کراچی اور حیدرآباد کے بلدیاتی انتخابات:وفاقی اور صوبائی حکومتیں ملتوی کرانے کی کوششوں میں مصروف

سیکریٹری الیکشن کمیشن عمر حمید کو وزارت داخلہ کا خط موصول ہوگیا ، خط میں کہا گیا ہے کہ فوج اور رینجرز کی تعینات کا معاملہ جی ایچ کیو کے ساتھ اٹھایا ، جی ایچ کیو نے کہا ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں فوج کی تعیناتی ممکن نہیں ۔

بلدیاتی مسائل میں گھرے سندھ کے دو بڑے شہر کراچی اور حیدرآباد میں بلدیاتی انتخابات 15 جنوری کو شیڈول ہیں ، متحدہ قومی موومنٹ پاکستان نے حلقہ بندیوں کو وجہ بناتے ہوئے الیکشن کے بائیکاٹ کا عندیہ دے رکھا ہے ، رات دیر گئے وزیراعظم ، آصف علی زرداری ، خالد مقبول صدیقی ، گورنر سندھ اور مولانا فضل الرحمان کے ٹیلی فونک رابطے ہوئے جن میں ایم کیو ایم کے تحفظات دور کرانے کی یقین دہانی کرائی گئی ، جبکہ حساس اداروں نے بلدیاتی انتخابات میں دہشتگردوں کے حملوں کا امکان ظاہر کیا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حساس اداروں کی جانب سے یہ رپورٹ اس وقت جاری کی گئی ہے جب بلدیاتی انتخابات میں صرف ایک روز باقی ہے۔

سندھ حکومت کی حلقہ بندیوں کو وجہ بنا کر ایم کیو ایم (پاکستان) نے کراچی اور حیدر آباد کے بلدیاتی انتخابات کا عندیہ دے دیا ہے۔ جبکہ متحدہ کی رابطہ کمیٹی نے وفاقی حکومت سے بھی علیحدگی کا عندیہ دیتے ہوئے اپنے ایم این ایز سے استعفے طلب کرلیے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

پی ٹی آئی ارکان اسمبلی کی جیو فینسنگ: فواد چوہدری کا رانا ثناء اور عطاء تارڑ کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا اشارہ

ریڈلائن صرف عوام لگا سکتے ہیں کوئی اور نہیں لگا سکتا، عمران خان کا مقتدر حلقوں کو پیغام

ذرائع کے مطابق گذشتہ رات ایم کیو ایم پاکستان کی رابطہ کمیٹی کی وفاقی حکومت سے علیحدگی کے لیے مشاورت جاری رہی ، ایم کیو ایم نے اپنے ایم این ایز سے استعفے بھی طلب کرلیے ہیں۔

متحدہ کے سینئر رہنما خواجہ اظہار الحسن کا نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایم کیو ایم کے آج کے اجلاس میں شرکاء نے وفاقی حکومت سے علیحدگی کی تجویز دی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت سے علیحدگی کا حتمی اعلان مشاورت کے بعد خالد مقبول صدیقی ہی کریں گے۔

واضح رہے کہ ایم کیو ایم پاکستان نے آج طلب کیا جنرل ورکرز اجلاس بھی ملتوی کردیا ہے ، نئی تاریخ کا اعلان 24 گھنٹے میں کیا جائے گا۔

رات گئے متحدہ کے کنوینر خالد مقبول صدیقی نے وفد کے ہمراہ گورنر کامران ٹیسوری سے ملاقات کی۔ گورنر نے یقین دہانی کرائی کہ انتخابات شفاف اور منصفانہ ہی ہوں گے ۔ ایم کیو ایم کے تحفظات دور کیے جائیں گے۔

