آئی کیپ نے حکومت کو کسٹم پوائنٹس سے 250 ارب روپے کمانے کی تجویز دے دی

صدر آئی کیپ نے کہا ہے کہ ٹیکس محصولات میں اضافے کے لیے پرانے ٹیکس دہندگان کے ساتھ نئے ٹیکس ادا کرنے والوں کو بھی سسٹم میں لانا ہوگا۔

کسٹم پوائنٹس پر اگر اسکینررز لگائے جائیں تو ملک میں 250 ارب روپے کسٹم ڈیوٹی زیادہ جمع ہوسکتی ہے، انسٹی ٹیوٹ آف چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس پاکستان نے حکومت کو بجٹ تجویز دے دی۔

انسٹی ٹیوٹ آف چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس کے چیئرمین اشفاق تولہ نے کہا ہے گزشتہ سال زرعی شعبے کی آمدن میں 1100 ارب روپے کا اضافہ ہوا ہے، اب دیکھنا ہوگا کہ اس شعبے سے کتنا انکم ٹیکس آتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

مئی میں مہنگائی 28 ماہ کی بلند ترین سطح پر جاپہنچی

سعودی عرب اور دبئی آئی ایم ایف کے بغیر مدد کیلیے تیار نہیں،وزیرخزانہ

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے  انسٹی ٹیوٹ آف چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس پاکستان کے صدر اشفاق تولہ کا مزید کہنا تھا کہ  آئی کیپ نے بجٹ 2022-23 کے لئے حکومت کو تجاویز دی ہیں۔ وفاقی بجٹ کو 2022-23 کیلئے ٹیکس وصولی کا ہدف 7 ہزار 5 سو ارب روپے اور نان ٹیکس ریونیو کیلئے 2 ہزار ارب روپے ہدف مقرر کرنے کی تجویز دے دی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومتی اخراجات کا تخمینہ 10 ہزار 296 ارب روپے تک ہوسکتا ہے، آئی کیپ نے دفاع کیلئے 1 ہزار 5 سو 76 ارب روپے رکھنے کی تجویز دی ہے۔

صدر آئی کیپ کا کہنا تھا کہ مالی سال 2022,23 کیلئے گروتھ ریٹ  7.92 فیصد رہنے کا امکان ہے۔

اشفاق تولہ کا کہنا تھا کہ رئیل اسٹیٹ سیکٹر کے لئے ٹیکسز میں اضافہ اور آسانی تجویز کی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ٹیکس محصولات میں اضافے کے لیے پرانے ٹیکس دہندگان کے ساتھ نئے ٹیکس ادا کرنے والوں کو بھی سسٹم میں لانا ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ دنیا کے دیگر ممالک کی طرح پاکستان کیلئے بھی خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ الارمنگ ہے۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ حکومت ملک میں وفاقی اور صوبائی محصولات کے انضمام پر غور کرے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ ٹیکس آمدن بڑھانے کے لیے ان 90 فیصد طبقات کو ٹیکس میں لانا ہوگا جو ٹیکس کے دائرہ کار سے باہر ہیں۔

متعلقہ تحاریر