انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر ایک بار پھر 200 روپے سے تجاوز کر گیا
اس مالی سال کے آغاز کے بعد سے روپیہ مجموعی طور پر گزشتہ مالی سال کے اختتام کے مقابلے میں 25 فیصد یعنی 40 روپے سے زیادہ گر گیا ہے۔
کاروباری ہفتے کے پہلے روز انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر مزید 2.38 روپے اضافے کے بعد 200 روپے 30 پیسے کا ہوگیا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ تیل ادائیگیوں اور دیگر درآمدات کی وجہ سے روپے کی قدر میں کمی جاری رہے گی ، جبکہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ معاملات بھی التواء کا شکار ہیں۔
فاریکس ایسوسی ایشن آف پاکستان (ایف اے پی) کے مطابق اوپن مارکیٹ میں ڈالر مزید 2 روپے 50 پیسے اضافے سے 201 روپے کا ہوگیا ہے۔ جبکہ گزشتہ ہفتے کے اختتام پر ڈالر 198.15 روپے پر بند ہوا تھا۔ اوپن مارکیٹ میں دوپہر تک ڈالر کی قیمت 200 روپے تک پہنچ گئی۔
یہ بھی پڑھیے
مہنگی ایل این جی امیر صنعت کاروں کو کتنے ارزاں دام میں دستیاب ہے؟
پیٹرول اور بجلی کے بعد گیس کی قیمتوں میں 45 فیصد اضافے کی منظوری
ڈالر کے مقابلے میں روپے کی گراوٹ آج سیشن کے اوائل میں شروع ہوئی جس کے بعد ایف اے پی کے چیئرپرسن ملک بوستان اور ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے جنرل سیکرٹری ظفر پراچہ نے نشاندہی کی کہ آج ہونے والی تیل کی ادائیگیوں کی وجہ سے ڈالر کی مانگ میں اضافہ ہوا۔
ظفر پراچہ نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ بینک ڈالر کی شرح میں ہیرا پھیری کر رہے ہیں، جو مقامی کرنسی کی قدر میں کمی کا باعث بن رہے ہیں۔
چیس مین ہٹن کے سابق ٹریژری ہیڈ اسد رضوی کا کہنا ہے بجٹ اور پاکستان کے لیے آئی ایم ایف سے ملنے والی قرض کی منظوری تک حالات خراب رہیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ "موڈیز نے جمعرات کو بیرونی فنانسنگ عنصر کی وجہ سے پاکستان کی معیشت کے آؤٹ لک کو مستحکم سے منفی کر دیا، جس کی وجہ سے مارکیٹ میں روپے کی قدر میں مزید کمی واقع ہوئی تھی۔
Mettis Global کے ڈائریکٹر سعد بن نصیر کا کہنا IMF اور دیگر دو طرفہ معاہدوں سے آنے والے تعطل اور بیرونی قرضوں کی ادائیگی اور درآمدات کی وجہ سے ڈالر کے مقابلے روپے کی قدر میں کمی واقع ہورہی ہے۔