وزیراعظم اور مولانا فضل الرحمان کا خالد مقبول صدیقی سے رابطہ

متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کی جانب سے حکومت سے علیحدگی کی دھمکی کام آگئی ، اتحادی حکومت میں کھلبلی مچ گئی ، وزیراعظم شہباز شریف نے رات دیر گئے خالد مقبول صدیقی ، گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری اور آصف علی زرداری سے ٹیلی فونک رابطے کیے ، اور ایم کیو ایم کے تحفظات دور کرانے کے لیے کردار ادا کرنے کو کہا۔ جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا بھی خالد مقبول صدیقی کو ٹیلی فون ، تحفظات دور کرانے کی یقین دہانی کرائی۔

آصف زرداری کی زیرصدارت اجلاس

بلدیاتی انتخابات پر ایم کیو ایم کے تحفظات پر بلاول ہاؤس کراچی میں کوچیئرمین آصف علی زرداری کی زیر صدارت ہوا ، آج اہم فیصلے کابینہ ارکان کی منظوری سے کیے جائیں گے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ متوقع فیصلوں سے متعلق ایم کیو ایم سے مشاورت مکمل کرلی گئی ہے۔

ایم کیو ایم کے تحفظات

دوسری جانب ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی کا کہنا ہے کہ بلدیاتی انتخابات سے قبل جو حلقہ بندیاں کی گئیں وہاں مہاجر کے ووٹ کو تقسیم کیا گیا۔

وزارت داخلہ کا خط

دوسری جانب سیکریٹری الیکشن کمیشن عمر حمید کو وزارت داخلہ کا خط موصول ہوگیا ، خط میں کہا گیا ہے کہ فوج اور رینجرز کی تعینات کا معاملہ جی ایچ کیو کے ساتھ اٹھایا ، جی ایچ کیو نے کہا ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں فوج کی تعیناتی ممکن  نہیں ،

خط کے مطابق جی ایچ کیو نے کہا ہے کہ پہلے درجے کی تعیناتی صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے ،

خط کے مطابق جی ایچ کیو پہلے ہی کہہ چکا کہ اتنے زیادہ حساس پولنگ اسٹیشنز پر تعیناتی ممکن نہیں۔ جی ایچ کیو نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن 500 حساس پولنگ اسٹیشنز کی نشاندہی کرے۔ 500 حساس پولنگ اسٹیشنز کے باہر رینجرز کی تعیناتی کی جاسکتی ہے۔

واضح رہے کہ الیکشن کمیشن 8000 پولنگ اسٹیشنز حساس اور 1000 پولنگ اسٹیشنز انتہائی حساس قرار دے چکا ہے۔

حساس اداروں کی رپورٹ

سندھ میں بلدیاتی انتخابات پر شدید تحفظات کے حوالے سے کراچی کے حساس اداروں کا اہم اجلاس ہوا۔

قومی سلامتی کے اداروں نے الیکشن کمیشن کو اجلاس کی کاروائی سے آگاہ کردیا۔

حساس اداروں نے اپنے سیکورٹی خدشات کا اظہار کرتے ہوئے الیکشن کمیشن آف پاکستان سے درخواست کی ہے کہ انتخابات کو ملتوی کردیا جائے۔

حساس اداروں کی رپورٹ میں کراچی میں کالعدم تنظیم بی ایل اے اور ٹی ٹی پی کے مضبوط نیٹ ورک کی موجودگی کا حوالہ دیا گیا ہے۔ اداروں نے الیکشن کمیشن کو صوبے میں شدید سیکورٹی خدشات سے آگاہ کردیا۔

حساس اداروں کی جانب سے جاری کی گئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دہشتگرد پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدواروں کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر حملے ہونے تھے تو الیکشن مہم کے دوران ہونے چاہیے تھے ، وہ تو ہوئے نہیں اب انتخابات ہونے ہیں ، تو حملوں کو جواز بنا کر کیوں انتخابات ملتوی کرائے جارہے ہیں یا پھر کسی ایک جماعت کو فائدہ پہنچانے کے لیے انتخابات ملتوی کرائے جارہے ہیں۔

متعلقہ تحاریر