وکلاء کے قتل کے خلاف پنجاب اسمبلی میں مذمتی قرارداد جمع
قرارداد کے مطابق وکلاء کے قاتلوں کو چار ماہ کے اندر تمام اپیلیں بشمول صدارتی فورم سن کر تختہ دار پر لٹکایا جائے۔
پنجاب میں وکلاء کے بڑھتے ھوئی قتل کی وارداتوں اور تشدد کے خلاف پنجاب اسمبلی میں مذمتی قرارداد جمع کروا دی۔
وکلاء کے قتل کے خلاف قرارداد پاکستان مسلم لیگ ن کی رکن پنجاب اسمبلی کنول لیاقت ایڈووکیٹ نے جمع کروائی۔
یہ بھی پڑھیے
ڈاکٹر یاسمین راشد کو پی ٹی آئی وسطی پنجاب کا صدر مقرر کردیا
قرارداد کے متن کے مطابق وکلاء معاشرے کے وہ لوگ ہیں جو مظلوم عوام کی خاطر غاصبوں، لٹیروں، ڈکٹیٹروں، ظالموں اور قانون شکنوں اور مافیا کے خلاف آواز حق بلند کرتے ہیں جس کے نتیجے میں وکلاء کو اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنا پڑتا ہے۔

متن کے مطابق پنجاب کا یہ ایوان وکلاء پر بڑھتے ہوئے مظالم ۔قتل و غارت گردی کی بھرپور مذمت کرتا ھے اور مطالبہ کرتا ھے کہ جلد از جلد وکلاء پروٹیکشن ایکٹ کو آرڈیننس کے ذریعے نافذ کیا جائے اور وکلاء کے قاتلوں کو چار ماہ کے اندر تمام اپیلیں بشمول صدارتی فورم سن کر تختہ دار پر لٹکایا جائے اور شہید ھونے والی وکلاء کی فیملی اور بچوں کی کفالت و تعلیم کی ذمہ داری حکومتی سطح پر تسلیم کی جائے۔









