استنبول بم دھماکے کا مشتبہ دہشتگرد گرفتار، وزیر داخلہ ترکیہ

ترکیہ کے صدر رجب طیب اردگان کا کہنا ہے دہشتگردانہ حملے میں ملوث افراد کے خلاف بھرپور کارروائی کی جائے گی۔

گزشتہ روز ترکیہ کے دارالحکومت استنبول میں ہونے والے بم دھماکے کے مشتبہ دہشتگرد کو ترکیہ پولیس نے گرفتار کرلیا ہے ، اس بات کا اعلان وزیر داخلہ نے اپنے ایک بیان میں کیا ہے ، بم دھماکے میں کم از کم 6 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

ترکیہ کے صدر رجب طیب اردگان نے اتوار کے روز ہونے والے بم حملے کو دہشتگردی قرار دیا تھا۔

وزیر داخلہ سلیمان سویلو نے پیر کے روز اپنے بیان میں کہا ہے کہ استقلال ایونیو پر بم حملے کے مشتبہ ذمہ دار شخص کو پولیس نے گرفتار کرلیا گیا ہے۔ استقلال ایونیو پیدل چلنے والے سیاحوں سے کچھا کچھ بھرا ہوا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

جرمن اینکر پرسن ملیسا چین نے جنگ اخبار کی خبر کا پوسٹ مارٹم کردیا

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا روزانہ عوام سے ہزاروں گالیاں ملنے کا اعتراف

وزیر داخلہ سلیمان سویلو کا حوالہ دیتے ہوئے سرکاری خبر رساں ایجنسی انادولو نے پیر کے روز صبح اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ کے ذریعے گرفتاری کی خبر شیئر کی تھی۔

انادولو ایجنسی کے مطابق وزیر داخلہ سلیمان سویلو نے عین العرب کے دہشت گرد گروپوں کو اس حملے کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔”

وزیر داخلہ کا اپنے بیان میں کہا تھا کہ "ہمارا اندازہ ہے کہ مہلک دہشت گردانہ حملے کے پیچھے پی کے کے اور وائی پی جی کے دہشتگردوں کا ہاتھ ہوسکتا ہے ، جو شمالی شام میں عین العرب کے شامی ہیڈکوارٹر میں ہیں۔”

سلیمان سویلو کا مزید کہنا تھا کہ "ہم ان لوگوں کے خلاف جوابی کارروائی کریں گے جو اس گھناؤنے دہشت گردانہ حملے کے ذمہ دار ہیں۔”

واضح رہے کہ ترکیہ کی سرکاری ویب سائٹ ایم ایف اے اور یورپی یونین نے ‘کردستان ورکرز پارٹی (PKK)’ دہشت گرد تنظیم ڈکلیئرڈ کررکھا ہے۔

ترکیہ کے صدر رجب طیب اردگان کے مطابق اتوار کے روز ہونے والے بم دھماکے میں چھ افراد ہلاک ہوئے ، چار موقع پر اور دو دوران علاج اسپتال میں۔

بالی میں ہونے والی G-20 سربراہی اجلاس میں روانگی سے قبل گفتگو کرتے ہوئے طیب اردگان نے دھماکے کو ایک ایسی چیز قرار دیا جس سے "دہشت گردی کی بو آتی ہے”۔ ان کا کہنا تھا کہ اس حملے کے مرتکب افراد کو سزا دی جائے گی۔

استنبول کے استقلال ایونیو پر ہونے والے دہشتگردانہ حملے میں 6 افراد ہلاک جبکہ 81 سے زیادہ افراد زخمی ہوئے تھے۔

واضح رہے کہ ترکیہ میں 2015 اور 2017 کے درمیان اسلامک اسٹیٹ اور کالعدم کرد گروپوں کی طرف سے اسی طرح کے مہلک بم دھماکے کیے گئے تھے۔

متعلقہ تحاریر