اداکار شبیر جان کا سعدیہ امام پر سنگین الزام، ایوارڈ شوز پر بھی سوال اٹھادیا
2001 میں سوات میں ڈرامے کی عکس بندی کے دوران اداکارہ ہوٹل کے کمرے میں آئی اور بیوی کے سامنے گلے لگ گئی، ہماری طلاق کی نوبت آسکتی تھی، اس واقعے کے بعد سعدیہ امام کیساتھ کام نہ کرنے کا فیصلہ کیا، سینئر اداکار کا انٹرویو

پاکستان شوبز انڈسٹری کے سینئر اداکار شبیر جان نے سینئر اداکارہ سعدیہ امام پر سنگین الزام عائد کرتے ہوئے انہیں اپنا گھر توڑنے کی کوشش کا ذمے دار قرار دیدیا۔
سینئر اداکار نے ایوارڈ شوز کی غیرجانبداری پر بھی سوال اٹھادیا کہتے ہیں کہ ایوارڈ دینے کا طریقہ کار میری سمجھ سے باہر ہے۔
یہ بھی پڑھیے
اداکارہ عشنا شاہ کاچھپ کر وار کرنے والے ٹرولز کو چیلنج
اداکارہ صبا فیصل نے بہو اور بیٹے کیخلاف محاذ کھولنے کو اپنی غلطی تسلیم کرلیا
یوٹیوبر نادر علی نے اپنے پوڈکاسٹ میں انٹرویو کےدوران اداکار شبیر جان سے سوال کیا کہ ساتھی اداکاروں میں سے کوئی ایسا ہے جس کے ساتھ ایک مرتبہ کام کرنے کے بعد آپ کہیں کہ میں آئندہ اس کے ساتھ کام کرنا نہیں چاہتا۔
شبیر جان نے کہا کہ” ویسے تو سب کے ساتھ ہی کام کیا ہے لیکن کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو آپ کی زندگی کو زہر بنادیتے ہیں۔ایسے لوگ فرعون سے بھی بدتر ہوتے ہیں ،اس کا پھر بھی تاریخ میں نام ہے،یہ تو اس قابل بھی نہیں ہیں کہ ان کا کہیں نام آئے“۔
نادر علی نے مذکورہ شخصیت کا نام بتانے کیلیے شبیر جان پر دباؤ ڈالا تو انہوں نے ہچکچاتے ہوئےکہا کہ” سعدیہ امام ایسی ہیں جن کے ساتھ میں کام نہیں کرنا چاہتا، یہ 2001 کی بات ہے وہ دن ہے او ر آج کا دن ہے جس کے بعد میں نے ان کے ساتھ کام نہیں کیا“۔
شبیر جان نے مزید کہاکہ”مجھ پر سب طرف سے بہت کہا بھی گیا لیکن میں نے کہا کہ میں زندگی میں فیصلے ہی بہت کم کرتا ہوں لیکن جب کرلیتا ہوں تو پھر پیچھے نہیں ہٹتا “۔
نادر علی نے سوال کیا کہ واقعہ کیا تھا، ایسا کیا ہوا تھا کہ دل دماغ میں نفرت بھر گئی کہ اب کام نہیں کروں گا؟سینئر اداکار نے ہچکچاتے ہوئے بتایا کہ ”جب آپ کے خاندان میں ان لوگوں کی وجہ سے دراڑ پرجائے،کیونکہ میری ترجیح میری فیملی ہے، میری بیوی ، میرے بچے میری ترجیح ہیں، کوئی انہیں کراس کرنا شرو ع کرے گا تو میرے لیے قابل قبول نہیں ہوگا، کوئی آپ کی زندگی میں مشکلات کھڑی کرنے کی کوشش کرے تو آپ کے بس میں نہیں ہوتا ورنہ بندہ گڑھا کھود کر انہیں دفن کردے“۔
نادر علی معاملے کو مزید کریدتے ہوئے سوال کیا کہ آپ تمہید باندھ رہے ہیں، ایسا ہوا کیا تھا ،کیا وہ خاندان میں گھسی تھیں؟شبیر جان نے پھر ہچکچاتے ہوئے کہاکہ”ہماری فیملی کے معاملات میں کچھ ایسے واقعات ہوئے کہ ہمیں لگاکہ ہمارے خاندانی تعلقات خراب ہوجائیں اور طلاق تک نوبت آجائے گی،جب یہ معاملات پیش آئے تو میں نے وہاں سے قطع تعلق کیا “۔
نادرعلی نے کمال ہوشیاری سے پھر سوال کیا کہ آپ کا ان کے ساتھ افیئر تو نہیں تھا؟ طلاق تک نوبت کیسے آگئی؟ شبیر جان نے کہاکہ افیئر نہیں تھا، ہم اچھے کولیگ تھے اور اچھے کولیگ اچھی طرح سے رہتے ہیں، ہم ایک ڈرامہ سیریل کیلیے سوات گئے تھے، وہاں میری بیوی کمرے میں بیٹھی ہوئی تھی، بیویاں بیویاں ہوتی ہیں، اگر ہم کو ئی چھوٹی سی الٹی سیدھی حرکت کررہے ہوتے ہیں تو انہیں بتاتے تھوڑی ہیں کہ میں نے یہ کیا،انہیں تو یہی کہتے ہیں کہ یار میں سب کے ساتھ بڑا اچھا رہتا ہوں“۔
شبیر جان نے مزید بتایا کہ”ہم وہاں کمرے میں بیٹھے تھے، وہ اندر داخل ہوئی اور سیدھا آکر میرے گلے لگ گئی،جھپی ماردی اور وہ جھپی جادو کی نہیں تھی پھاڑو کی تھی،اسے تھوڑا سا خیال کرنا چاہیے تھا، اس کے بعد سوات کے اس ہوٹل میں جو بیتی ہے تو میں نے اپنی بیگم سے کہا کہ اس کی وجہ سے آپ کو تکلیف پہنچی ہے لہٰذا اس کے ساتھ آئندہ میں کام نہیں کروں گا“۔
اس انٹرویو میں شبیر جان نے ایوارڈ شوز کی جانبداری پر بھی بات کی۔نادر علی نے سوال کیا کہ شبیر بھائی آپ کو لکس اسٹائل ایوارڈیا پیسا ایوارڈ یا اسے جیسے دوسرے ایوارڈز آپ کو کیوں نہیں ملے؟
شبیر جان نے کہا کہ”یار آج تک میں خود بھی نہیں سمجھ پایا کہ مجھے کیا کام کرنا چاہیے کہ مجھے وہ ایوارڈز ملیں،ابھی تک میں اس کھوج میں لگا ہوا ہوں،یہ لوگ کیا کام کرتے ہیں جو انہیں ایوارڈملتے ہیں، میں اس کھوج میں لگاہو اہوں، مجھے پتہ چل جائے گا تو میں آپ کو بھی بتاؤں گا“۔
انہوں نے کہاکہ ”میرے خیال میں اندھا بانٹے ریوڑیاں اپنوں اپنوں کو،بس یہی سلسلہ ہے ، آپ میری آنکھوں کے تارے ہیں تو آپ کو کینیڈا بھی لے جاؤں،یہاں بھی لے جاؤں گا،وہاں بھی لےجاؤں گا، مجھے ایوارڈز کا طریقہ کار سمجھ نہیں آتا، مجھے ایوارڈز کا شوق نہیں، ہمارا ایوارڈ ناظرین ہیں۔یہ ایک بڑا ایوارڈ ہے اور ایک وقت آتا ہے کہ آپ اس مقام پر پہنچ جاتے ہیں جہاں ایوارڈز کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی“۔









