دعا زہرہ کا والدین سے ملنے سے انکار، عدالت نے میڈیکل کرانے کا حکم دے دیا

عدالت نے وکلاء کے دلائل سننے کے بعد کیس کی سماعت 8 جون تک ملتوی کردی۔ دعا زہرہ کا کہنا ہے مجھے اغواء نہیں کیا گیا اپنی مرضی سے گھر سے گئی تھی۔

سندھ ہائی کورٹ نے پسند کی شادی کے لیے کراچی سے جانے والی دعا زہرہ کی عمر کا تعین کرنے کے لیے میڈیکل ٹیسٹ کرانے کا حکم دے دیا ، کیس کی سماعت 8 جون تک ملتوی کردی گئی۔ جسٹس جنید غفار نے ریمارکس دیئے کہ بچی کی بازیابی سے متعلق درخواست تو غیرموثر ہوچکی۔

تفصیلات کے مطابق سندھ ہائی کورٹ میں دعا زہرہ بازیابی کیس کی سماعت ہوئی۔ پولیس نے دعا زہرہ اور ان کے شوہر ظہیر احمد کو عدالت میں پیش کردیا۔

یہ بھی پڑھیے

نظر رکھی جائے دعا زہرا غیرقانونی طور پر سرحد پار نہ کرسکے، سندھ ہائیکورٹ

نمرہ کاظمی بالغ ہیں، سندھ ہائی کورٹ نے شادی کو قانونی قرار دے دیا

سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس امجد سہتو اور جسٹس جنید غفار پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ دوران سماعت عدالت نے پوچھا آپ کا نام کیا ہے اور مہدی کاظمی سے آپ کا کیا تعلق ہے؟

دعا زہرہ نے جواب دیا کہ میرا نام دعا زہرہ ہے اور مہدی کاظمی میرے والد ہیں۔

دوران سماعت چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ نے دعا زہرہ سے استفسار کیا کہ کیا آپ کو اغواء کیا گیا تھا۔

دعا زہرہ نے جواب میں کہا کہ نہیں مجھے اغواء نہیں کیا گیا میں اپنی مرضی سے گھر سے گئی تھی۔

جسٹس جنید غفار نے ریمارکس دیئے کہ ابھی لڑکی بیان دے اور اغواء کا مقدمہ ختم ہو جائے گا۔

عدالت نے دعا زہرہ سے استفسار کیا کہ آپ کے والد نے کہا ہے کہ ظہیر احمد نے آپ کو اغواء کیا ہے۔

اس پر دعا زہرہ کا کہنا تھا نہیں مجھے ظہیر احمد نے اغواء نہیں کیا ہے۔

عدالت نے استفسار کیا آپ کو کہاں سے بازیاب کرایا گیا؟

دعا زہرہ نے کہا کہ مجھے چشتیاں سے بازیاب کرایا گیا۔

عدالت نے دعا زہرہ سے استفسار کیا کہ آپ کی عمر کیا ہے؟

دعا زہرہ نے کہا میری عمر 18 سال ہے اور میں ظہیر احمد کے ساتھ رہنا چاہتی ہوں۔ جس مکان میں رہ رہی ہوں اس کا نمبر معلوم  نہیں ہے۔

جسٹس امجد سہتو نے استفسار کیا کہ ملزم کہاں ہے؟

مہدی کاظمی کے وکیل کا کہنا تھا کہ درخواست گزار کی اپیل تھی کہ ان کے بیٹی کو بازیاب کرایا جائے۔ لڑکی کا بیان لیا جائے۔

جسٹس جنید غفار نے ایڈووکیٹ جنرل سندھ سے استفسار کیا کہ 10 جون کو کیس لگا ہوا ہے تو آپ آج کیوں آئے ہیں۔

اس پر ایڈووکیٹ جنرل سندھ کا کہنا تھا حکم تھا کہ جیسے ہی دعا زہرہ بازیاب ہو عدالت میں پیش کیا جائے۔

عدالت نے استفسار کیا ، اب آپ کیا چاہتے ہیں؟

اے جی سندھ کا کہنا تھا کہ لاہور ہائی کورٹ نے بھی 10 جون کو دعا زہرہ کو طلب کررکھا ہے۔ دعا زہرہ اپنی مرضی سے صوبہ چھوڑ کر گئی تھی۔ لڑکی نے پنجاب میں شادی کرکے قانون کی خلاف ورزی نہیں کی ہے۔

عدالت اس پر استفسار کیا کیا لڑکی کے اغواء کا کیس نہیں ہے یہ؟

مہدی کاظمی کے وکیل کا کہنا تھا یہ لڑکی کے اغواء کا مقدمہ ہے۔ برتھ سرٹیفیکیٹ کے مطابق دعا زہرہ کی تاریخ پیدائش 27 اپریل 2008 ہے ۔ اب دعا زہرہ کی عمر 14 سال اور کچھ دن ہے۔

دعا زہرہ نے عدالت میں والدین سے ملنے سے انکار کردیا ۔ اس پر عدالت کا کہنا تھا کسی سے زبردستی نہیں کرسکتے ۔

متعلقہ تحاریر