خزانہ خالی ، حکومت کیا خاک عوام کو ریلیف پیکج دے گی
جمعے کے روز وزیراعظم شہباز شریف نے عوام کو بڑا ریلیف فراہم کرنے کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کو پیکج تیار کرنے کی ہدایات جاری کردی ہیں ، معاشی ماہرین نے وزیراعظم کے اعلان کو عوام کے ساتھ مذاق قرار دیا ہے۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے جمعہ کے روز عوام کو بڑھتی ہوئی مہنگائی سے بچانے کے لیے بڑا ریلیف پیکج تیار کا حکم دے دیا ہے ، تاہم معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ خزانہ خالی پڑا وزیراعظم صاحب کہاں سے عوام کو بڑے ریلیف پیکج دیں گے۔
جعمہ کے روز وزیراعظم شہباز شریف کی زیرقیادت مسلم لیگ (ن) کی پارلیمانی پارٹی اور اتحادی حکومت کے دیگر اسٹیک ہولڈر کا اجلاس اسلام آباد میں ہوا۔ وزیراعظم نے اجلاس میں پی ٹی آئی کے دوران حکومت کی معاشی پالیسیز پر کھل کر تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا عمران خان کے دور حکومت میں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافہ ہوا۔
یہ بھی پڑھیے
عاکف سعید سیکورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کے نئے چیئرمین مقرر
ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں خطرناک حد تک کمی، بڑی صنعتیں بھی سکڑنے لگیں
شہباز شریف کا کہنا تھا اب یہ ہماری اولین ذمہ داری ہے کہ ہم عوام کو ریلیف فراہم کریں۔ وزیراعظم نے نوجوانوں کے لیے خصوصی پیکج کی تیاری کی ہدایت کرتے ہوئے متعلقہ وزارتوں کو احکامات صادر کردیئے۔
وزیراعظم نے وزراء کو ہدایت کی کہ وہ نوجوانوں کی فلاح و بہبود کو اپنی ترجیحات میں شامل رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو مایوسی بچا کر مثبت اور تعمیری سرگرمیوں کی طرف رہنمائی کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
وزیر اعظم نے متعلقہ وزارتوں کو گیس اور بجلی کے مہنگے بلوں سے صارفین کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے اقدامات کرنے کی ہدایت کی۔
شہباز شریف نے وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو امدادی پیکج کے لیے تمام وسائل کی دستیابی کو یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی۔
وزیراعظم نے مسلم لیگ ن کی قیادت کو ہدایت کی کہ وہ عوامی جلسے اور جلسوں کا انعقاد کریں اور موجودہ حکومت کی معاشی کامیابیوں کو عوام کے سامنے اجاگر کریں، تاکہ پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان کے بیانیے کا مقابلہ کیا جا سکے۔
واضح رہے کہ وفاقی حکومت نے عوام کو ریلیف دینے کے لیے جمعرات کے روز پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 10 روپے فی لیٹر کمی کا اعلان کیا تھا۔ تاہم معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 10 روپے فی لیٹر کمی اونٹ کے منہ میں زیرہ کے برابر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمت 80 ڈالر فی بیرل سے بھی نیچے آچکی مگر حکومت نے پیٹرولیم پرائسز میں جو کمی کی وہ عالمی منڈی سے مطابقت نہیں رکھتی۔
معاشی ماہرین اور تجزیہ کاروں کا وزیراعظم کے بیان پر تبصرہ
گذشتہ روز وزیراعظم شہباز شریف نے تمام اسٹیک ہولڈرز کو ہدایت کی کہ ایک بڑا ریلیف پیکج تیار کیا جائے تاکہ عوام کو بڑاریلیف فراہم کیا جاسکے ، جو حکومت عوام کو نئے سال کے تحفے کے طور پر دے گی۔
وزیراعظم کے اعلان پر تنقید کرتے ہوئے معاشی ماہرین اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ "اب یہ ریلیف پیکج آئے گا کہاں سے کوئی وزیراعظم صاحب سے یہ پوچھ لے۔؟ کیونکہ خزانہ تو خالی پڑا ہے ، خزانے میں صرف 6.7 ارب ڈالر پڑے ہیں ، ان چھ میں 3 ارب ڈاکر سعودی عرب کے ہیں اور تقریباً ڈیڑھ ارب ڈالر چائنہ اور ڈیڑھ ارب ڈالر یو اے ای کے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ خزانے میں اپنے پیسے ہیں کہاں پر جو عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے اعلانات کیے جارہے ہیں ، برآمدات ہو نہیں رہیں ، جو کسی بھی ملک کا واحد سورس آف انکم ہوتا ہے ، ڈالر کی پرائس بڑھ رہی ہے ، زرمبادلہ کے ذخائر دن بدن کم سے کم تر ہوتے جارہے ہیں ، ٹیکس ریونیو اپنے ٹارگٹ کے مطابق ایچیو نہیں ہورہا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کرائیسسز کی صورتحال یہ ہے کہ ایل سیز کھل نہیں رہیں ، مینوفیکچرنگ رک گئی ہے ، اس صورتحال میں پیسہ کہاں سے آئے گا ، جس سے حکومت عوام کو ریلیف فراہم کرے گی ، کیا حکومت ریلیف پیکج کے نام پر عوام سے مذاق کرنے جارہی ہے۔









