پیٹرول اور بجلی کے بعد گیس کی قیمتوں میں 45 فیصد اضافے کی منظوری

اوگرا نے سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ اور سوئی سدرن گیس کمپنی کے ٹیرف میں بالترتیب 45 فیصد اور 44 فیصد اضافے کی منظوری دی ہے۔

سر منڈواتے ہی اولے پڑ گئے، اوگرا نے پیٹرولیم مصنوعات اور بجلی کی قیمت میں اضافے کے بعد مہنگائی کی چکی میں پسی ہوئی عوام پر گیس بم گرا دیا ہے۔ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے قدرتی گیس کے نرخوں میں 45 فیصد تک اضافے کی منظوری دے دی ہے۔

مالی سال 2022-23 کے تخمینی محصولات کی ضرورت (ڈی ای آر آر) کے تعین کے لیے اوگرا نے جمعہ کو سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ (ایس این جی پی ایل) اور سوئی سدرن گیس کمپنی (ایس ایس جی سی) کے ٹیرف میں بالترتیب 45 فیصد اور 44 فیصد اضافے کی منظوری دی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

قومی بچت اسکیموں پر شرح منافع میں 1.5 فیصد اضافہ

پٹرول کی بڑھتی قیمت: 62فیصد پاکستانیوں نے لیگی حکومت کے جواز مسترد کردیے

اوگرا نے ایس این جی پی ایل کو گیس کی قیمت میں 45 فیصد یا 266.58 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو بڑھانے کی اجازت دے دی۔

ایس این جی پی ایل کی جانب سے گیس کی قیمت میں 1,079 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو اضافے کا مطالبہ کیا ہے جبکہ آئندہ مالی سال کے لیے 597 ارب روپے کی آمدنی کی ضرورت ہے۔

دوسری جانب ایس ایس جی سی کو گیس کی قیمت میں 44 فیصد یا 308.53 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو اضافے کی اجازت دی گئی۔

اوگرا حکام کے مطابق ایس ایس جی سی کی جانب سے گیس کی قیمت میں 313 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو اضافے کی تجویز پیش کی گئی تھی جبکہ مالی سال 22-23 کے لیے تقریباً 286 ارب روپے کی اضافی آمدنی کی ضرورت پیش کی گئی ہے۔

اوگرا نے قدرتی گیس کے ٹیرف میں کیے گئے اضافے کی سمری منظوری کے لیے حکومت کو بھیج دی ہے۔

اوگرا حکام کے مطابق گزشتہ برسوں کے 264,894 ملین روپے کے شارٹ فال کو کم کرنے کےلیے یعنی 720.20 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو کو کم کرنے کےلیے ایک مناسب پالیسی ترتیب دی ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے پیٹرولیم مصنوعات اور بجلی کی قیمتوں میں اضافے کے بعد گیس کی قیمتوں میں اضافے نے جلتی پر تیل کا کام کیا ہے ، وزیراعظم صاحب دل پر پتھر رکھ کر سارے مشکل فیصلے کرتے جارہے ہیں اور عوام مہنگائی کے عذاب میں جھونکتے جارہے ہیں۔

ان کا کہنا ہے اتحادی حکومت نے کہا تھا کہ ہم عمران خان کے لائے ہوئے مہنگائی کے سونامی کو روکیں گے مگر یہاں تو الٹا ہی حساب چل رہا ہے ۔ پیٹرولیم مصنوعات ، بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافے سے پروڈکشن چارجز میں اضافہ آگئے اور اشیائے خورونوش کی قیمتوں خود بخود آسمان سے باتیں کرنے لگیں ۔ وزیراعظم اپنے کپڑے بیچنے کی باتیں کررہے تو غریبوں کے تن سے اتروا رہے ہیں۔

معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کہتے ہیں کہ اگر پیٹرول اور بجلی کی قیمتوں میں اضافہ نہ کرتے تو معیشت ڈوب جاتی ، کیونکہ بین الاقوامی سطح پر ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ ہورہا ہے ، جب یہی باتیں عمران خان کی حکومت کرتی تھی تو بری لگتی تھیں۔

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں عام آدمی کی تنخواہوں میں اضافہ ہو نہیں رہا جبکہ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ آئے روز کیا جارہا ہے جس کی وجہ سے افراط زر کا طوفان آئے گا اور سفید پوش طبقہ مزید مشکلات میں گھر جائے گا۔ بچوں کی تعلیم ، ٹرانسپورٹیشن اور روزمرہ کی ضروریات کو جاری رکھنا مزید مشکل نہیں مشکل ترین ہو جائےگا۔

متعلقہ تحاریر