کسی بھی ٹرینڈ پر محض ٹوئٹ کرنا کوئی جرم نہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ
مقدمہ صارف کے اپنے الفاظ میں جب تک کچھ غلط نہ ہو جرم نہیں، جسٹس بابر ستار نے متنازع ٹویٹ پر مقدمہ درج کرنا ایف آئی اےکا اختیارات سے تجاوز قرار دے دیا، مقدمہ خارج کردیا۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے متنازع ٹوئٹ پر مقدمے کے اندراج کو ایف آئی اے کا اختیارات سے تجاو ز قراردیتے ہوئے صارف کیخلاف مقدمہ خارج کردیا۔
جسٹس بابر ستار نے کیس کے فیصلے میں قراریا ہے کہ کسی بھی ٹرینڈ پر محض ٹوئٹ کرنے سے کوئی جرم سرزد نہیں ہوتا ،صارف کے اپنے الفاظ میں جب تک کچھ غلط نہ ہو جرم نہیں۔
یہ بھی پڑھیے
پی ٹی آئی کا افواج پاکستان کے خلاف بیان بازی روکنے والا ہدایت نامہ جعلی قرار
وزیراعظم شہباز شریف کے لندن میں طویل قیام کی وجوہات کیا ہیں ؟
اسلام آبادسے تعلق رکھنے والے سینئر کورٹ رپورٹر ثاقب بشیر نے اپنے ٹوئٹ میں لکھا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے متنازع ٹویٹ پر مقدمے کے اندراج کو ایف آئی اے کا اختیار سے تجاوز قرار دے دیا۔
اہم خبر ، متنازع ٹویٹ پر مقدمہ اندراج کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے FIA کا اختیار سے تجاوز قرار دے دیا ، اپریل میں حکومت تبدیلی کے بعد سوشل میڈیا مہم کیس میں مقدمہ خارج کرتے ہوئے جسٹس بابر ستار نے اپنے فیصلے میں لکھا ہے کہ ” ایف آئی آر اظہار رائے پر قدغن کی کوشش ہے ” 1/3
— Saqib Bashir (@saqibbashir156) November 12, 2022
ثاقب بشیر کے مطابق اپریل میں حکومت کی تبدیلی کے بعد سوشل میڈیا پر چلائی گئی مہم کے کیس میں مقدمہ خارج کرتے ہوئے جسٹس بابر ستار نے اپنے فیصلے میں لکھا ہے کہ ایف آئی آر اظہار رائے پر قدغن کی کوشش ہے۔
” متنازع ٹوئٹ میں مخصوص ٹرینڈ سے متعلق کہا گیا اس میں لکھنے پر ادارے ماورائے قانون کارروائی کر سکتے ہیں ایف آئی اے کا سچ میں ایسی ٹوئٹ پر کریمنل کیس بنا کر عوام کے ذہن میں ایسے شبہات کو تقویت دینا المیہ ہے ” 3/3
— Saqib Bashir (@saqibbashir156) November 12, 2022
جسٹس بابر ستار نے مزید قرار دیا کہ کسی بھی ٹرینڈ پر محض ٹویٹ کرنے سے کوئی جرم سرزد نہیں ہوتا ، ٹوئٹ کرنے والے کے اپنے الفاظ میں جب تک کچھ غلط نہ ہو جرم نہیں ، ایف آئی اے نے یہ کیس درج کر کے ریاست کا مذاق ہی بنایا، ٹوئٹر صارف نے ویگو ڈالے اور ماورائے قانون جبری گمشدگیوں کی بات کی۔
— Saqib Bashir (@saqibbashir156) November 12, 2022
عدالت نے فیصلے میں کہا کہ متنازع ٹوئٹ میں مخصوص ٹرینڈ سے متعلق کہا گیا اس میں لکھنے پر ادارے ماورائے قانون کارروائی کر سکتے ہیں۔عدالت نے قرار دیا کہ ایف آئی اے کا سچ میں ایسےی ٹوئٹ پر کریمنل کیس بنا کر عوام کے ذہن میں ایسے شبہات کو تقویت دینا المیہ ہے۔









