ای سی پی نے پنجاب اور کے پی کے انتخابات پر آئین کی خلاف ورزی کی، ماہر قانون عابد زبیری
سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر نے الیکشن کمیشن کا حوالہ دیتے انتہائی احترام سے کہا ہے کہ ادارہ آزاد نہیں ہے۔
قانونی ماہر عابد زبیری نے جمعے کے روز کہا ہے کہ الیکشن کمیشن نے 14 مئی کو پنجاب اور خیبرپختونخوا اسمبلیوں کے انتخابات کرانے کے سپریم کورٹ کے فیصلے کو نظر انداز کر کے آئین کی خلاف ورزی کی۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے آج نیوز کے زیراہتمام تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ عابد زبیری کا کہنا تھا کہ "آئین کہتا ہے کہ کسی بھی اسمبلی کی تحلیل کے بعد 90 دنوں کے اندر انتخابات کرائے جائیں گے، جس پر ای سی پی نے عمل نہیں کیا۔” اگر الیکشن کمیشن 90 دن کے اندر قومی انتخابات نہیں کرواتا تو اسے کون پابند کرے گا؟
یہ بھی پڑھیے
عمران خان اور بشریٰ بی بی کا مبینہ غیرقانونی شادی کیس خارج کرنے کیلئے عدالت سے رجوع
190 ملین پاؤنڈ کیس: عمران خان کے سابق پرنسپل سیکریٹری نیب کے سامنے میں پیش
عابد زبیری کا کہنا تھا کہ میں انتہائی احترام سے کہتا ہوں الیکشن کمیشن مکمل آزاد نہیں ہے۔ کیونکہ اس نے پنجاب اور کے پی میں انتخابات کے حوالے سے سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل کرنے سے انکار کر دیا تھا۔
اگرچہ یہ اچھی بات ہے کہ سابق صدر اور سابق وزیر اعظم انتخابات کے بروقت انعقاد پر متفق ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ یہ کام کرنا الیکشن کمیشن کی واحد ذمہ داری ہے کیونکہ پارلیمنٹ نے اُسے تمام اختیارات دیئے ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ‘لیکن ہم نے دیکھا ہے کہ پنجاب اور کے پی کی اسمبلیوں کی تحلیل کے بعد ای سی پی، اسٹیبلشمنٹ، حکومت اور تمام اداروں نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل نہیں کیا۔’
صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کا کہنا تھا کہ "عدالت عظمیٰ نے بھی اس معاملے میں کوئی کارروائی نہیں کی کیونکہ پارلیمنٹ سے فنڈز کی کمی اور فوج کی جانب سے سیکیورٹی فراہم کرنے سے انکار جیسے مختلف بہانے بنائے گئے۔”
عابد زبیری کا کہنا تھا کہ "اس سے کسی کو کوئی فرق نہیں پڑتا کہ قومی انتخابات وقت پر ہوں ، کیونکہ آئین کی خلاف ورزی کی گئی ، کسی کو اس کے نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا؟۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس ملک میں کسی نے بھی آئین پر عمل نہیں کیا۔









