ڈاکٹر یاسمین راشد کو پی ٹی آئی وسطی پنجاب کا صدر مقرر کردیا
پاکستان تحریک انصاف پنجاب کے صدر اور سینئر رہنما شفقت محمود خان نے گزشتہ روز بیماری کو جواز بنا کر اپنے عہدے سے استعفیٰ دیا تھا۔
پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنما شفقت محمود کے استعفے کے بعد پارٹی کی سابق صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد کو پی ٹی آئی وسطی پنجاب کا صدر مقرر کردیا گیا ہے۔
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے پی ٹی آئی کے سینئر شفقت محمود کے استعفے کے بعد سابق صوبائی وزیر یاسمین راشد کو پی ٹی آئی وسطی پنجاب کا صدر بنانے کے فیصلے کی توثیق کردی ہے۔
یہ بھی پڑھیے
تحریک انصاف پنجاب کے ناکام ترین صدر شفقت محمود مستعفی
غداری کا مقدمہ بناکر مجھے راستے سے ہٹانے کی کوشش ہورہی ہے، عمران خان
ذرائع نے بتایا کہ سابق وزیراعظم نے یاسمین راشد کو بطور وزیر صحت پنجاب ان کی کارکردگی کو دیکھتے ہوئے یہ اہم عہدہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
حقیقی آزادی لانگ مارچ کے دوران بھی ڈاکٹر یاسمین راشد نے بہت زیادہ فعال کردار ادا کیا تھا ، پولیس نے ان کے قافلے کو روکنے کے لیے ان کے گرفتار کرلیا تھا اور ان کی گاڑی کے شیشے وغیرہ بھی توڑ دیئے تھے۔
70 سالہ ڈاکٹر یاسمین راشد کینسر کی مریضہ ہیں مگر پھر اپنی پارٹی کے لیے ان کا کردار ایک مثالی کردار ہے ، انہوں نے بطور وزیر صحت پنجاب بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے غریبوں کو طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے اہم منصوبے شروع کیے تھے ۔
نیوز 360 کے ذرائع نے بتایا تھا کہ حقیقی آزادی مارچ میں بدترین کاکردگی کا مظاہرہ کرنے پر تحریک انصاف پنجاب کے ناکام ترین صدر شفقت محمود اپنے عہدے سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
ذرائع کے مطابق پارٹی چیئرمین عمران خان کی شدید ناراضی کے بعد شفقت محمود نے خرابی صحت کو جواز بناکر صوبائی صدارت سے استعفیٰ دیا تھا۔
شفقت محمود نے اپنے ٹوئٹ میں لکھا کہ بطور صدر پی ٹی آئی پنجاب کام کرنا میرے لیے اعزاز کی بات ہے اور یہ موقع دینے پر چیئرمین عمران خان کا شکر گزار ہوں۔انہوں نے کہا کہ یہ میری سرجری اور صحت یاب ہونے کیلیے تبدیلی کا وقت ہے۔
شفقت محمود نے نئے آنے والے صدر کیلئے نیک تمناؤں کا اظہار کیا اور کہا کہ پارٹی نے جو بھی ذمہ داری دی اسے نبھاؤں گا۔
It was an honour and privilege to serve as President PTI Punjab and I thank Chairman Imran Khan for the opportunity. It is time for change due to my surgery and convalescence. I congratulate the new President and will serve the party in whatever capacity assigned
— Shafqat Mahmood (@Shafqat_Mahmood) June 3, 2022









