سینیٹر اعظم سواتی 3 روزہ جسمانی ریمانڈ پر سندھ پولیس کے حوالے
پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اعظم سواتی کو سندھ پولیس نے 9 دسمبر کو کوئٹہ سے اپنی حراست میں لے کر قمبر منتقل کیا تھا۔
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینیٹر اعظم سواتی کو اتوار کے روز ڈیوٹی جوڈیشل مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا گیا جس کے بعد انہیں تین روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔
پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور بزرگ سینیٹر اعظم سواتی دو روزہ ٹرانزٹ ریمانڈ پر سی آئی اے قمبر کی تحویل میں تھے جس کے بعد انہیں آج ڈیوٹی پر موجود جوڈیشل مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا گیا۔
سہیل خان ایڈووکیٹ کے مطابق آج کی کارروائی کے دوران پولیس نے ان کے جسمانی ریمانڈ کا مطالبہ کیا جبکہ ان کے وکلاء کی جانب سے اس کی مخالفت کی۔ تاہم مجسٹریٹ نے سواتی کا تین روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا۔
یاد رہے کہ سواتی کو سندھ پولیس نے 9 دسمبر کو کوئٹہ سے اس وقت حراست میں لیا تھا جب بلوچستان ہائی کورٹ نے ان کے متنازعہ بیان پر صوبے بھر میں ان کے خلاف درج تمام ایف آئی آرز کو کالعدم قرار دیتے ہوئے انہیں رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔
سندھ پولیس نے 74 سالہ اعظم سواتی کو کوئٹہ سے اپنی حراست میں لے لیا تھا۔ جس کے بعد پی ٹی آئی رہنماؤں نے الزام لگایا تھا کہ اعظم سواتی کو وزیراعلیٰ سندھ کے طیارے میں سندھ کے علاقے ضلع لاڑکانہ کی تحصیل قمبر منتقل کیا گیا ہے ، تاہم صوبائی وزیر شرجیل میمن نے اس الزام کی تردید کی تھی۔
پی ٹی آئی رہنما فواد چوہدری نے الزام عائد کیا تھا کہ وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا طیارہ اعظم سواتی کو لینے کوئٹہ گیا اور سینیٹر کو اسی الزام میں گرفتار کیا گیا جس کو بلوچستان ہائی کورٹ نے ایک روز قبل کالعدم قرار دیا تھا۔
صرف دو روز قبل سندھ ہائی کورٹ نے صوبائی حکومت اور آئی جی پی کو سینیٹر اعظم سواتی کے خلاف صوبے بھر میں درج مقدمات کی تعداد کے بارے میں رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا تھا۔









