا ، ٹوئٹ کرنے والے کے اپنے الفاظ میں جب تک کچھ غلط نہ ہو جرم نہیں ، ایف آئی اے نے یہ کیس درج کر کے ریاست کا مذاق ہی بنایا، ٹوئٹر صارف نے ویگو ڈالے اور ماورائے قانون جبری گمشدگیوں کی بات کی۔

عدالت نے فیصلے میں کہا کہ متنازع ٹوئٹ میں مخصوص ٹرینڈ سے متعلق کہا گیا اس میں لکھنے پر ادارے ماورائے قانون کارروائی کر سکتے ہیں۔عدالت نے قرار دیا کہ  ایف آئی اے کا سچ میں ایسےی ٹوئٹ پر کریمنل کیس بنا کر عوام کے ذہن میں ایسے شبہات کو تقویت دینا المیہ ہے۔

متعلقہ تحاریر