مالی سال 2021-22 میں زرعی شعبے نے 4.40 فیصد شرح سے ترقی کی
حکومتی پالیسیز کی وجہ سے گزشتہ مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح پیداوار کا ہدف 3.5 فیصد مقرر کیا گیا تھا۔
مالی سال 2021-22 میں زرعی شعبے میں ترقی کی رفتار توقعات سے زیادہ رہی۔ زرعی شعبے نے ساڑھے تین فی صد کے ہدف کے مقابلے میں 4 اعشاریہ 40 فیصد سے ترقی کی۔
اقتصادی سروے کے مطابق مالی سال 2021-22 میں حکومتی پالیسیز کی وجہ سے زراعت نے امید سے زیادہ ترقی کی۔
یہ بھی پڑھیے
کراچی والوں کیلئے بری خبر، نیپرا نے بجلی مہنگی کرنے کی منظوری دے دی
بیشتر معاشی اعشاریے پورے، پھر تحریک انصاف حکومت کی چھٹی کیوں ہوئی؟
حکومتی پالیسیز کی وجہ سے اعلی پیداوار ، پُرکشش پیداواری قیمتوں ، تصدیق شدہ بیجوں اور کیڑے مارادویات کی بہتر دستیابی کے باعث زرعی شعبے نے ساڑھے تین فی صد کے ہدف کے بجائے 4 اعشاریہ 40 فی صد سے ترقی کی۔
گزشتہ مالی سال زرعی شعبے نے 3 اعشاریہ 48 فیصد سے ترقی کی تھی۔
اقتصادی سروے میں بتایا گیا ہے کہ زرعی شعبے میں فصلوں کی ترقی 6 اعشاریہ 58 فیصد رہی۔
جس میں کپاس کی پیداوار میں 17 اعشاریہ 9 فیصد، چاول کی پیداوار میں 10 اعشاریہ 7 فیصد ، گنے کی پیداوار میں 9 اعشاریہ 4 فیصد اور مکئی کی پیداوار میں 19 فیصد کی ترقی ریکارڈ کی گئی۔
زرعی شعبے میں لائیواسٹاک کا حصہ تقریبا 62 فیصد ہے ، جس میں ترقی کی شرح 3 اعشاریہ 26 فیصد رہی۔
لائیو اسٹاک کے شعبے میں ماہی گیری کی گروتھ اعشاریہ 35 فیصد، زرعی شعبے میں شامل ایک اور اہم شعبے جنگلات نے 6 اعشاریہ 13 فیصد سے ترقی کی۔









