وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے عمران خان کی گرفتاری کا اعلان کردیا
وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ جیسے ہی عمران خان کو ضمانت ختم ہو گی انہیں گرفتار کرلیا جائے گا۔
وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے اتوار کو جاری اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی ضمانت قبل از گرفتاری ختم ہوتے ہی انہیں گرفتار کر لیا جائے گا۔
سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پیغام شیئر کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے لکھا ہے کہ ” عمران نیازی کواسلام آباد واپسی پرخوش آمدید کہتے ہیں۔ قانون کے مطابق ان کوسکیورٹی فراہم کی جارہی ہے۔”
یہ بھی پڑھیے
اسلام آباد واپسی ، عمران خان کی جان کو شدید خطرات لاحق ،سیکیورٹی ہائی الرٹ
کراچی اور پنجاب پولیس کی بڑی کارروائی، دعا زہرہ بازیاب، شوہر اور سہولتکار گرفتار
انہوں نے کہا ہے کہ ” عدالتی ضمانت ختم ہونے پر قانون کیمطابق فراہم کی گئی” یہی“ سکیورٹی عمران نیازی کو بڑی خوش اصلوبی سے گرفتار کرلے گی۔”
وزیر داخلہ رانا ثناءاللّٰہ کا عمران نیازی کی بنی گالہ واپسی کےحوالے سے اہم بیان:
عمران نیازی کواسلام آباد واپسی پرخوش آمدید کہتے ہیں۔ قانون کے مطابق ان کوسکیورٹی فراہم کی جارہی ہے۔
— Rana SanaUllah Khan (@PresPMLNPunjab) June 5, 2022
وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ "عمران نیازی ملک میں ہنگامہ آرائی، فتنہ و فساد، افراتفری پھیلانے اور وفاق پر مسلح حملوں کے جرائم کے تحت درج دو درجن سے زائد مقدمات میں بطور ملزم نامزد ہے۔’
واضح رہے کہ چیئرمین تحریک انصاف "آزادی لانگ مارچ” کی قیادت کرتے ہوئے خیبرپختون خوا سے اسلام آباد پہنچے تھے، تاہم لانگ مارچ کے اختتام کے بعد عمران خان واپس خیبرپختون خوا چلے گئے تھے۔ پارٹی قیادت نے دعویٰ کیا تھا کہ سابق وزیراعظم سے سیکیورٹی واپس لینے کی وجہ سے انہیں پشاور منتقل کیا گیا تھا۔
رانا ثناء اللہ نے ایک اور ٹوئٹ میں لکھا ہے کہ ” ملک میں فساد فی العرض برپا کرنے والا وہ شخص جو اخلاقی اور جمہوری قدروں سے یکسرعاری ہو اور اپنے مخالفین کو کبھی غدار اور یزید کہه کر پکارتا ہو۔ کس طرح ایک جمہوری معاشرے میں ایک سیاسی جماعت کا سربراہ ہوسکتا ہے؟ یہ پوری قوم کیلئے ایک لمحہ فکریہ ہے۔”
انہوں نے مزید لکھا ہے کہ ” یہ دوسروں کے بے گناہ بچوں کی لاشوں پر اپنی سیاسی دکان چمکانے والے خون آشام چمگادڑ ہیں تم نے تو قبر تک ساتھ جانا تھا پھر 25 مئی کو باس کو چھوڑ کر کہاں روپوش تھے؟ 25 مئی کے بھگوڑے معیشت پہ بھاشن نہ دیں ، نیب قانون کی کسی ترمیم سے کوئی موجودہ کیس ختم نہیں ہوا۔”
واضح رہے کہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے خلاف 25 مئی کے ’آزادی مارچ‘ کے خاتمے کے ایک دن بعد جلاؤ گھیراؤ اور توڑ پھوڑ کے الزامات کے تحت ایک درجن سے زائد مقدمات درج کیے گئے تھے۔
یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے پشاور ہائی کورٹ (پی ایچ سی) نے سابق وزیر اعظم کی 25 جون تک ضمانت قبل از گرفتاری منظور کی تھی۔ پی ٹی آئی چیئرمین کو اسلام آباد کی سیشن عدالت میں پیش ہونے کی بھی ہدایت کی گئی تھی۔
بنی گالہ سیکیورٹی
اسلام آباد پولیس نے ہائی الرٹ جاری کرتے ہوئے پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کی رہائش گاہ بنی گالہ سے ملحقہ علاقوں میں سیکیورٹی سخت کردی ہے۔
اسلام آباد پولیس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ بنی گالہ میں سیکیورٹی کے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔ پولیس نے وفاقی دارالحکومت میں دفعہ 144 نافذ کر دی ہے اور تمام عوامی اجتماعات پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
ترجمان نے کہا کہ پولیس افسران کسی بھی قسم کی غیر قانونی سرگرمی کا جواب دینے کے لیے ہروقت تیار ہیں اور بنی گالہ میں داخل ہونے والی گاڑیوں کی چیکنگ جاری رکھیں گے۔
پولیس نے شہریوں سے کہا ہے کہ وہ اپنے ارد گرد کسی بھی قسم کی مشکوک سرگرمی کی اطلاع دیں۔ ترجمان نے کہا کہ سابق وزیراعظم عمران خان کو قانون کے مطابق مکمل سیکیورٹی فراہم کی جائے گی۔
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان بنی گالہ پہنچ چکے ہیں جبکہ ان کی سیکیورٹی کے پیش نظر رہائش گاہ کے چاروں اطراف مزید پولیس کے دستے تعینات کردیئے گئے ہیں۔
سکیورٹی ڈویژن نے بنی گالہ میں خصوصی سکیورٹی تعینات کر دی ہے۔ تاہم سیکیورٹی ڈویژن کا کہنا ہے بنی گالہ میں لوگوں کی فہرست تاحال پولیس کو فراہم نہیں کی گئی۔ اسلام آباد میں دفعہ 144 نافذ ہے اور ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے حکم کے مطابق کسی بھی قسم کے اجتماع کی اجازت نہیں ہے۔”









