عمران خان کو ملنے والے تحائف کل مالیت 14 کروڑ 80 لاکھ ہے، پلڈاٹ کا بڑا انکشاف

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے ایسا لگتا ہے کہ حکومتی وزراء کو مہنگائی ، معیشت کی گرتی ہوئی حالت اور بے روزگاری سے بڑا مسئلہ توشہ خانہ کے تحائف لگ رہے ہیں۔

پلڈاٹ پاکستان کے صدر احمد بلال محبوب ، چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کو ساڑھے تین سال کے دوران ملنے والے تحائف کی تفصیلات سامنے لے آئے ، کہتے ہیں ماضی کے حکمرانوں کو ملنے والے تحائف کی تفصیلات بھی سرکاری ویب سائٹ پر آویزاں کی جانے چاہئیں۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر عمران خان کو ملنے والے تحائف کی تفصیلات شیئر کرتے ہوئے احمد بلال محبوب کا کہنا ہے کہ "ای سی پی کے حکم سے جاری توشہ خانہ کے تحائف کی فہرست سے پتہ چلتا ہے کہ 3 سال (2018-21) میں ، پی ٹی آئی سربراہ عمران خان کو 148 ملین (14 کروڑ 80 لاکھ) روپے کی سرکاری قیمت کے 160 تحائف دیے گئے۔”

یہ بھی پڑھیے

پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ گورننس کی نااہلی ہے، سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل

معاون فاؤنڈیشن کا مقصد معاشرے کے محروم طبقے کو کامیاب انسان بنانا ہے، سابق نیول چیف

احمد بلال محبوب لکھتے ہیں کہ عمران خان نے 55 تحفے بغیر قیمت ادا کیے حاصل کیے جبکہ 53 تحفوں کے مد میں انہوں نے 37.9 ملین روپے ادا کیے۔ ان تحائف کی اصل ویلیو 104.78 ملین روپے تھی یعنی حکومت کو ادا کی گئی رقم اصل تخمینہ شدہ قیمت کو 27 فیصد تھا۔”

پلڈاٹ کے صدر کا مزید لکھا ہے کہ "عمران خان کو تین سالوں (2018-21) میں ملنے والے تحائف میں 7 گھڑیاں بھی شامل تھیں۔ جن کی ویلیو 97.91 ملین روپے تھی۔ عمران خان نے تمام گھڑیوں کی مقررہ فیصد رقم ادا کرکے وہ گھڑیاں حاصل کیں۔ ان گھڑیوں کی قیمت عمران خان کے پاس رکھے گئے تمام تحائف کا 69 فیصد بنتی ہے۔”

اپنے خواہش کا اظہار کرتے ہوئے پلڈاٹ کے صدر احمد بلال محبوب لکھتے ہیں کہ "میری خواہش ہے کہ ماضی کے حکمرانوں خصوصاً پرویز مشرف، ایم این ایز اور اے اے زی کے بارے میں اسی طرح کی تمام تفصیلات کابینہ ڈویژن کی آفیشل ویب سائٹ پر ڈال دی جائیں۔”

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے عمران خان کو مجموعی طور پر تقریباً 14 کروڑ 80 لاکھ کے تحائف ملنے تھے جس کا 27 فیصد یعنی 3 کروڑ 70 لاکھ روپے کی رقم ادا کی گئی ، یعنی حکومتی وزراء کی جانب سے جو اربوں روپے کا ڈھنڈورا پیٹا جارہا ہے وہ سراسر جھوٹ پر مبنی ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے توشہ خانہ کیس میں اگر عمران خان کرپٹ ثابت ہو گئے ہیں تو حکومت ان کے خلاف کیس نہیں کرتی ، انہیں عدالت کیوں نہیں لے کر جاتی ، ایسی کیا وجہ سے کہ حکومت انتہائی اقدام اٹھانے سے گریزاں ہے ، حقیقت یہ ہے کہ حکومت کو پتا ہے کہ عمران خان کے خلاف چلائی جانے والی کمپین جھوٹ کے سوا کچھ نہیں۔

تجزیہ کاروں کا مزید کہنا ہے کہ عوام مہنگائی کو رونا رو رہے ہیں ، لوگ خودکشیوں پر مجبور ہیں ، جبکہ حکومتی وزراء کو توشہ خانہ ملک کا سب سے بڑا مسئلہ دکھائی دے رہا ہے ، ایسا لگتا ہے کہ حکومت کے لیے مہنگائی ، معیشت اور بےروزگاری سے بڑا مسئلہ توشہ خانہ ہے۔ لندن کے فلیٹوں میں بیٹھ کر توشہ خانہ کی گھڑیوں کی باتیں کی جارہی ہیں۔

متعلقہ تحاریر