الیکشن کمیشن رواں برس اکتوبر میں انتخابات کرانے کےلیے تیار
سیکریٹری الیکشن کمشن عمر حمید خان کا کہنا ہے نئی مردم شماری کی صورت میں عام انتخابات اگلے سال اگست میں ممکن ہو سکیں گے۔
سیکرٹری الیکشن کمیشن عمر حمید خان کا کہنا ہے کہ ملک میں اس وقت 12 کروڑ 4 لاکھ 82 ہزار 302 ووٹرز رجسٹرڈ ہیں۔
سیکرٹری الیکشن کمیشن عمر حمید خان کا اسلام آباد میں نیوز کانفرنس سے خطاب میں کہنا تھا کہ رواں برس اکتوبر تک عام انتخابات کروائے جا سکتے ہیں ، تاہم نئی مردم شماری ہونے پر ازسرنو حلقہ بندیاں کرنا ضروری ہوگا اور پھر انتخابات اگست 2023 میں ہی ممکن ہوسکیں گے۔
یہ بھی پڑھیے
سود کے خاتمے کے خلاف اپیلیں دائر نہ کی جائیں، اسلامی نظریاتی کونسل
عمر حمید خان کا کہنا تھا کہ آزادانہ ، شفاف اور منصفانہ انتخابات کیلئے درست و قابل اعتبار انتخابی فہرستیں ضروری ہیں۔ حتمی انتخابی فہرستیں 12 اگست کو شائع کی جائیں گی، شہری 4 جولائی تک ووٹ کی درستی کرا سکتے ہیں، اس وقت جاری حلقہ بندیوں کا کام بھی اگست میں مکمل ہو گا۔
ان کا کہنا تھاکہ الیکشن کمیشن نے اکتوبر 2021 میں انتخابی فہرستوں پر نظر ثانی شروع کی، گھر گھر جا کر تصدیقی عمل 7 نومبر سے 31 دسمبر تک مکمل کیا گیا۔ اس دوران 9 کروڑ 84 لاکھ ووٹرز کی عارضی یا مستقل پتہ پر تصدیق ہوئی جبکہ 40 لاکھ افراد کے انتقال کی تصدیق ہوئی۔
سیکرٹری الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ 9 لاکھ 50 ہزار ووٹرز کی تصدیق نہیں ہوسکی،انہیں مستقل پتہ پر رجسٹرڈ کر لیا گیا۔
ان کا کہنا تھا الیکشن کمیشن نے غیر حتمی انتخابی فہرستیں ڈسپلے سینٹرز پر آویزاں کر دی ہیں۔
سیکریٹری الیکشن کمیشن نے کہا کہ الیکشن کمیشن مردم شماری کی حتمی رپورٹ پر حلقہ بندیاں کر رہا ہے۔ یہ عمل اگست میں مکمل ہوجائے گا۔
عمر حمید خان کا کہنا تھا الیکشن کمیشن اکتوبر میں عام انتخابات کیلئے مکمل طور پر تیار ہو گا، تاہم اگر نئی مردم شماری ہوتی ہے تو 31 دسمبر تک اس کی رپورٹ آنی ضروری ہے، نئی مردم شماری کی صورت میں نئی حلقہ بندیاں ضروری ہوں گی۔ 31 دسمبر تک رپورٹ آ گئی تو اگست 2023 میں انتخابات کرا سکتے ہیں۔









