وزیراعظم کی تحریک انصاف سمیت تمام جماعتوں کو گرینڈ ڈائیلاگ کی دعوت
شہباز شریف کا کہنا ہے کہ پاکستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنا ہے تو ہمیں گرینڈ ڈائیلاگ لازمی کرنا ہوں گے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ اگر ہم نے پاکستان کو آگے لے کر جانا ہے تو ہمیں تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ گرینڈ ڈائیلاگ کرنا ہوں گے۔ ہمیں اپنی پسند اور ناپسند سے بالاتر ہوکر سوچنا ہوگا، اس وقت ملک گرینڈ ڈائیلاگ کی اشد ضرورت ہے۔
ان خیالات کا اظہار وزیراعظم شہباز شریف نے لاہور میں انڈس اسپتال کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ شہباز شریف کا کہنا تھا ہمیں اپنے ذات سے بالاتر ہوکر اپنی انا مارنا ہوگا ، پاکستان کو آگے لے کر چلنا ہے تو تمام اسٹیک ہولڈرز سے بات کرنا ہو گی۔
یہ بھی پڑھیے
اسلام آباد واپسی ، عمران خان کی جان کو شدید خطرات لاحق ،سیکیورٹی ہائی الرٹ
صدر نے الیکشن اور نیب ترمیمی بلز واپس وزیراعظم کو واپس بھجوادیئے
وزیراعظم کا کہنا تھا کیا ہم نے 72 سال بعد بھی سبق نہیں سیکھنا ہے اور صرف سیاست کرتے رہنا ہے ، ساڑھے تین سال اس ملک کے ساتھ جو کچھ ہوا اس کا حساب لینا ہے یا نہیں ، یا صرف مجھ سے حساب لینا ہے ، میں اپنا ڈیڑھ ماہ کا حساب دینے کے لیے تیار ہوں ، قرض پر رہنے والا ملک کبھی زندہ رہے گا ۔
ان کا کہنا تھا بنگلادیش کی ایکسپورٹ 40 ارب ڈالر ہے۔ بنگالی بوجھ نہیں تھے مگر انہیں بوجھ بنا کر پیش کیا گیا اور جان چھڑائی گئی ، ہم نے سیاست کی خاطر یہ بہت بڑا ظلم کیا تھا ۔
انہوں نے کہا کہ بجلی کی لوڈشیڈنگ سے متعلق مجھے علم ہے ، گزشتہ حکومت نے تمام منصوبوں کو سیاست کی نذر کردیا تھا، ملک اس لیے بنا تھا کہ دیانت کے ساتھ دنیا میں اپنا جھنڈا بلند کریں۔
وزیراعظم شہباز نے کہا ہے کہ غریبوں کی مدد کے لیے پی کے ایل آئی اسپتال غریبوں کی مدد کے لیے 20 ارب کی لاگت سے بنایا تھا۔ حکومت بدلی تو ڈاکٹر سعید اور ٹیم کو بے عزت کرکے باہر بھیج دیا گیا۔ جو ملین ڈالرز لے رہے تھے وہ دکھی انسانیت کی خدمت کے لیے یہاں آئے تھے۔ اپنے دور میں ٹرانسپلانٹ کے لیے زرمبادلہ خرچ کرکے مریضوں کو بھارت بھیجنا پڑا ، پی کے ایل آئی اسپتال مایہ ناز اسپتال تھا سیاست کی نذر کردیا گیا۔ اچھے لوگ کسی بھی حکومت کے ساتھ کام کریں تو انہیں سیاسی رنگ نہیں دینا چاہیے۔
واضح رہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما اور سابق وزیراعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی نے گزشتہ روز وزیراعظم شہباز شریف کو مشورہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ ہمیں پاکستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے گرینڈ ڈائیلاگ کرنا ہوں گے ۔
ایک نجی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ آج بھی معاشی حالت دیکھ کر ہم نے عقل حاصل نہ کی تو پھر مجھے بہت مشکلات نظر آرہی ہیں۔ وزیراعظم کو ڈائیلاگ کرنا چاہئیں ، سیاست آج تقسیم در تقسیم کا شکار ہے ۔ سب کو دعوت دیں، پورے جذبے اور نیک نیتی کے ساتھ دعوت دیں، ڈائیلاگ میں پارٹی کے لیڈرز بیٹھیں، وہ مشورے کرکے اپنی اپنی رائے دیں۔









