ملکی زرمبادلہ کے ذخائر مزیدکم، درآمدات و برآمدات بھی مشکلات کا شکار

سیاسی بے یقینی اور عدم استحکام  کے باعث ملکی معیشت بدترین صورتحال اختیار کرتی جارہی ہے، نومبرمیں ختم ہونے والے ہفتے کے دوران زرمبادلہ کے ذخائر میں 32 کروڑ ڈالرز سے زائد کی کمی ریکارڈ گئی جبکہ برآمدات 18 فیصد کم ہوکر 2 اعشاریہ 36 ارب ڈالر تک محدود ہوگئیں

ملک میں پھیلی سیاسی بےیقینی اور معاشی عدم استحکام  کے باعث صورتحال بدترین ہوتی چلی جارہی ہے۔ گزشتہ ماہ نومبر میں نومبرکی برآمدات 18 فیصد کم ہوکر 2 اعشاریہ 36 ارب ڈالر تک محدود ہوگئیں۔ تجارتی خسارہ 43 فیصد کم ہو کر 2.876 بلین ڈالر رہ گیا۔

ملک میں پھیلی سیاسی بےیقینی نےمعاشی صورتحال کو بدترین سطح پر لا کھڑا کیا ہے۔ درآمدات اور برآمدات کی شرح میں مسلسل کمی کاسامنا درپیش ہے۔ گزشتہ ماہ نومبر میں نومبر کی برآمدات 18 فیصد کم ہوکر 2 اعشاریہ 36 ارب جبکہ درآمدات 34 فیصد کم ہوکر 5.24 بلین ڈالر ہوگئیں۔

یہ بھی پڑھیے

اسٹیٹ بینک نے وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے بے بنیاد دعوؤں کی قلعی کھول دی

سیاسی بے چینی اور عدم استحکام کی باعث جولائی نومبر کی برآمدات 3.5 فیصد کم ہوکر 11.93 ارب  ڈالر ہوگئیں۔ درآمدات 20 فیصد کم ہوکر 26.3 بلین ڈالر ہوگئیں جبکہ تجارتی خسارہ 30 فیصد کم ہو کر 14.4 ارب  ڈالر رہ گیا۔

دوسری جانب ملکی زرمبادلہ کے ذخائر بھی روز بروز کم ہوتے جارہے ہیں۔ اسٹیٹ بینک پاکستان کے اعدادو شمار کے مطابق 25 نومبر تک ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر13 اعشاریہ 38 ارب ڈالر کی سطح پر تھے ۔

اسٹیٹ بینک پاکستان کے جاری کردہ اعدادو شمار کے مطابق 25 نومبرکو ختم ہونے والے ہفتے میں مرکزی بینک کے ذخائر میں32کروڑ ڈالرز سے زائد کی کمی ریکارڈ گئی جبکہ ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 13ارب37کروڑ82لاکھ ڈالرز کی سطح پر رہے

یہ بھی پڑھیے

لیگی رہنما مفتاح اسماعیل نے ملک کے دیوالیہ ہونے کے خطرات کا انکشاف کردیا

اعداد و شمار کے مطابق  اسٹیٹ بینک پاکستان کے پاس موجود زرمبادلہ کے ذخائر7ارب49کروڑ87لاکھ ڈالرز جبکہ کمرشل بینکوں کے پاس موجود ذخائر 5 ارب87 کروڑ95 لاکھ ڈالرز کی سطح پر رہے۔

اسٹیٹ بینک پاکستان کے جاری کردہ اعدادو شمار کے مطابق 25 نومبرکو ختم ہونے والے ہفتےتک مرکزی بینک نے غیرملکی قرضوں کی مد میں32 کروڑ70 لاکھ ڈالرز کی ادائیگیاں کیں ہیں۔

متعلقہ تحاریر