این آر او ٹو کے اثرات: شہباز شریف کے صاحبزادے سلیمان شہباز وطن واپس پہنچ گئے
ایف آئی اے کو منی لانڈرنگ کیس میں مطلوب سلیمان شہباز 2018 میں گرفتاری کے خوف سے لندن شفٹ ہو گئے تھے ، تاہم اب وہ خودساختہ جلاوطنی ختم کرکے پاکستان پہنچ گئے ہیں۔
منی لانڈرنگ مقدمے میں مطلوب وزیراعظم کے صاحبزادے سلیمان شہباز خودساختہ جلاوطنی کے بعد وطن واپس پہنچ گئے ، شہباز شریف نے ایئرپورٹ پر بیٹے کا استقبال کیا ، اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایف آئی اے کو انہیں گرفتار نہ کرنے کا حکم دے رکھا ہے۔
این آر او ٹو کے اثرات مزید واضح ہونے لگے ، وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار کے بعد سلیمان شہباز اپنی اہلیہ کے ہمراہ لندن سے اسلام آباد ایئرپورٹ پہنچ گئے ، جہاں وزیراعظم شہباز شریف نے ان کا استقبال کیا اور پھولوں کے ہار پہنائے۔
یہ بھی پڑھیے
مولانا فضل الرحمان بلوچستان میں اِن ایکشن: پرانے اور نئے ساتھیوں کی جے یو آئی (ف) میں واپسی
سلیمان شہباز لندن سے سعودی عرب اور پھر رات ڈیڑھ بجے اسلام آباد پہنچے تھے۔ سلیمان شہباز نجی طیارے کے ذریعے رات کو ہی لاہور شفٹ ہو گئے۔
سلیمان شہباز پاکستان پہنچ گئے ۔ میاں شہباز شریف نے پھولوں کے ہار پہنا کر استقبال کیا ۔ pic.twitter.com/B00cQ4FTgn
— ADNAN MALIK PMLN (@ADNANMALIKPMLN3) December 10, 2022
واضح رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایف آئی اے کو سلیمان شہباز کو وطن واپسی پر گرفتاری سے روک رکھا ہے جبکہ سلیمان شہباز کو 13 دسمبر یعنی پیر کے روز عدالت کے سامنے سرنڈر کرنے کا حکم دے رکھا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق سلیمان شہباز پرواز نمبر SV-726 سے اسلام آباد ایئرپورٹ پہنچے۔ وزیراعظم کے صاحبزادے گزشتہ 4 سال سے لندن میں مقیم تھے۔ گرفتاری سے بچنے کے لیے سلیمان شہباز نے اپنے وکلاء کے توسط سے عدالت میں حفاظتی ضمانت کی درخواست دائر کی تھی۔
پاکستان واپسی سے قبل سلیمان شہباز نے اپنی اہلیہ اور بچوں کے ساتھ عمرہ ادا کیا۔ سلیمان نے اس ہفتے کے شروع میں اسلام آباد ہائی کورٹ سے 13 دسمبر تک حفاظتی ضمانت حاصل کی تھی۔
سلیمان شہباز نے اپنی درخواست میں عدالت سے استدعا کی تھی وہ اپنے خلاف کیسز میں عدالت کے سامنے کھڑا سرنڈر کرنے کو تیار ہیں۔ تاہم انہیں حفاظتی ضمانت دی جائے تاکہ وہ اپنے دفاع کے لیے عدالت میں حاضر ہو سکیں۔
درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ سلیمان شہباز بزنس مین ہیں اور ان کے خلاف منی لانڈرنگ کا جھوٹا مقدمہ درج کیا گیا، وہ کبھی پبلک آفس ہولڈر نہیں رہے جبکہ منی لانڈرنگ کے الزامات جھوٹے اور بے بنیاد ہیں۔
سلمان شہباز کا کہنا ہے کہ بزنس مین ہونے کے ناطے ان کے تمام شیئرز ایس ای سی پی میں رجسٹرڈ ہیں۔
سلمان شہباز نے درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ وہ 27 اکتوبر 2018 سے برطانیہ میں ہیں لیکن کبھی ایف آئی اے کا نوٹس نہیں ملا، ایف آئی اے نے ان کے خلاف مقدمہ ان کی غیر حاضری میں درج کیا، 2018 میں بیرون ملک گئے جبکہ 2020 میں مقدمہ بنا اور اس کے بعد اشتہاری قرار دیا گیا لہٰذا عدالت دو ہفتے کی حفاظتی ضمانت منظور کرے۔
جمعرات کو اسلام آباد ہائی کورٹ (آئی ایچ سی) نے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کو وزیراعظم شہباز شریف کے صاحبزادے سلمان شہباز کی لندن سے آمد پر گرفتاری سے روک دیا تھا۔
واضح رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے سلیمان شہباز کی حفاظتی ضمانت کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے یہ احکامات جاری کیے تھے۔
یاد رہے کہ سلیمان شہباز 2018 کے عام انتخابات سے قبل ہی پاکستان سے لندن چلے گئے تھے جب قومی احتساب بیورو (نیب) نے ان کے خلاف کئی مقدمات درج کیے تھے۔ سلیمان شہباز ، اپنے والد ، اپنے بھائی ، اپنے کزن حمزہ شہباز اور شریف خاندان کے دیگر افراد کے ساتھ کئی مقدمات میں بھی نامزد ہیں۔
اثاثہ جات ریکوری یونٹ (اے آر یو) جس کی سربراہی اُس وقت کے وزیر اعظم عمران خان کے سابق معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر کررہے تھے ، نے لندن میں سلیمان شہباز پر منی لانڈرنگ اور عوامی عہدوں کے غلط استعمال کے تحت مقدمات درج کیے تھے۔









