کراچی کے بلدیاتی انتخابات کو تمام فریقین نے متنازعہ قرار دے دیا ، حل کیا نکلے گا؟

کراچی کے بلدیاتی انتخابات میں واضح نشستیں حاصل کرنے والی جماعتوں کے ساتھ ایم کیو ایم پاکستان اور ٹی ایل پی نے بھی انتخابات کو کالعدم قرار دینے کا مطالبہ کردیا ہے۔

کراچی کے بلدیاتی انتخابات متنازعہ سے متنازعہ تر ہوتے جارہے ہیں ، میئر کراچی کون ؟ جماعت اسلامی اور پیپلز پارٹی میں رسہ کشی جاری ، انتخابی عمل کو ختم ہوئے 5 روز گزر گئے ہیں جبکہ انتخابی نتائج ابھی تک سرکاری طور پر جاری نہیں کیے گئے ہیں۔ جہاں انتخابات میں واضح نشستیں جیتنے والی جماعتوں نے انتخابی نتائج پر تحفظات کا اظہار کیا ہے وہیں انتخابات کا بائیکاٹ کرنے والی ایم کیو ایم پاکستان اور تحریک لبیک پاکستان نے کراچی کے بلدیاتی انتخابات کو مسترد کردیا ہے۔

گذشتہ روز کراچی میں جماعت اسلامی کے یوم تشکر سے خطاب کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق کا کہنا تھا کہ حافظ نعیم الرحمان اس شہر کراچی کا میئر ہوگا اور کوئی چوائس نہیں ہے ، زرداری صاحب کراچی کا مینڈیٹ تسلیم کریں ، صبر کا پیمانہ چھلک گیا تو وہ ہو گا جس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔

جماعت اسلامی سراج الحق
news 360

یہ بھی پڑھیے

کراچی کی میئرشپ کے لیے جماعت اسلامی اور تحریک انصاف میں رابطے

حکومت کو 8 نہیں ڈیڑھ ماہ ہوئے ہیں، سہولت کاری نومبر کےبعدختم ہوئی، جاوید لطیف

جماعت اسلامی کے یوم تشکر سے خطاب کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کراچی کی ترقی کےلیے سب سے مل کر کام کریں گے۔ کوئی یہ نہ پوچھے کس کے ساتھ اتحاد کریں گے ، دوسرے لوگ یہ بتائیں ہمارے ساتھ کون آرہا ہے ، جو اختیار ملے گا کام کریں گے ، باقی چھین کرلیں گے۔ ان کا کہنا تھا ان شاء اللہ اس شہر کراچی کا میئر جماعت اسلامی سے ہوگا۔

گذشتہ روز متحدہ قومی موومنٹ پاکستان (ایم کیو ایم پی) کے رہنما اور سابق میئر کراچی وسیم اختر کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی نے گذشتہ 14 سالوں میں کراچی کو بیڑا غرق کرکے رکھ دیا ہے ، پہلے چھ ڈسٹرکٹ ، پھر سات ڈسٹرکٹ اب دو ڈویژن بنانے کی باتیں ہورہی ہیں، کراچی کو سندھو دیش نہیں بننے دیں گے ۔ پیپلز پارٹی ایک اور بنگلادیش بنانے جارہی ہے۔ ادھر ہم ادھر تم کرکے۔ ڈویژن کی باتیں ہورہی ہیں۔

وسیم اختر کا کہنا تھا ہم کراچی اور حیدرآباد کے بلدیاتی انتخابات کو کالعدم قرار دینے کا مطالبہ کرتے ہیں ، پانچ دن بعد بھی حتمی نتائج نہیں آسکے۔ مطلب دال میں کچھ کالا نہیں بہت ساری دال ہی کالی ہے۔

متحدہ قومی موومنٹ پاکستان ڈپٹی کنوینر وسیم اختر پیپلز پارٹی
google source

وسیم اختر کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی اور جماعت اسلامی کے اتحاد سے میئر آیا تو جھگڑے میں چار سال گزر جائیں گے ، پی ٹی آئی اور جماعت اسلامی کا میئر آیا تو پیپلز پارٹی کام نہیں کرنے دے گی۔

رہنما ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما کا کہنا تھا کہ کراچی اور حیدرآباد کے انتخابات کو کئی روز گزر چکے ، کراچی اور حیدرآباد سے کھلواڑ جاری ہے ، رولز کے مطابق انتخابات کے اجراء کے بعد نتائج کا اجراء چار روز میں لازم ہے۔ پوسٹ پول دھاندلی کی جارہی ہے ، سارے انتخابی عمل پر سوالیہ نشان لگ چکا ہے۔ شفاف انتخابات کے لیے نئی حلقہ بندیاں کی جائیں۔

گذشتہ روز تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) نے کراچی کے بلدیاتی انتخابات کے نتائج کے خلاف شہر کے مختلف علاقوں میں احتجاجی مظاہرے کیے۔ ٹی ایل پی کے رہنماؤں کا کہنا تھا ہم کراچی کے بلدیاتی انتخابات کے نتائج کو مسترد کرتے ہیں ، اور چاہتے ہیں کہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد دوبارہ کرایا جائے۔

دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی نے کراچی میں اپنا میئر لانے کے لیے کوششیں مزید تیز کردی ہے۔ اس حوالے سے پیپلز پارٹی اور ن لیگ کے قائدین کی آج باضابطہ ملاقات ہوئی ، جس میں پیپلزپارٹی مسلم لیگ ن کی صوبائی قیادت سے میئر کراچی کے انتخاب کے لئے حمایت کرنے کی درخواست کی۔

PML-N and PP flags

میئر کراچی کے انتخاب کے لئے پیپلزپارٹی اور ن لیگ میں اتحاد ہونے کے قوی امکان موجود ہیں ۔ بلدیاتی انتخابات میں مسلم لیگ ن نے 7 نشتوں پر کامیابی حاصل کی ہے۔

متعلقہ تحاریر