علی گل پیر کا بچپن میں جنسی ہراسانی کا نشانہ بنانے جانے کا انکشاف

مجھے بچپن میں آپ کی طرح ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا، میں اب بھی علاج کے لیے جاتا ہوں، 7،8 سال ہو گئے ہیں اور میں تب سے اس سے نمٹ رہا ہوں، مزاح نگار کا فریحہ الطاف کو انٹرویو

معروف مزاح نگار، ریپر اور اداکار علی گل پیرنے بچپن میں جنسی ہراسانی کانشانہ بنائے جانے کا انکشاف کیا ہے۔

علی گل پیر نےپاکستانی شوبز انڈسٹری کی معروف شخصیت فریحہ الطاف کو دیے گئے انٹرویو میں اپنی کامیابیوں اور پیشہ ورانہ جدوجہد کے ساتھ ساتھ  اپنے تکلیف دہ بچپن کے بارے میں بھی بات کی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

لکس اسٹائل ایوارڈز کا تنازع: جامی آزاد نے فریحہ الطاف کوآڑے ہاتھوں لے لیا

ول اسمتھ نے کامیڈین کرس راک کو تھپڑ مارنے کی وجہ بتادی

علی گل پیر نے  گھریلو تشدد کےساتھ زندگی گزارنے اور اپنے کام میں اس کی  عکاسی کرنے کا انکشاف کرتے ہوئے ایک سوال کے جواب میں کہاکہ” آپ دیکھ سکتی ہیں کہ میں ان موضوعات کو کیوں اٹھاتا ہوں کیونکہ ایک بہت ہی ذاتی وجہ ہے“۔

 انہون نے کہاکہ”میں نے ان چیزوں (بدسلوکی، گھریلو تشدد)کے بارے میں بات کرنا شروع کر دی تھی جب فیمنسٹ ہونا اچھا  ہوتا تھا۔ 2012 میں، کوئی بھی ان مسائل کے بارے میں بات نہیں کر رہا تھا۔ لیکن میں یہ اپنے ذاتی تجربات  کی وجہ سے کرتا رہا ہوں ۔ جس صدمہ سے میں گزرا ہوں“۔

فریحہ الطاف نے سوال کیا کہ بطور کمسن آپ پر تشدد ہوا؟ والدہ پر یا بھائی پر؟ علی  گل پیر نے کہاکہ ”مجھے بھائی کا تو علم نہیں ہے لیکن والدہ اور میں ان تجربات سے گزرے ہیں ، میں اب بھی اس سے نمٹ رہا ہوں، میں اب بھی علاج کے لیے جاتا ہوں۔ سات، آٹھ سال ہو گئے ہیں اور میں تب سے اس سے نمٹ رہا ہوں“۔

اس موقع پر فریحہ  الطاف نے کہا کہ”لیکن گھریلو تشدد صرف میاں بیوی تک ہی محدود نہیں ہےبچوں کے ساتھ بھی ہوتا ہے۔ ہمارے کلچر میں تشدد کو معمول بنا لیا گیا ہے  جو کہ نہیں ہونا چاہیے۔  ہم نے بچوں کے جنسی استحصال کے بارے میں بھی بات کی تھی تو اس وقت بھی  آپ نے بھی آواز اٹھائی تھی کیونکہ آپ کو پتہ ہے کہ میں بچپن میں اس سب سے(جنسی ہراسانی) گزری ہوں اورمجھے پر بات کرنے میں کوئی مسئلہ نہیں ہے،میں  اس کا تعلق آپ سے بھی جوڑتی ہوں کیونکہ میں بھی بچپن اور جوانی کے دنوں میں بہت باغی تھی اور مجھے بھی چانٹے وغیرہ پڑتے تھے اور مرغا بننا تو عام بات تھی“۔

علی نے اس موقع پر مداخلت  کرتے ہوئے وضاحت کی ”  لیکن میری زیادتی آپ کی طرح تھی، اس سے میرے والدین کا کوئی تعلق نہیں تھا، مجھے لگتا ہے کہ ان چیزوں کے بارے میں بات کرنا بہت ضروری ہے۔ آپ کو اس(ہراسانی) کے بارے میں بات کرنے میں کتنا وقت لگا؟   فریحہ نے جواب دیا،”34 سال“۔

علی گل پیر نے کہا کہ”میں وہاں پہنچ رہا ہوں, میں ابھی وہاں پہنچا نہیں ہوں لیکن میں وہاں پہنچنے کے لیے سخت محنت کر رہا ہوں“۔ انہوں نے مزید  کہا کہ” سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ دنیا بھر میں ہم لڑکیوں کے ساتھ جنسی زیادتی   ہوتی ہے لیکن پاکستان میں  لڑکوں کے ساتھ  جنسی استحصال کے واقعات کی تعداد زیادہ ہےکیوں  کہ لڑکوں تک رسائی آسان ہے  ،اوپر سے سوچ ہے کہ عورت کے ساتھ ایسا کرزنا ہے لیکن لڑکوں کیساتھ ایسا کرنا جائز ہے، یہ بہت گڑبڑ ہے، آپ اسٹریٹ چلڈرن  دیکھتے ہیں ، بس سٹیشنوں پر، دیہات میں دیکھتے ہیں کہ کسی نے لڑکا رکھا ہوا ہے،جسے ہم بچہ بازی کہتے ہیں ، یہ زیادتی بہت عام ہے ، یہ ایک بڑا مسئلہ ہے “۔

متعلقہ تحاریر