مالی مشکلات یا الیکشن سےفرار : حکومت ای سی پی کو 47 ارب روپےدینے سے قاصر
انگریزی اخبار روزنامہ ڈان نیوز نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ وفاقی حکومت نے الیکشن کمیشن پاکستان (ای سی پی) کو ملک میں نئے عام انتخابات کیلئے تاحال کوئی فنڈز جاری نہیں کیے۔ ای سی پی نے اگلے عام انتخابات کیلئے وزارت خزانہ سے47 ارب روپے سے زائد کے فنڈز مانگے ہیں مگر حکومت اس پر تذبذب کا شکار نظر آرہی ہے

الیکشن کمیشن پاکستان(ای سی پی) نےملک میں اگلےعام انتخابات کی تیاریوں کیلئےوفاقی حکومت سے47 ارب روپے سے زائد کے فنڈزریلیز کرنے کی درخواست کی ہے تاہم حکومت اس پر تذبذب کا شکار نظر آرہی ہے ۔
ملک میں اگلے عام انتخابات کی تیاریوں کیلئے الیکشن کمیشن پاکستان (ای سی پی) وفاقی حکومت سے47 ارب 42 کروڑ روپے مانگیں ہیں تاہم وفاقی حکومت نے تاحال نہ فنڈز ریلیز کیا اور نہ ہی اس حوالے سے کوئی بیان جاری کیا ہے ۔
یہ بھی پڑھیے
الیکشن کمیشن کا حیدرآباد اور کراچی میں 15 جنوری کو بلدیاتی انتخابات کرانے کا حکم
انگریزی اخبار روزنامہ ڈان نیوز میں شائع ایک خبر میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ وزارت خزانہ ملک میں نئے انتخابات کیلئے 47 ارب روپے جاری کرنے کی الیکشن کمیشن کی درخواست پر تذبذب کا شکار نظر آرہی ہے ۔
اخبار نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے وزارت خزانہ اخراجات میں اضافے اورعالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ معاہدے کے پیش نظر ایک بڑی ضمنی گرانٹ مختص کرنے کے لیے بظاہر ایک مشکل صورتحال میں ہے ۔
ڈان نیوز نے اپنی خبر میں ذرائع کے حوالے سے کہا کہ الیکشن کمیشن نے ستمبر میں تنخواہوں کی ادائیگی اوردیگر اخراجات کیلئے منطور6 ارب 3 کروڑکے بجٹ کے بعد عام انتخابات کیلئے ضمنی گرانٹ کیلئے درخواست کی ہے ۔
انگریزی روزنامہ نے اپنی خبر میں کہا ہے کہ وزارت خزانہ نے ای سی پی کی درخواست مسترد کر دی اورالیکشن کمیشن حکام کو بتایا کہ وہ مناسب سمری کے ساتھ کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) سے رجوع کرے۔
الیکشن کمیشن نے گزشتہ ماہ ستمبر میں اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کو بتایا کہ ائینی ذمہ داری کے مطابق ملک میں عام انتخابات کے انعقاد کے لیے تمام اقدامات کیے جارہے ہیں جس کیلئے 47.42 ارب روپے کے کی ضرورت ہے ۔
اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کو بھجی گئی سمری میں کہا گیا تھا کہ 47 ارب روپے کی رقم 2 اقساط میں ادا کی جائے۔ اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ ای سی پی کی جانب سے الیکشن کمیشن کی سمری پر غور کرنے کے بعد اسے موخر کردیا گیا ہے ۔
یہ بھی پڑھیے
الیکشن کمیشن نے اگلے عام انتخابات کے لئے ووٹر لسٹ شائع کردی
انگریزی اخبار روزنامہ ڈان نیوز کی رپورٹ کے مطابق موجودہ حکومت پہلے ہی رواں مالی سال کے بجٹ میں اضافہ ہونے کی وجہ سے مشکلات کا شکار نظر آتی ہے جبکہ ترقیاتی بجٹ بھی تقریباً آدھا گھٹا دیا گیا ہے ۔
الیکشن کمیشن نے اگلے عام انتخابات کیلئے گزشتہ انتخابات کے مقابلے میں 114 فیصد زیادہ لاگت کا تخمینہ لگایا ہے۔ 2018 کے الیکشن میں22 ارب روپے کے اخراجات آئے تھے جبکہ اب یہ 47 ارب تک پہنچ جائیں گے ۔
رپورٹ میں میں بتایا گیا ہے کہ 2008 کے الیکشن میں تقریباً پونے 2 ارب روپے جبکہ 2013 کے عام انتخابات میں اخراجات تقریباً 5 ارب تک پینچ گئے تھے جو کہ گزشتہ کے مقابلے میں 157 فیصد زائد تھے ۔









