پرائم منسٹر ہاؤس کو آرمی چیف کے حوالے کوئی سمری موصول نہیں ہوئی ، وزیر دفاع خواجہ آصف

وزارت دفاع کی جانب سے پرائم منسٹر ہاؤس کو ملنے والی سمری کی خبروں میں کوئی صداقت نہیں ، سمری موصول ہوگی تو مشاورت ہو گی۔خواجہ آصف

وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ نئے آرمی چیف کی تقرری کے لیے طریقہ کار آغاز ہو گیا ہے۔ سمری وزارت دفاع سے ایک دو روز میں بھجوا دی جائے گی۔

نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ محمد آصف کا کہنا تھا کہ آرمی چیف کی تقرری کا عمل 25 نومبر تک مکمل ہو جائےگا۔

وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کی ہے۔ ان کا کہنا تھا آج وزیراعظم کے ساتھ ملاقات میں موجودہ سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

نئے آرمی چیف کی تعیناتی: خواجہ آصف کے دیئے ہوئے وقت کا کاؤنٹ ڈاؤن شروع

پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ گورننس کی نااہلی ہے، سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل

انہوں نے مختلف چینلز پر چلنے والی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ابھی تک وزارت دفاع کی جانب سے سمری موو نہیں کی گئی ہے۔

خواجہ محمد آصف کا کہنا تھا کہ "میں نے پہلے بھی کہنا تھا کہ پیر کے روز سے نئے آرمی چیف کی تقرری کے حوالے سے کام شروع کردیا جائے گا۔

وزیر دفاع کا کہنا تھا آرمی چیف کی تقرری کے حوالے سے ہم پر کوئی پریشر نہیں ہے ، ہمیں بھی کوئی جلدی نہیں ہے ، لگتا ہے میڈیا کو جلدی ہے۔

خواجہ آصف کا کہنا تھا وزارت دفاع کی جانب سے موو ہونے والی سمری میں 5 سے 6 سینئر ترین فوجی افسران کے نام ہوں گے اور اس کے ساتھ ڈوزیئر بھی آئیں گے۔

ان کا کہنا تھا ناموں کے ساتھ جو ڈوزیئر آئیں گے ان پر وزیراعظم صاحب کے ساتھ مشاورت کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا پاک فوج کی لیڈرشپ کے ساتھ بھی ناموں پر مشاورت کی جائے گی اور اعتماد میں لے کر فیصلہ کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ آرمی چیف کی تعیناتی کے حوالے سے تمام اتحادی اس وقت رابطے میں ہیں۔ ہر سطح پر ہر قدم پر وہ ہمارے ساتھ ہیں ، اور اس میں کوئی شک بھی نہیں ہونا چاہیے۔

صحافی نے سوال کیا کہ ناموں کے اوپر کوئی ڈیڈ لاک ہے۔؟ اس پر خواجہ آصف کا کہنا تھا کوئی ڈیڈ لاک نہیں ہے ، سمری آئے گی تو مشاورت کی جائے گی اور اس کے بعد ہی کوئی فیصلہ کیا جائے گا۔ افواج پاکستان کی لیڈرشپ کو اعتماد میں لیا جائے گا۔

متعلقہ تحاریر