حکومت نے روس سے سستا تیل و گیس نہ خرید کر اربوں ڈالرز کا نقصان کیا، حماد اظہر
پاکستان تحریک انصاف کے فوکل پرسن برائے اقتصادیات حماد اظہر نےکہا ہے کہ پی ڈی ایم کی اتحادی حکومت نے گزشتہ آٹھ ماہ کے دوران روس سے رعایتی قیمتوں پر تیل اور گیس کی خریداری نہیں کی بلکہ عالمی منڈی سے مہنگے داموں اور ضرورت سے زائد تیل و گیس خرید کر ملکی زرمبادلہ کو نقصان پہنچایا

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی ) کے مرکزی رہنما سابق وفاقی حماد اظہر نے وفاقی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ عالمی مارکیٹ سے مئی اور جون کے مہینوں میں زائد قیمت پر ضرورت سے زیادہ تیل خریدا گیا ۔
پاکستان تحریک انصاف کے فوکل پرسن برائے اقتصادیات حماد اظہرنے مائیکرو بلاگنگ سائٹ ٹوئٹر پراپنے ایک پیغام میں پی ڈی ایم اتحادی حکومت کو تنقید کو نشانہ بنا تے ہوئے کہا کہ ضرویات سے زائد تیل مہنگی قیمتوں پر خریدا گیا ۔
یہ بھی پڑھیے
ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں خطرناک حد تک کمی، بڑی صنعتیں بھی سکڑنے لگیں
سابق وفاقی وزیر خزانہ و محصولات حماد اظہرکا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم کی اتحادی حکومت نے گزشتہ آٹھ ماہ کے دوران روس سے رعایتی قیمتوں پر تیل اور گیس کی خریداری نہیں کی بلکہ بین الاقوامی مارکیٹ سے مہنگی گیس اور تیل خریدا گیا ۔
The PDM govt didn't buy discounted Russian oil & gas for 8 months. Instead it purchased oil from intl market at peak prices in May & June much beyond requirements. This led to forex loss, inflation spike, high energy costs. This is just one blunder. I can point out many others.
— Hammad Azhar (@Hammad_Azhar) December 13, 2022
پی ٹی آئی کے فوکل پرسن برائے اقتصادیات نے کہاکہ گزشتہ آٹھ ماہ کے دوران بجائے روس سے رعایتی نرخوں پر گیس و تیل خریدا جاتامگر حکومت نے مئی و جون میں زائد قیمتوں پر اور ضرورت سے زیادہ تیل کی خریداری کی ہے ۔
سابق وفاقی وزیر خزانہ و محصولات حماد اظہر نے اپنے پیغام میں بتایا کہ بین الاقوامی مارکیٹ سے زائد قیمتوں پر خریداری سے ملکی زرمبادلہ کو نقصان کا سامنا کرنا پڑا جبکہ توانائی کی لاگت میں بھی اضافہ ہوتا جارہا ہے ۔
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی ) کے مرکزی رہنما کا کہنا تھا کہ مہنگے تیل و گیس سے افراط زر میں اضافہ ہوا۔ توانائی کی لاگت بڑھ گئی اور یہ صرف ایک غلطی ہے۔ میں ایسی اور بہت سی غلطیوں کی نشاندہی کرسکتا ہوں ۔
پاکستان تحریک انصاف کے فوکل پرسن برائے اقتصادیات نے پوچھا کہ گزشتہ آٹھ ماہ کے دوران روس سے سستی گیس اور تیل نہ لینے پہ کتنے ارب ڈالر زکا پاکستان کو نقصان ہوا؟ ۔ اس معاملے پر کتنے ٹی وی پروگرام ہوئے ؟ ۔
آٹھ ماہ روس سے سستی گیس اور تیل نہ لینے پہ کتنے ارب ڈالر کا پاکستان کو نقصان ہوا؟ کتنے میڈیا پروگرام ہوئے اس پر؟
تحریک انصاف کے دور میں 11 اور 12 ماہانہ ایل این جی کے کارگو معمول تھے۔۔پی ڈی ایم دور میں صرف 7۔ کتنے سنسنی والے ٹالک شو ہوئے اس پر؟
وقت نے بے نقاب کر دیا سب کو۔— Hammad Azhar (@Hammad_Azhar) December 17, 2022
سابق وفاقی وزیر اور تحریک انصاف کے رہنما نے کہا کہ ہمارے دور حکومت میں 11 اور 12 ماہانہ ایل این جی کے کارگو معمول تھے جبکہ پی ڈی ایم کے دورحکومت میں صرف سات ۔ وقت نے بے نقاب کر دیا ہے سب کو۔









