موسمیاتی تبدیلیوں کے نقصانات: اسٹیٹ بینک کا کاربن ٹیکس کے نفاذ کا مشورہ
مرکزی بینک کا کہنا ہے موسمیاتی تبدیلیوں سے ہونے والے نقصانات سے بچنے کےلیے کاربن ٹیکس نفاذ لازمی ہے۔
موسمیاتی تبدیلی مستقبل میں غذائی قلت میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے ، عالمی ادارے کے مطابق پاکستان میں سالانہ بنیاد پر نقصانات 9 اعشاریہ ایک فیصد تک پہنچ سکتے ہیں، اسٹیٹ بینک نے حکومت کو کاربن ٹیکس کے نفاذ کا مشورہ دے دیا۔
اسٹیٹ بینک کی سالانہ جائزہ رپورٹ کے مطابق عالمی سطح پر ہونے والی موسمیاتی تبدیلی تباہی کا باعث بن رہی ہے، جبکہ انتظامیہ اب بھی روایتی پالیسی پر عملدرآمد کررہی ہے۔
یہ بھی پڑھیے
سیلاب نے پاکستانی معیشت کو بری طرح متاثر کیا، اسٹیٹ بینک
مالی سال کے ابتدائی 5 ماہ میں موبائل فونز کی درآمد میں 66 فیصد کمی
پاکستان موسمیاتی تبدیلوں سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں آٹھویں نمبر پر ہے۔ یو این رپورٹ کے مطابق پاکستان میں سالانہ کی بنیاد پر نقصانات 9 اعشاریہ ایک فیصد تک پہنچ سکتے ہیں۔
اسٹیٹ بینک کے مطابق سیلاب ، کم پیداواری صلاحیت اور ناقص انفرااسٹریکچر بڑے چیلنجز ہیں۔ گذشتہ سیزن میں گندم کی بہتر پیداوار کے باوجود مستقبل میں پیداوار سست پڑ سکتی ہے۔
انتظامیہ کو تحقیق کے ذریعے گندم کی زیادہ پیداوار دینے والی اقسام متعارف کرانے پر توجہ دینا ہوگی۔ جبکہ تکنیکی رکاوٹ کے باعث درمیانی مدت میں گندم کی کاشت بڑھانے کے لئے بہت کم گنجائیش ہے۔
دوسری جانب ٹڈیوں کے بڑھتے حملے چاول اور گندم کی فصل کے لئے خطرہ ہیں۔
اسیٹ بینک کے مطابق ان حالات میں حکومت کو کاربن ٹیکس کا نفاذ کرنا چاہیے ، کیونکہ کے اس کے نفاذ سے موسمیاتی تبدیلی کی مشکلات سے نمٹنے میں مدد ملے گی۔









