مونس عمران ملاقات: پی ڈی ایم کی کوششوں کو بند گلی میں ڈال دیا

چوہدری پرویز الہیٰ کے انٹرویو کو کیش کرانے آصف علی زرداری نے چوہدری شجاعت حسین اور وزیراعظم شہباز شریف سے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔

وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہیٰ کے عمران خان پر تنقیدی انٹرویو کے بعد سیاست کے بڑے کھلاڑیوں نے فوری طور پر تین اہم ملاقاتیں کیں ، وزیراعظم شہباز شریف اور آصف علی زرداری نے چوہدری شجاعت حسین سے الگ الگ ملاقاتیں جبکہ سابق صدر نے وزیراعظم شہباز شریف سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی۔ تجزیہ کاروں نے ان ملاقاتوں کو پنجاب اسمبلی کی تحلیل کو روکنے کی کوششوں سے جوڑا ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے لاہور میں چوہدری شجاعت حسین کی رہائش گاہ پر ان سےملاقات کی اور موجودہ سیاسی اور معاشی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔

یہ بھی پڑھیے

وزیراعظم شہباز شریف کا نواز شریف سے ٹیلی فونک رابطہ، ذرائع

دونوں رہنماؤں نے ملک کو درپیش معاشی اور سیاسی مسائل سے مل کر نکلنے پر اتفاق کیا۔ چوہدری شجاعت حسین نے معیشت کی بحالی کے لیے وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے کی جانے والی کوششوں کو سراہا۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کی چوہدری شجاعت حسین سے ایسے وقت میں ملاقات ہوئی جب چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے پنجاب اور خیبر پختونخوا کی اسمبلیاں 23 دسمبر کو تحلیل کرنے کا اعلان کررکھا ہے۔ ان کا کہنا ہے اس ملاقات کا مقصد پنجاب اسمبلی کی تحلیل کو روکنا ہے۔

بعدزاں سابق صدر آصف علی زرداری نے چوہدری شجاعت حسین سے ان کی رہاش گاہ پر ملاقات کی۔

ذرائع کے مطابق آصف علی زرداری نے چوہدری شجاعت حسین سے درخواست کی کہ اگر آپ چوہدری پرویز الہیٰ کو ہدایت کریں گے تو وہ اسمبلی تحلیل نہیں کریں گے۔ اور اس چیز کی گارنٹی میں دیتا ہوں کہ چوہدری پرویز الہیٰ کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش نہیں کی جائے۔

ذرائع کے مطابق آصف علی زرداری کا کہنا تھا کہ آپ ق لیگ کے سربراہ ہیں اور موجودہ سیاسی بحران میں بطور سربراہ آپ کو کردار ادا کرنا ہی ہوگا ، جس پر چوہدری شجاعت حسین نے چوہدری پرویز الہیٰ سے بات چیت کے لیے وقت مانگ لیا ہے۔

بعدازاں رات گئے سابق صدر آصف علی زرداری وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کے لیے ان کی رہائش گاہ ماڈل ٹاؤن پہنچے۔

وزیراعظم شہباز شریف اور آصف علی زرداری ملاقات

نیوز 360 کے ذرائع کے مطابق ملاقات کے دوران سابق صدر آصف زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے چوہدری شجاعت حسین سے رابطے بڑھانے پر اتفاق کیا۔

ذرائع کے مطابق شہباز شریف اور آصف علی زرداری کے درمیان اس بات پر اتفاق ہوا ہے کہ پنجاب اسمبلی کی تحلیل روکنے کا ٹاسک چوہدری شجاعت حسین کو دیا جائے۔

ذرائع کے مطابق ملاقات میں چوہدری شجاعت کے گرین سگنل تک پرویز الٰہی سے براہ راست رابطہ نہ کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں کا صورتحال پر گہری نظر رکھنے پر اتفاق ہوا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ آصف زرداری نے پنجاب میں اپنا پڑاؤ طویل کر لیا۔

عمران خان اور چوہدری مونس الہیٰ ملاقات

دوسری طرف انہی ملاقات کے دوران چوہدری مونس الہیٰ عمران خان سے ملاقات کے لیے ان کی رہائش گاہ زمان پارک پہنچ گئے۔

ملاقات کے دوران چوہدری مونس الہیٰ نے عمران خان کو یقین دہانی کرائی ہے ہم آپ کے ساتھ ہیں۔

ملاقات میں چوہدری پرویز الہیٰ کے بیان سے پیدا ہونے والی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا اور بیان کے اوپر چوہدری مونس الہیٰ نے اپنا موقف بیان کیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ چوہدری مونس الہیٰ نے اپنے والد چوہدری پرویز الہیٰ کے انٹرویو کے اوپر عمران خان سے معذرت بھی کی ہے اور مستقبل میں اکٹھے چلنے پر اتفاق بھی کیا ہے۔

تبصرہ

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے چوہدری پرویز الہیٰ کے بیان کو کیش کرانے کے لیے کل سیاست کے تین بڑے کھلاڑیوں نے ملاقاتیں کیں ، تاہم چوہدری مونس کی عمران خان سے ملاقات نے ان کی ان کوششوں پر پانی پھیر دیا ہے ، کیونکہ چوہدری مونس الہیٰ نے عمران خان کو مکمل تعاون کی ایک مرتبہ پھر سے یقین دہانی کرادی ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پی ڈی ایم کے سرکردہ رہنماؤں کی کوشش یہ تھی کہ پرویز الہیٰ نے جو انٹرویو دیا ہے اس پر فوکس کیا جائے اور انہیں اپنے کیمپ میں واپس لایا جائے، مگر ایسا ہوا نہیں اور مونس الہیٰ فوراً پہنچ گئے عمران خان کے پاس اور انہیں تعاون کی یقین دہانی بھی کرادی۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پی ڈی ایم والوں کو سمجھ نہیں آرہی ، کہ اب کرنا کیا ہے۔ کیونکہ عمران خان نے انہیں بند گلی میں لاکر پھینک دیا  ہے ، وہ صوبائی حکومت جو خود جانا چاہ ہے حزب اختلاف اس کو بچانا چاہ رہی ہے ، وہ اس مقصد میں کتنا کامیاب ہوتے ہیں وقت ہی بتائے گا۔

متعلقہ تحاریر