سپریم کورٹ نے سی سی پی او لاہور غلام محمود ڈوگر کو بحال کردیا
سروس ٹریبونل کا ایک بینچ دوسرے بینچ کا فیصلہ کیسے معطل کرسکتا ہے ؟ عدالت نے سروس ٹربیونل کے خصوصی بینچ کے فیصلے کے خلاف اپیل پر وفاقی حکومت کو نوٹس جاری کردیا

سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت کی جانب سے معطل کئے گئےسی سی پی او لاہور غلام محمود ڈوگر کو بحال کر دیا۔عدالت عظمیٰ نے استفسار کیا کہ سروس ٹریبونل کا ایک بینچ دوسرے بینچ کا فیصلہ کیسے معطل کرسکتا ہے۔؟
عدالت عظمٰی کے جسٹس اعجاز الاحسن کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی جس میں عدالت نے سروس ٹریبونل کے خصوصی بینچ کے فیصلے کے خلاف اپیل پر وفاقی حکومت کو نوٹس جاری کردیا۔
یہ بھی پڑھیے
سی سی پی او لاہور کا معاملہ: وفاق اور پنجاب حکومت میں ٹھن گئی
وفاقی حکومت کا سی سی پی او لاہور غلام محمود ڈوگر کو احکامات کی پیروی کا حکم
عدالت میں درخواست گزار معطل سی سی پی او کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ ان کے موکل غلام محمود ڈو گر کو فیڈرل سروس ٹربیونل نے بحال کیا تھا ، سروس ٹریبونل کے ہی دو رکنی بینچ نے بحالی کا فیصلہ معطل کر دیا جبکہ ٹریبونل کے دو رکنی بینچ کا فیصلہ دو سرادو رکنی بنچ معطل نہیں کر سکتا۔
سی سی پی او لاہور کے وکیل عابد زبیری کا کہنا تھا کہ حکومت کی نظر ثانی درخواست بھی ٹریبونل میں زیر التوا تھی ۔ دوران سماعت جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ ٹریبونل کا ایک بینچ دو سرے بنچ کا فیصلہ کیسے معطل کر سکتا ہے ؟ خصوصی بینچ نے ایک جانب کہا درخواست قبل از وقت ہے ساتھ ہی حکم معطل کر دیا۔
جسٹس مظاہر نقوی نے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ نےکیسے کہہ دیا کہ آئینی درخواست قابل سماعت نہیں؟عدالت نے سی سی پی او لاہور غلام محمود ڈوگر کو بحال کرتے ہوئے سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردی۔
یادرہے کہ کیپیٹل سٹی پولیس آفیسر لاہور غلام محمود ڈوگر کو گزشتہ ماہ وفاقی حکومت نے معطل کردیا تھا،جس پر انہوں نے اپنی معطلی کو پہلے لاہور ہائی کورٹ اور پھر سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا تھا۔
غلام محمود ڈوگر کی جانب سے درخواست میں وفاقی حکومت، سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ اور پنجاب حکومت کو فریق بنایا گیا تھا۔درخواست میں مؤقف اپنایا گیا تھا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے 27 اکتوبر کو 3 روز میں عہدے کا چارج چھوڑنے کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا ہے۔
غلام محمود ڈوگر کی جانب سے دائر کی گئی درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ وفاقی حکومت نے 5 نومبر کو مجھے عہدے سے معطل کر دیا۔ان کا اپنی درخواست میں کہنا ہے کہ وفاقی حکومت 2 وفاقی وزراء کے خلاف دہشت گردی کے مقدمات درج کرنے پر انتقام کا نشانہ بنا رہی ہے، دونوں وفاقی وزراکے خلاف مقدمہ تھانہ گرین ٹاؤن میں درج کیا گیا۔
غلام محمود ڈوگر نے موقف اپنایا ہے کہ وزیرِاعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہٰی کو سی سی پی او کے تقرر و تبادلوں کا اختیار ہے، مجھے معطل کر کے وفاقی حکومت نے صوبائی خود مختاری میں مداخلت کی ہے۔
سی سی پی او لاہور غلام محمود ڈوگر نے اپنی درخواست میں کہا تھا کہ ان کی معطلی کا نوٹیفکیشن جاری کرنے سے قبل اظہارِوجوہ کا نوٹس بھی نہیں دیا گیا جبکہ پنجاب حکومت نے عہدے کا چارج نہ چھوڑنے کی ہدایت کی ہے۔
غلام محمود ڈوگر کی جانب سے استدعا کی گئی تھی کہ وفاق کے عہدے سے معطلی اور ٹرانسفر کے نوٹیفکیشن غیر قانونی قرار دے کر کالعدم کیے جائیں، درخواست کے حتمی فیصلے تک تبادلے اور معطلی کے نوٹیفکیشنز پر عمل درآمد روکا جائے۔









