ملک ریاض نے صحافی حمزہ اظہر سلام کو قانونی نوٹس بھیج دیا

صحافی حمزہ اظہر سلام نے الزام لگا تھا کہ سابق خاتون اول بشریٰ بی بی کی سہیلی فرحت شہزادی عرف فرح گوگی کو باہر منتقل کرنے کے لیے بزنس ٹائیکون ملک ریاض کا طیارہ استعمال کیا گیا تھا۔

پاکستان کی معروف کاروباری شخصیت ملک ریاض احمد نے صحافی حمزہ اظہر سلام کو سابق خاتون اول بشریٰ بی بی کی سہیلی فرحت شہزادی عرف فرح گوگی کو بیرون ملک منتقل کرنے کے لیے ان کا طیارہ استعمال کرنے کے الزام میں قانونی نوٹس بھیجا ہے۔

ملک ریاض نے پاکستان ڈیلی کے بانی اور ایڈیٹر حمزہ اظہر سلام کو اپنے قانونی نوٹس میں کہا ہے کہ "آپ نے جن دستاویز کا دعویٰ کرتے ہوئے طیارے کی ٹریول ہسٹری جاری کی ہے ، بالکل غلط اور جعلی معلوم ہوتی ہے۔ ایسے کسی بھی فلائٹ مینیو فیسٹو کا دعویٰ کرنے کے لیے سی اے اے اور متعلقہ محکموں کی تصدیق شدہ دستاویزات کی ضرورت ہوتی ہے۔”

یہ بھی پڑھیے

سی ڈی اے نے چک شہزاد میں سینیٹر اعظم سواتی کا فارم ہاؤس سیل کردیا

پلے نئیں دھیلا وزیراعظم شہباز شریف دی کابینہ کردی میلہ میلہ

قانونی نوٹس کے مطابق "اس دعوے کی صداقت کو ثابت کرنے کے لیے کسی بھی متعلقہ اتھارٹی کی طرف سے کوئی سرکاری دستخط کے ساتھ دستاویزی ثبوت موجود نہیں ہیں۔ حقائق کی درستگی کے لیے واضح کردینا چاہتے ہیں کہ محترمہ فرحت شہزادی نے بحریہ ٹاؤن کے طیارے میں کسی بین الاقوامی منزل کا سفر نہیں کیا جیسا کہ آپ نے دعویٰ کیا ہے۔ آپ ایک غیرمتعلقہ سازش میں مجھے اور میری کمپنی کو بدنام کرنے کے لیے جعلی دستاویز استعمال کر رہے ہیں۔”

 ملک ریاض نے مزید لکھا ہے کہ "اس کے علاوہ آپ یہ بھی دعویٰ کرتے ہیں کہ میری کمپنی یا خود میں نے آپ کو دھمکیاں دی ہیں، جو کہ سچ نہیں ہے ، کیونکہ میں قانونی کے علاوہ کسی اور راستے یا طریقے پر یقین نہیں رکھتا، اس لیے میں آپ کو اس توہین آمیز کوشش پر قانونی نوٹس بھیج رہا ہوں۔ آپ توہین آمیز مواد واپس لیں اور عوامی سطح پر غیرمشروط معافی مانگیں ورنہ آپ کے خلاف قانونی کارروائی کی جائےگی۔”

یاد رہے کہ معروف صحافی حمزہ اظہر سلام نے ملک ریاض پر الزام عائد کیا تھا کہ سابق خاتون اول کی سہیلی فرح گوگی نے بیرون ملک منتقل ہونے کے لے ان کی کمپنی کے طیارے کو استعمال کیا تھا۔

سماجی رابطوں کی  ویب سائٹ ٹوئٹر پر پیغام جاری کرتے ہوئے حمزہ اظہر سلام نے لکھا ہے کہ "میں کوئی بےوقوف نہیں کہ ملک ریاض اور بحریہ ٹاؤن انتظامیہ سے ڈر جاؤں گا گوکہ میں جانتا ہوں کہ لوگ قانون سے بالاتر ہیں ، لیکن میں اپنی صحافتی ذمہ داریوں سے روگردانی نہیں کرسکتا۔ جہاں تک نتائج کا تعلق ہے ، میں اپنا معاملہ اللہ کے سپرد کرتا ہوں۔‘‘

صحافی نے مزید لکھا ہے کہ "مجھے یہ بھی اطلاعات ملی ہیں کہ پی ٹی آئی کے ایک سابق وزیر دبئی میں آپ کے ایمیریٹس ہل والے گھر میں رہ رہے ہیں، میں نے اپنی کہانی میں اس کا ذکر نہیں کیا لیکن کیا آپ اس بات سے انکار سکتے ہیں کہ میرے خلاف جواب تیار کرنے میں انہوں نے آپ کی مدد کی ہے۔”؟

حمزہ اظہر سلام نے لکھا ہے کہ "کل رات سے میں آپ کا بیان حاصل کرنے کی کوشش کر رہا تھا تاکہ میں اس بیانیے کو اپنی کہانی میں شامل کر سکوں ، لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ 12 بجکر 27 میں مجھے آپ کے نمائندے کا فون کال آئی تھی ، جس میں انہوں نے قانونی کارروائی اور دیگر ذرائع سے دھمکانے کی کوشش کی۔  میں اب ایک خوف کے سائے میں زندگی جی رہا ہوں۔‘‘

انہوں نے مزید لکھا ہے کہ "”مذکورہ دستاویز مجھے ایک قابل اعتماد ذریعہ نے دی تھی ، جب میں ٹوئٹ کیا تو ساتھ یہ بھی لکھا تھا کہ ہوسکتا ہے کہ یہ معلوم درست نہ ہوں۔ میرا آپ کو بدنام کرنے یا آپ کو کسی تنازعہ میں گھسیٹنے کا مقصد نہیں تھا۔‘‘

حمزہ اظہر سلام نے لکھا ہے کہ "ہماری قانونی ٹیم آپ کے نوٹس کا انتظار کر رہی ہے جب کہ ہم آپ کی طرف سے ملنے والی دھمکیوں اور اس کی وجہ سے مجھے اور میرے خاندان کو ہونے والی ذہنی پریشانی کے حوالے سے قانونی کارروائی شروع کرنے کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔”

متعلقہ تحاریر