برطانوی شہزادہ ہیری افغان شہریوں کو قتل کرکے جنگی جرائم کا ملزم بن گیا

طالبان رہنما انس حقانی نے برطانوی شہزادے ہیری کی جانب سے افغانستان میں فوجی ڈیوٹی کے دوران 25 افراد کو ہلاک کرنے کے اعتراف کی مذمت کرتے ہوئے اسے جنگی جرم قرار دیا، ڈیوک آف سسیکس شہزادہ ہیری نے اپنی کتاب میں افغانستان میں فوجی ڈیوٹی کے دوران 25 طالبان کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے

افغان طالبان رہنما انس حقانی نے برطانوی بادشاہ چارلس کے بیٹے پرنس ہیری کو جنگی جرائم کے مجرم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے 25 بے گناہ افغان شہریوں کو قتل عام کیا ہے ۔

 طالبان رہنما انس حقانی نے برطانوی شہزادے ہیری کی جانب سے افغانستان میں فوجی ڈیوٹی کے دوران 25 افراد کو ہلاک کرنے کے اعتراف کی مذمت  کرتے ہوئے اسے جنگی جرم قرار دیا ہے ۔

یہ بھی پڑھیے

افواج پاکستان کے ننگرہار میں کالعدم ٹی ٹی پی کے ٹھکانوں پر فضائی حملے

افغان  طالبان کے مرکزی رہنما کا کہنا تھا کہ برطانوی بادشاہ چارلس کا بیٹا پرنس ہیری افغانستان میں بے گناہ شہریوں کے قتل عام میں ملوث رہا ہے جوکہ جنگی جرائم کی فہرست میں آتا ہے ۔

طالبان رہنما انس حقانی نے میڈیا کو بتایا کہ پرنس ہیری کے انکشاف کے بعد ہم نے تحقیقات کی تو پتا چلا ہلمند میں ہمارا کوئی ساتھ ہلاک نہیں ہوا  بلکہ ہیری نے عام افغان شہریوں کو قتل کیا ہے ۔

طالبان رہنما نے کہا کہ پرنس ہیری کی جانب سے 25 مجاہدین کی ہلاکت کا دعویٰ غلط ہے۔ ہلمند نے اس کی جانب سے کی گئی کارروائی میں  صرف عام شہری ہلاک ہوئے تھے ۔

انس حقانی نے کہا کہ پریس ہیری کا اعتراف افغانستان میں 20 سالہ جنگی جرائم کی داستان ہے تاہم اب تک وہ ظلم و ستم کی مکمل کہانی دنیا کے سامنے تاحال نہیں آئی ہے ۔

افغان  عبوری حکومت کی وزارت خارجہ کے ترجمان عبدالقہار بلخی نے بھی برطانوی شہزادے پرنس ہیری کے بیان کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور اسے جنگی جرم قرار دیا ہے ۔

یہ بھی پڑھیے

کالعدم ٹی ٹی پی اب بھی 5000 جنگجوؤں کے ساتھ سرگرم ہے، اقوام متحدہ

واضح رہے کہ ڈیوک آف سسیکس شہزادہ ہیری نے اپنی کتاب میں افغانستان میں فوجی ڈیوٹی کے دوران 25 طالبان کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے ۔

پرنس ہیری نے لکھا ہے کہ دوران فوجی ڈیوٹی افغانستان میں 25 طالبانوں کا ہلاک کیا تاہم میرے لیے یہ کوئی اطمینان دہ بات نہیں اور نہ ہی ایسی بات ہے جس پر شرمندہ ہوا جائے ۔

متعلقہ تحاریر