پاک آرمی کی تعاون سے یونیورسٹی آف مالاکنڈ میں ڈیجیٹل حجرہ کا قیام
ماہرین نے توقع ظاہر کی ہے کہ جدید سائنسی طریقوں اور ڈیجیٹلائزشن سے مقامی سطح پر ہر قسم کی فصل کی فی ایکڑ پیدوار میں جلد اضافہ ممکن ہو جائے گا۔
ڈیجیٹل حجرہ میں زرعی پیدوار بڑھانے کے لے لیے مالاکنڈ ڈویژن کے طلبہ اور کاشت کاروں کو زراعت میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے حوالے سے ٹریننگ دی جائے گی۔
پاک آرمی کے کے ذیلی ادارے ویننگ ہارٹ اینڈ مرڈ ﴿ ڈبیلو ایچ اے ایم ﴾ کی طرف سے یونیورسٹی آف ملاکنڈ میں ڈیجیٹل حجرہ کا قیام عمل میں لایا گیا ، جس کا افتتاح ڈین اف فیکلٹی ڈاکٹر عطاالرحمان نے آرمی افسران کے ہمراہ کیا۔
یہ بھی پڑھیے
بی آر ٹی پشاور منصوبے میں مزید 85بسیں شامل کرنے کا فیصلہ
اس موقع پر ڈرون سے فصلوں پر سپرے کا عملی تجربہ بھی کیا گیا۔ افتتاحی تقریب کے موقع پر شرکاء کو بریفنگ دیتے ہوئے عامر حیات بھنڈارہ ، فواد ریاض باجوہ اور رفیع اللہ کاکی وغیرہ نے کہا کہ پاک فوج کے تعاون سے نیشنل پری لانس ٹریننگ پروگرام کے تحت مقامی کاشت کاروں میں سائنسی طریقہ کار کے مطابق ڈیجیٹلائزشن کے ذریعے فی ایکٹر کاشت کی پیدوار بڑھانے کے لے کاشت کاروں کو نئے جدید طریقوں سے روشناس کرانا ہے۔
ان کا کہنا تھا تاکہ کاشت کار بروقت اپنے فصلوں پر موسم کے مطابق جدید سائنسی طریقوں سے ادویات کا اسپرے ، آبپاشی اور موسمیاتی تبدیلوں کے مطابق پانی کی کمی کو پورا کرنے اور بروقت موسم کے حال سے باخبر رہنا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ملک کے دوسرے ترقی یا فتہ شہروں کے برابر مالاکنڈ ڈویژن کے دیہی اور پسماندہ علا قوں کے ایگریکلچر کو بھی آگے لانا ہے تاکہ کاشت کاروں کے ذریعے ملک میں فی ایکٹر پیدوار میں اضافہ ہو سکے۔
ڈیجیٹل حجرہ کے ماہرین یونیورسٹی آف مالاکنڈ میں قائم سینٹر سے کاشت کاروں کو جدید سائنسی طریقوں سے روشناس کرانے کے لیے ہر وقت اپنے خدمات پیش کر ینگے جس میں جدید ڈیجیٹل آلات کا استعمال بھی شامل ہے۔
ابتدائی طور پر یونیورسٹی آف مالاکنڈ سے ملحقہ یونین کونسل چکدرہ کے پانچ گاؤں راموڑہ ، علی مست ، گل مقام ، دربار ، سہ صدہ کے زرعی زمینوں انتخات کیا گیا جس میں ویدرسٹیشن کا قیام ، زمینوں پر ادویات کے اسپرے کرانے کے لیے جدید ایگریکلچر ڈرون مشین اور موسمیاتی تبدیلی کیوجہ سے پانی کی کمی کے پیشگی اطلاع کے لیے آلات کی تنصیب شامل ہے۔
ڈیجیٹل حجرہ کے ماہرین نے توقع ظاہر کی ہے کہ جدید سائنسی طریقوں اور ڈیجیٹلائزشن سے مقامی سطح پر ہر قسم کی فصل کی فی ایکڑ پیدوار میں جلد اضافہ ممکن ہو جائے گا۔









