وفاقی دارالحکومت میں بلدیاتی انتخابات کا معاملہ: عدالت عالیہ نے فریقین کو نوٹسز جاری کردیئے

عدالت عالیہ نے بلدیاتی انتخابات سے متعلق درخواستوں کو یکجا کر کے سماعت کل تک ملتوی کر دی اور فریقین کو نوٹس جاری کرنے کا حکم دے دیا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے وفاقی دارالحکومت میں 31 دسمبر کو بلدیاتی الیکشن رکوانے کی درخواستیں یکجا کرتے ہوئے الیکشن کمیشن سمیت تمام فریقین کو کل جمعہ کو طلب کرلیا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے درخواستوں کی سماعت کی۔

درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ وفاقی حکومت نے اسلام آباد کی یونین کونسلوں کی تعداد میں اضافے سے متعلق نوٹی فیکیشن کو الیکشن کمیشن کی جانب سے  مسترد کرنے کا فیصلہ چیلنج کر دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

متنازعہ ٹوئٹس کا معاملہ: خصوصی عدالت سے اعظم سواتی کی درخواست ضمانت مسترد

سلیمان شہباز کے وزیراعظم شہباز شریف کے داماد کو بھی عدالتی ریلیف مل گیا

عدالت عالیہ کو بتایا گیا کہ ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد بیرسٹر جہانگیر جدون کے ذریعے الیکشن کمیشن کے فیصلے کو چیلنج کیا گیا۔

لوکل گورنمنٹ ایکٹ میں ترمیم کا بل اسمبلی میں بھی موجود ہے۔

چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کرتے ہوئے کہا کہ آج کے دن 125 یونین کونسلز موجود ہیں، 101 پر الیکشن کیسے کرائیں گے؟ انتخابی شیڈول کے بعد یونین کونسلز کی تعداد میں اضافہ کیا گیا۔

عدالت عالیہ نے بلدیاتی انتخابات سے متعلق درخواستوں کو یکجا کر کے سماعت کل تک ملتوی کر دی اور فریقین کو نوٹس جاری کرنے کا حکم دے دیا۔

حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) کے امیدوار اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ایک سینئر رکن نے اسلام آباد میں رواں ماہ ہونے والے بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں علیحدہ علیحدہ درخواستیں دائر کی ہوئی ہیں۔

رہنما مسلم لیگ (ن) کی جانب سے دائر درخواست میں انتخابات کے التوا کا مطالبہ کیا گیا ہے جبکہ پی ٹی آئی کے سینئر رکن کی جانب سے دائر درخواست میں مذکورہ قانون میں تبدیلیاں کرنے پر وزیر اعظم شہباز شریف اور ان کی کابینہ کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی شروع کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے، درخواست میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ مذکورہ تبدیلیاں انتخابات میں تاخیر کا سبب بن سکتی ہیں۔

متعلقہ تحاریر