اسلام آباد میں ان ڈرائیور کے رائڈر کی خاتون کے ساتھ مبینہ ہراسانی
خاتون نے آئی 8 مرکز جانے کیلیے رائیڈ بک کرائی تھی، موٹرسائیکل سوار متعین راستہ نظر انداز کرکے خاتون کو سڑکوں پر گھماتا رہا، خاتون نے بھاگ کر جان اور عزت بچائی۔

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں خواتین کے خلاف جرائم کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔تازہ ترین واقعےمیں آن لائن ٹیکسی سروس ان ڈرائیور کے رائیڈر کی جانب سے خاتون کو مبینہ طور پر ہراسانی کا نشانہ بنایا گیا ہے۔
کمپنی نے خاتون کی شکایت کا نوٹس لیتے ہوئے مذکورہ رائیڈر کیخلاف کارروائی کی یقین دہانی کرادی۔
یہ بھی پڑھیے
اسلام آباد ایکسپریس وے پر حادثے کا شکار خاتون سے مبینہ ہراسانی کا انکشاف
اسلام آباد کے کچنار پارک میں نصب ’صنف آہن‘ کا مجسمہ منہدم
وینٹنگ ویکا نامی خاتون ٹوئٹر صارف نے طویل تھریڈ میں اپنے ساتھ پیش آئے واقعے کی تفصیلات بیان کی ہیں۔

خاتون کا کہنا ہے کہ ایک انتہائی تکلیف دہ تجربہ ہوا اور خوش قسمتی سے وہ بچ گئیں ۔ انہوں نے اپنی نظر چیک کرانے اور چشمہ بنوانے کیلیے آئی 8 مرکز کیلیے سہ پہر 2بجکر 59منٹ پر ان ڈرائیو کی موٹرسائیکل رائیڈ بک کروائی۔
TW: Harassment
Had an extremely traumatising experience and luckily escaped it. Booked an @inDrive bike around 2:59 pm from I-8 markaz to home. Everything was going fine. When we reached the point where he was supposed to turn to roundabout to exit Faisal Avenue; he skipped it. pic.twitter.com/Gv1VEsGPE1
— venting wicca (@ventingwicca) November 17, 2022
خاتون کا کہنا ہے کہ” سب کچھ ٹھیک چل رہا تھا،جب ہم اس مقام پر پہنچے جہاں اسے فیصل ایونیو سے باہر نکلنے کے لیے چورنگی کا رخ کرنا تھالیکن اس نے اسے چھوڑ دیا ، مجھے لگاکہ اس نے غلطی کی ہوگی اور وہ اگلے قریب ترین اخراج سے باہر نکل جائے گا لیکن اس نے سفر جاری رکھا لیکن جوں ہی اس نے شکرپڑیاں انٹرچینج کوبھی نظر انداز کیا تو میں فوری چوکنا ہوگئی اور اسے کہا”یہ کہاں جا رہا ہے؟“۔
To which he replied, "kahan jana chahti ho” I pushed him hard and he slowed the bike to balance. Got off the moving bike and he started making lame arguments by showing me google map upside down kay dekhain yeh rast seedha shakarpariyan ki taraf ja raha hai. pic.twitter.com/HAmQ2V8OEm
— venting wicca (@ventingwicca) November 17, 2022
خاتون کے مطابق رائیڈر نے جواب دیا کہ”کہاں جانا چاہتی ہو“ میں نے اسے زور سے دھکا دیا اور اس نے توازن برقرار رکھنے کے لیے موٹر سائیکل کو آہستہ کر دیا۔خاتون کا کہنا ہے کہ”میں چلتی ہوئی بائیک سے اتری اور اس نے مجھے گوگل میپ الٹا کے دکھایا کہ یہ راست سیدھا شکرپڑیاں کی طرف جا رہا ہے اور پھر مجھے لولی لنگڑی تاویلیں پیش کرنا شروع کردیں“۔
خاتون کا کہنا ہے کہ”خوش قسمتی سے سڑک کی دوسری جانب ایک اور موٹر سائیکل سوار تھا جوخاموشی سے سب کچھ دیکھ رہا تھا۔ میں نے سڑک عبور کی اور مدد کی درخواست کی ، گارڈن ایونیو پر ٹریفک یا پولیس نہیں تھی۔ یہ سب کچھ منٹوں میں ہوا،میں نے جتنی جلدی ہو سکا اس جگہ سے فرار ہونے کی کوشش کی“۔
