سر قلم کرنے کے واقعات، تشویش کا شکار خیبرپختونخوا کے تاجر عمران خان سے ملاقات کے خواہاں

خیبر پختونخوا میں دہشتگردی کے واقعات اور بھتہ خوری میں اضافے سے تاجر برادری شدید مشکلات میں مبتلا ہوگئی ہے، تاجروں نے صوبے کی دن بدن بگڑتی صورتحال سے پیش نظر حکمران جماعت تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو خط لکھ کر ملاقات کا وقت مانگ لیا

خیبر پختونخوا کے تاجروں نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سربراہ عمران خان سے صوبے  میں سرقلم کرنے کے واقعات کے بعد امن کی تشویشناک صورتحال پر ملاقات کی درخواست کی ہے۔

ڈان نیوز نے رپورٹ کیا کہ پاکستان تحریک انصاف سے وابستہ تاجروں نے پارٹی چیئرمین عمران خان سے خیبرپختونخوا میں امن و امان کی خطرناک صورتحال پر ملاقات کی درخواست کی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

بنوں میں دہشتگردوں نے فرنٹیئر کانسٹیبلری کے اہلکار کا سر قلم کردیا

انصاف ٹریڈرز ونگ نے 12 دسمبر کوعمران خان کے نام لکھے گئے خط میں کہا کہ میں آپ کی توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ خیبرپختونخواخاص طور پر پشاور میں ایک بار پھر بھتہ خوری اور اغوا کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔

ڈان میں شائع اس خط کے متن میں کہاگیا ہےکہ صوبے میں امن و امان کی صورتحال خطرناک صورتحال تک پہنچ گئی ہے۔ حال ہی میں سابق صوبائی وزیرمحمد جاوید اور سینیٹر ہدایت اللہ کے گھروں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

تاجربرادری نے سابق وزیراعظم عمران خان کو آگاہ کیا کہ صوبائی حکومت کی اعلیٰ سطح تک پیغام پہنچایا گیا ہے لیکن ابھی تک کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔ صوبائی دارالحکومت کے رہائشی بھتہ خوری اوراغوا کے بڑھتے ہوئے رجحان پر فکرمند ہیں۔

آئی ٹی ڈبلیو کے رہنما عاطف حلیم کے دستخط شدہ خط میں کہا گیا ہے کہ ان کے والد بھتہ خوری کا شکار ہوئے اور رقم دینے سے انکار پر 2016 میں قتل کر دیا گیا تھا۔ انہوں نے عمران خان سے مداخلت کی درخواست کی ۔

آئی ٹی ڈبلیو کے ایک رکن نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ڈان کو بتایا کہ کاروباری لوگ صوبے چھوڑ کر اپنی صنعتیں دوسرے صوبوں میں منتقل کررہے ہیں۔ تاجروں کو بھتہ نہ دینے کی صورت میں سنگین نتائج کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

کالعدم ٹی ٹی پی نے ارکان پارلیمنٹ اور تاجروں سے بھتہ وصولی شروع کردی

ایس ایس پی آپریشن پشاور کاشف عباسی نے ڈان کو بتایا کہ مقدمات کی اطلاع مقامی پولیس اسٹیشن کو دی گئی اور بعد میں کاؤنٹر ٹیررازم ڈپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کو بھجوا دی گئی، جو بھتہ خوری کے مقدمات سے نمٹتا ہے اور شکایات کی تحقیقات کر رہا ہے۔

 انہوں نے کہا کہ سی ٹی ڈی نے رواں سال بھتہ خوری کے الزام میں 60 افراد کو گرفتار کیا ہے۔پولیس ذرائع نے بتایا کہ بدھ کی صبح ایک شخص کی لاش ملی جسے مبینہ طور پر عسکریت پسندوں کے ہاتھوں قتل اور سر قلم کر دیا گیا ۔

بنوں میں 10 دنوں کے اندر سر قلم کرنے کا یہ دوسرا واقعہ ہے۔ فرنٹیئر کانسٹیبلری (ایف سی) کے ایک سپاہی کو اس ماہ کے شروع میں اسی قسم کا سامنا کرنا پڑا۔

پولیس ذرائع نے بتایا کہ یہ لرزہ خیز واقعہ حوید تھانے کی حدود میں پیش آیا۔ مقتول شخص کی شناخت 40 سالہ قمر علی خان کے نام سے ہوئی ہے، جو زندی فلک شیر گاؤں سے تعلق رکھنے والا کریانہ فروش تھا۔

ایک پولیس اہلکار نے بتایا کہ مقتول دکاندار کے بھائی کمال خان کو زندہ اکبر خان چوک سے لاش ملی اور اسے بنوں شہر کے اسپتال منتقل کیا۔

مسٹر کمال نے پولیس کو بتایا کہ 12 دسمبر کی رات ان کا بھائی اپنی دکان سے لاپتہ ہو گیا تھا۔ مسٹر کمال اور ان کے رشتہ داروں نے ان کا سراغ لگانے کی کوشش کی لیکن بے سودرہی ۔

انہوں نے بتایا کہ 14 دسمبر کو وہ صبح گھر پر تھے کہ کسی نے انہیں اطلاع دی کہ ان کے بھائی کی لاش ملی ہے۔ اس نے پولیس کو بتایا کہ اس کے خاندان کی کسی سے کوئی دشمنی نہیں ہے۔

ایک پرچی جوکہ  مبینہ طور پر خود کو اتحاد المجاہدین کہنے والے عسکریت پسند گروپ کی طرف سے لکھی گئی تھی، لاش کے قریب ایک دیوار پر چسپاں کی گئی تھی جس میں مقتول کا ذکر "جاسوس” کے طور پر کیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

کالعدم ٹی ٹی پی کا ترجمان کے پی حکومت بیرسٹر سیف کی اپیل کا خیرمقدم

اس میں کہا گیا کہ متوفی دو راتوں تک تفتیش کے لیے قید میں رہا اور کچھ دیر بعد ایک ویڈیو بھی شیئر کی جائے گی۔ اس نے کہا کہ گروپ کو اس قتل پر کوئی افسوس نہیں ہے اور یہ ہر کسی کے لیے جاسوسی بند کرنے کا پیغام ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ لاش طبی اور قانونی کارروائی کے بعد ورثاء کے حوالے کر دی گئی۔ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے نامعلوم قاتلوں کے خلاف تعزیرات پاکستان کی دفعہ 302 (پہلے سے قتل) کے تحت مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی ہے۔

5 دسمبر کو جانی خیل قصبے میں ایک ایف سی اہلکار کو عسکریت پسندوں نے قتل کر کے اس کا سر قلم کر دیا۔ اس کے جسم کے قریب تقریباً ایک جیسی چٹ بھی چسپاں کی گئی تھی اور مقتول کو ’’جاسوس‘‘ قرار دیا گیا تھا۔

عسکریت پسندوں نے فوجی کے 18 سالہ بیٹے کو بھی قتل کر دیا تھا۔ حملہ آوروں نے قبائلیوں کو جنازے میں شرکت سے منع کرتے ہوئے سر کو بچکی بازار میں ایک درخت سے لٹکا دیا تھا۔

متعلقہ تحاریر