سلیمان شہباز کی وطن واپسی کی منصوبہ بندی، حفاظت ضمانت کے لیے عدالت سے رجوع

وزیر اعظم  شہباز شریف کے صاحبزادے سلیمان شہباز منی لانڈرنگ کیس میں گرفتاری سے بچنے کے لیے اپنے وکیل کے توسط سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں حفاظتی ضمانت کی درخواست دے دی ہے۔

وزیر اعظم  شہباز شریف کے صاحبزادے سلیمان شہباز نے وطن واپسی کے لئے پر تولنے شروع کردیئے۔ جس کے لئے انہوں نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی ہے کہ وطن واپسی پر انہیں گرفتار نہ کیا جائے۔ جس پر عدالت عالیہ نے درخواست سماعت کیلئے مقرر کردی ہے ، کل دو رکنی بینچ سماعت کرے گا۔

وزیر اعظم شہباز شریف کے صاحبزادے کے سلیمان شہباز نے وکیل امجد پرویز کے ذریعے اسلام آباد ہائی کورٹ میں حفاظتی ضمانت کی درخواست دائر کی ہے جس میں استدعا کی گئی ہے کہ انہیں دو ہفتے کی حفاظتی ضمانت دی جائے۔

یہ بھی پڑھیے

توہین عدالت کا معاملہ ، رہنما پی ٹی آئی اسد عمر نے غیرمشروط معافی مانگ لی

صحافی ایاز امیر کے بیٹے کی اپنی بیوی کو قتل کرنیکی وجہ سامنے آگئی

درخواست میں ڈی جی ایف آئی اے و دیگر کو فریق بنایا گیا ہے۔ درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ وہ بزنس مین ہیں اور ان کے خلاف منی لانڈرنگ کا جھوٹا مقدمہ درج کیا گیا، وہ کبھی پبلک آفس ہولڈر نہیں رہے جبکہ منی لانڈرنگ کے الزامات جھوٹے اور بے بنیاد ہیں۔

سلمان شہباز کا کہنا ہے کہ بزنس مین ہونے کے ناطے ان کے تمام شیئرز ایس ای سی پی میں رجسٹرڈ ہیں۔

سلمان شہباز نے درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ وہ 27 اکتوبر 2018 سے برطانیہ میں ہیں لیکن کبھی ایف آئی اے کا نوٹس نہیں ملا، ایف آئی اے نے ان کے خلاف مقدمہ ان کی غیر حاضری میں درج کیا، 2018 میں بیرون ملک گئے  جبکہ 2020 میں مقدمہ بنا اور اس کے بعد اشتہاری قرار دیا گیا لہٰذا عدالت دو ہفتے کی حفاظتی ضمانت منظور کرے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف کے صاحبزادے سلیمان شہباز کی حفاظتی ضمانت کے لیے دائر درخواست کو سماعت کے لیے مقرر کردیا ہے ، جس پر کل جمعرات کو چیف جسٹس جسٹس عامر فاروق اور جسٹس سردار اعجاز اسحاق پر مشتمل ڈویژن بینچ سماعت کرے گا۔

یاد رہے کہ رواں برس مئی میں لاہور کی اسپیشل سینٹرل کورٹ نے سلیمان شہباز کے وارنٹ گرفتاری جاری کئے تھے جبکہ ستمبر میں منی لانڈرنگ کیس میں سلیمان شہباز کے 13 اکاؤنٹس منجمد کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔

متعلقہ تحاریر