Tried not to panic, kept my composure and this dickhead ran away. I requested the second bike rider to drop me off in I-8 markaz so I can figure out things. Qismat achi thi that he was less chutiya. He was also riding bike illegally wearing green helmet without registration. pic.twitter.com/rRAksdR6fL
— venting wicca (@ventingwicca) November 17, 2022
خاتون نے بتایا کہ” میں نے گھبراہٹ پر قابو پاکراپنا حوصلہ برقرار رکھا اور وہ رائیڈر بھاگ گیا۔ میں نے دوسرے موٹر سائیکل سوار سے درخواست کی کہ وہ مجھے آئی 8 مرکز میں چھوڑ دے تاکہ میں چیزوں کا پتہ لگا سکوں۔ قسمت اچھی تھی کہ وہ کم بیوقف تھا۔ وہ بغیر رجسٹریشن کے سبز ہیلمٹ پہن کر غیر قانونی طور پر موٹر سائیکل چلا رہا تھا“۔
خاتون نے بتایا کہ”دوسرے موٹرسائیکل سوارنے مجھے آئی 8 چھوڑا اور میں نے اسے کچھ نقد رقم بطور صدقہ دی۔ ہوش بحال کرنے کے لیے تھوڑی دیر کے لیے I-8/3 پارک میں بیٹھی اور گھر پہنچنے کے لیے ایک اور کار بک کروائی۔ میں اب تک حواس باختہ ہوں،حالات بہت خراب ہو سکتے تھے لیکن اللہ نہیں رحم کیا ہے“۔
Even though I complaint through the @inDrive app the ride status is still marked as complete. Booked another car ride and finally reached home. Attempted to complaint again and this is the shit complaint mechanism. pic.twitter.com/NNik0FYHkk
— venting wicca (@ventingwicca) November 17, 2022
خاتون نے ان ڈرائیو کی ایپلی کیشن پر شکایت درج کرانے کےباوجود کوئی جواب نہ آنے کا بھی شکوہ کیا۔ انہو ں نے کہاکہ” میں دو سال سے رائیڈ ہیلنگ ایپس میں بائیک استعمال کر رہی ہوں اور یہ ایک خوفناک تجربہ رہا ہے، کچھ بھی غلط ہو سکتا تھا۔ گاڑی میں بھی ایسا ہی ہو سکتا تھا۔ خواتین اس ملک میں محفوظ نہیں ہیں“۔
انہوں نےمایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ”اس ملک میں عورت کوسانس لینےاور زندہ رہنے کیلیے پوری ہمت دکھانا پڑتی ہے۔ میری دعا ہے کہ ہم سب غلاظت سے نکل جائیں،مجھے یہاں پیدا ہونے پربالکل بھی فخر نہیں ہے“۔
It takes every ounce of courage to breathe and live in this country as a woman. I pray we all escape this shit hole and never come back. And once we escape this hell hole I hope this country is overtaken and wiped out of the map. Clearly not proud to be born here.
— venting wicca (@ventingwicca) November 17, 2022
خاتون نے کہا کہ” اتنی حواس باختہ ہوں کہ میں رونے سے قاصر ہوں اور پچھلے ایک گھنٹے سے ٹھنڈے فرش پر بیٹھی ہوئی ں۔ اپنی آنکھوں کی بینائی چیک کروانے اور عینک بنوانے کے لیے آئی 8 مرکزگیا۔ مجھے کیا پتہ تھا یہ سب ہوجائے گا“۔
Thank you. There representative reached out https://t.co/DKqNZRT69N
— venting wicca (@ventingwicca) November 17, 2022
بعدازاں ان ڈرائیور کے ٹوئٹر ہینڈل نے خاتون سے رابطہ کرکے مذکورہ ڈرائیور کی معلومات حاصل کیں اور انہیں کارروائی کی یقین دہانی کرائی ہے۔ خاتون نے ان ڈرائیو کی انتظامیہ سے اپنی نمائندوں کو نفسیاتی طبی امداد کی فراہمی کے بارے میں آگاہ کرنے کا بھی مشورہ دیا۔انہوں نے شکوہ کیا کہ کمپنی کی خاتون نمائندہ نے انہیں میسیج کیے بغیر براہ راست فون کردیا ۔









