آرمی چیف کی تقرری: خواجہ آصف نواز شریف سے مشاورت کے بیان سے مکر گئے

وزیر دفاع خواجہ آصف نے آرمی چیف کی تقرری کے حوالے سے لندن میں مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف سے مشاورت سے متعلق اپنا بیان واپس لے لیا۔

وزیر دفاع اور پاکستان مسلم لیگ نون (ن) کے سینئر رہنما خواجہ آصف نے آرمی چیف کی تقرری کے حوالے سے لندن میں مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف سے مشاورت سے متعلق اپنا بیان واپس لے لیا ہے۔

چند روز قبل وزیر دفاع خواجہ آصف نے تصدیق کی تھی کہ انہوں نے اور وزیر اعظم شہباز شریف نے لندن میں پی ایم ایل (ن) کے سربراہ محمد نواز شریف کے ساتھ نئے آرمی چیف کی تقرری پر مشاورت کی تھی۔

یہ بھی پڑھیے

حامد میر نے عمران خان پر حملے کی ایف آئی آر پر خواجہ آصف کو لاجواب کردیا

بلاول بھٹو زرداری نے دفاعی نمائش آئیڈیاز 2022 کا افتتاح کردیا

گزشتہ روز جیو نیوز کے پروگرام کیپٹل ٹاک میں انٹرویو کے دوران گفتگو کرتے ہوئے خواجہ محمد آصف کا کہنا تھا کہ ” آرمی چیف کی تقرری کے حوالے سے لندن میں کوئی فیصلہ نہیں ہوا اور نہ ہی انہیں کوئی سمری موصول ہوئی ہے۔”

وزیر دفاع نے عمران خان کے اس دعوے کا جواب دیتے ہوئے کہا تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ "آرمی چیف کی تقرری کا فیصلہ لندن میں ہو رہا ہے۔”

خواجہ آصف کا کہنا تھا لندن کےدورے کے دوران آرمی چیف کی تقرری کے حوالےسے ایک بھی قدم نہیں اٹھایا گیا ، اور انہوں نے کہا ایسی خبروں میں کوئی صداقت بھی نہیں ہے۔

ایک سوال کے جواب میں خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) سے نکالے جانے کے بعد پارٹی رہنما مختلف قسم کے معاملات اور مستقبل کی حکمت عملی کے لیے نواز شریف سے مشاورت کے لیے لندن جاتے رہتے ہیں۔

آرمی چیف کی تقرری میں تاخیر کے بارے میں سوال کیا گیا تو وزیر دفاع خواجہ محمد آصف کا کہنا تھا کہ "وہ پہلے بھی وزیر دفاع کے طور پر کام کر چکے ہیں ، آرمی چیف کی تقرری کا فیصلہ تقریباً 18 نومبر کو کیا گیا تھا۔”

واضح رہے کہ 10 نومبر کو خواجہ محمد آصف نے اپنے ایک بیان اس بات کی تصدیق کی تھی کہ انہوں نے اور وزیر اعظم شہباز شریف نے نواز شریف سے نئے آرمی چیف کی تقرری پر بات چیت کی ہے۔

جیو نیوز کے پروگرام آج شاہ زیب خانزادہ کے ساتھ میں گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا تھا کہ وہ وزیر اعظم شہباز کے ساتھ آرمی چیف کی تقرری کے معاملے پر نواز شریف سے رہنمائی لینے کے لیے لندن گئے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے الوداعی دورے اس بات کا واضح اشارہ ہیں کہ فوج حالات کو کس طرف لے جانا چاہتی ہے۔ انہوں نے ملک میں مارشل لاء کے نفاذ کو مسترد کرتے ہوئے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ فوج یہ غیر آئینی قدم نہیں اٹھائے گی۔

وزیر دفاع نے کہا کہ نئے آرمی چیف کی تقرری کا ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا لیکن ان کا خیال ہے کہ تمام افواہوں دم توڑ جائیں گی ، کیونکہ ایک دو دن میں چیزیں کھل کر سامنے آجائیں گی۔

ایک سوال کے جواب میں وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ "میں نے اور وزیراعظم شہباز شریف نے لندن میں میاں محمد نواز شریف سے ملاقات کی تھی اور نئے آرمی چیف کی تقرری سے متعلق کھل کر مشاورت بھی کی گئی۔”

رہنما ن لیگ کا کہنا تھا کہ "پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان آرمی چیف کی تقرری کو متنازعہ ایشو بنانا چاہتے تھے۔”

متعلقہ تحاریر