سانحہ بلدیہ کے دس سال بعد ایس بی سی اے کو عمارت گرانے کا خیال آگیا
11 ستمبر 2012 کو ڈینم فیکٹری میں ہونے والی آتشزدگی کے نتیجے میں 250 سے زائد مزدور جاں بحق ہو گئے تھے۔
سانحہ بلدیہ کے دس سال بعد ، سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے بلدیہ فیکٹری کی عمارت کو مخدوش قرار دیتے ہوئے گرانے کا حکم دے دیا ، دہشتگردی کے اُس واقعے میں 250 سے زائد مزدور آگ میں جل کر جاں بحق ہو گئے تھے۔
سانحہ بلدیہ کے قاتل اب تک اپنے کیفرکردار کو نہیں پہنچے ہیں تاہم سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے فیکٹری کو مخدوش قرار دیتے ہوئے اسے منہدم کرنے کا کام شروع کردیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
اسلام آباد میں فوجی افسر کی 13 سالہ بیٹی نے تیز رفتار گاڑی سے راہگیر کو کچل ڈالا
کراچی: فون پر دوستی کے بعد اغوا برائے تاوان کرنیوالی خاتون گینگ سمیت گرفتار
پاکستان کی تاریخ میں یہ دہشتگردی کا بدترین واقعہ تھا جو کراچی میں پیش آیا تھا۔ آتشزدگی کے واقعے میں 250 سے زائد مزدور لقمہ اجل بن گئے تھے۔
ستمبر 2022 کو دہشتگردی کے اس واقعے کو گزرے 10 سال مکمل ہو گئے۔ اب ایس بی سی اے کے حکام کو اس عمارت کو مسمار کرنے کا کام شروع کردیا گیا ہے۔
فیکٹری مالکان موجود نہیں ہیں تاہم ان کا دفتری عملہ وہاں پر موجود ہے جو کام کی نگرانی کررہا ہے ، مزدوروں نے بالائی منزل سے عمارت کو منہدم کرنے کا کام شروع کررکھا ہے۔
عمارت کو گرانے والی ٹھیکیدار فرم کے حکام کا کہنا ہے کہ ایس بی سی اے کی جانب سے اس عمارت کو مخدوش قرار دیا گیا تھا ، اور ایس بی سی اے کی جانب سے ہی انہیں اس عمارت کو گرانے کا ٹھیکہ دیا گیا ہے۔
حیران کن بات یہ ہےکہ دہشتگردی کے اس واقعے میں ملوث مجرمان کو ابھی تک سزائے موت نہیں دی گئی ہے ، اور سندھ ہائی کورٹ میں ان کی اپیلیں زیرالتواء ہیں۔
متاثرین فیکٹری کا کہنا ہے کہ مالکان کی جانب سے انہیں مالی امداد دینے کا وعدہ کیا گیا تھا تاہم ابھی تک انہیں کسی قسم کا کوئی ریلیف فراہم نہیں کیا گیا۔ ان کا کہنا ہے اگر یہی صورتحال رہی تو انصاف کے تقاضے پورے ہوتے ہوئے نظر نہیں آئیں گے۔
واضح رہے کہ کراچی کے علاقے بلدیہ ٹاؤن میں علی انٹرپرائیزز نامی ڈینم میں 11 ستمبر 2012 کو آتشزدگی کا بدترین واقعہ پیش آیا تھا ، جس کے نتیجے میں 250 سے زائد مزدور جل کر ہلاک ہو گئے تھے جبکہ 50 سے زائد جھلس کر زخمی کر شدید زخمی ہو گئے تھے۔ اس واقعے کو 10 سال مکمل ہو چکے ہیں جبکہ مقدمے میں سزا پانے والے ملزمان کی اپیلیں 21 ماہ سے سندھ ہائی کورٹ میں زیرالتواء ہیں۔









