متحدہ کو دھچکا، الیکشن کمیشن نے کراچی، حیدرآباد میں ایڈمنسٹریٹرز کا تقرر رکوادیا

الیکشن کمیشن سندھ نے الیکشن کمیشن آف پاکستان کی ہدایت پر سیکریٹری لوکل گورنمنٹ کو خط لکھ کر  کراچی اور حیدرآباد میں ایم کیو ایم کے 3 ایڈمنسٹریٹرز کی تقرری کا حکم نامہ واپس لینے یا حکم نامے کو 15 جنوری تک موخر کرنے کا حکم دیدیا۔

ایم کیو ایم پاکستان کو  بلدیاتی الیکشن سے قبل بڑا دھچکا پہنچا ہے، الیکشن کمیشن آف پاکستان نے پیپلزپارٹی اور ایم کیوایم کی بلدیاتی الیکشن سے قبل دھاندلی کی کوشش ناکام بناتے ہوئے کراچی اور حیدرآباد میں ایڈمنسٹریٹرز کا تقرر رکوادیا۔

الیکشن کمیشن سندھ نے الیکشن کمیشن آف پاکستان کی ہدایت پر سیکریٹری لوکل گورنمنٹ کو خط لکھ کر  کراچی اور حیدرآباد میں ایم کیوایم کے 3 ایڈمنسٹریٹرز کی تقرری کا حکم نامہ واپس لینے یا حکم نامے کو 15 جنوری تک موخر کرنے کا حکم دیدیا۔

یہ بھی پڑھیے

ڈاکٹر سید سیف الرحمان کراچی کے نئے ایڈمنسٹریٹر مقرر

ایڈمنسٹریٹر کراچی کا ایم کیو ایم پاکستان سے کوئی تعلق نہیں ہے، ناصر حسین شاہ

 

سندھ حکومت نے 19 دسمبر کو پاکستان پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم پاکستان  کے درمیان ہونے والے معاہدے کے تحت محمد فاروق، سید شکیل احمد اور محمد شریف کو حیدرآباد میونسپل کارپوریشن اور کراچی کے ضلع کورنگی اور شرقی   کی میونسپل کارپوریشنز کا ایڈمنسٹریٹر مقرر کیا تھا۔

اپنی تقرری سے قبل محمد  فاروق اور شکیل احمد بالترتیب ورکر ماڈل اسکول، سائٹ حیدرآباد اور کورنگی کے ایڈمنسٹریٹر   جبکہ محمد  شریف  ڈی ایم سی سینٹرل کراچی  میں ڈائریکٹر چارجڈ پارکنگ کے طور پر کام کر رہے تھے۔

تاہم ان کی تقرری کو حزب اختلاف کی جماعتوں نے تنقید کا نشانہ بنایا جنہوں نے اسے قبل از انتخاب دھاندلی کی کوشش قرار دیا کیونکہ کراچی اور حیدرآباد ڈویژن میں 15 جنوری کو بلدیاتی انتخابات ہونے والے ہیں۔

بدھ کو صوبائی الیکشن کمشنر کے دفتر نے سیکریٹری لوکل گورنمنٹ کو لکھے گئے خط میں کہا  ہےکہ الیکشن کمیشن آف پاکستان  نے 10 جون کو جاری کردہ اعلامیے کے ذریعے بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے دوران تقررو تبادلوں پر پابندی عائد کر دی تھی۔ صوبائی الیکشن کمشنرنے سیکرٹری لوکل گورنمنٹ کو ہدایت کی کہ یا تو حکم نامے کو واپس لیا جائے یا کراچی اور حیدرآباد ڈویژن میں بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے کے اختتام تک اسے موخر کیا جائے۔

خط میں حکومت کو الیکشن کمیشن آف پاکستان  کے ایک سابقہ ​​نوٹیفکیشن کی یاد دہانی کرائی گئی  ہے جس میں کہا گیا تھا کہ جن اضلاع کے لیے مقامی حکومتوں کے انتخابات کا شیڈول جاری کیا گیا ہے، ان اضلاع کے خود مختار اداروں یا اتھارٹیزمیں  انتخابی نتائج کے اجرا تک کمیشن کی پیشگی منظوری کے بغیر  سرکاری افسران اور اہلکاروں کا کوئی تبادلہ یا تقرری نہیں کی جائے گی ۔

دریں اثنا  پاکستان تحریک انصاف   کے رہنما علی زیدی نے ایک ٹوئٹ میں کہا کہ الیکشن کمیشن نے ایڈمنسٹریٹرز کی تعیناتی کا اعلامیہ واپس لینے کا حکم دیا۔اس سے قبل گزشتہ روز پریس کانفرنس کرتے ہوئے علی زیدی نے کہاتھا کہ ان کی پارٹی نے چیف سیکریٹری کو ایک خط لکھا ہے اور انہیں بتایا ہے کہ نئے تعینات ہونے والے ایڈمنسٹریٹرز ایم کیو ایم پاکستان سے وابستہ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بلدیاتی انتخابات سے تقریباً 20 دن قبل ایسے افسران کی بطور ایڈمنسٹریٹر تقرری صریح قبل ازن انتخاب دھاندلی ہے۔اس کے علاوہ، سندھ یونائیٹڈ پارٹی   نے بھی  بلدیاتی انتخابات سے قبل ایڈمنسٹریٹرز اور حیدرآباد کمشنر کی تقرری پر تحفظات کا اظہار کیا۔

متعلقہ تحاریر