فوج کو بدنام کرنے کی منظم سازش ہو رہی ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر
میجر جنرل بابر افتخار کا کہنا ہے سول اور فوجی قیادت کا موقف ہے سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف پاکستان واپس آجائیں ، واضح کردیں کہ عمران حکومت کے خلاف کوئی غیرملکی سازش نہیں ہوئی۔
ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار نے ایک پھر واضح الفاظ میں کہا ہے کہ عمران خان حکومت کے خلاف کوئی بیرونی سازش نہیں ہوئی تھی جھوٹ کا سہارا لے کر حقائق کو مسخ کیا جارہا ہے اور گہری سازش کے ذریعے فوج کو بدنام کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
منگل کے روز ایک نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے (آئی ایس پی آر) کے ترجمان میجر جنرل بابر افتخار کا کہنا تھا کہ قومی سلامتی کمیٹی کے میٹنگ میں واضح طور پر بتا دیا گیا تھا کہ عمران خان حکومت کو گرانے میں کسی غیرملکی سازش کا عمل دخل نہیں تھا۔
یہ بھی پڑھیے
وفاقی حکومت پہلی بار پی ٹی آئی کے خلاف دستاویزی ثبوت سامنے لے آئی
اہلخانہ نے سابق صدر پرویز مشرف کی موت کی جھوٹی خبروں کو مسترد کر دیا
سابق صدر پرویز مشرف سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے میجر جنرل بابر افتخار نے کہا ہے کہ اعلیٰ فوجی قیادت کا یہ مشترکہ موقف ہے کہ سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف جو 2016 سے دبئی میں مقیم ہیں، ان کی حالت انتہائی تشویشناک ہے ایسے میں ان کا پاکستان میں واپس آنا لازمی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ سابق صدر کے اہل خانہ سے رابطہ کیا گیا ہے ، ان کی واپسی کا حتمی فیصلہ ان کے اہل خانہ اور ڈاکٹرز کریں گے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ "جنرل پرویز مشرف کی طبیعت بہت خراب ہے، ایسی صورت حال میں ادارے کی قیادت کا موقف ہے کہ انہیں پاکستان واپس لایا جائے، لیکن یہ فیصلہ ان کے اہل خانہ اور ڈاکٹرز کریں گے۔”
میجر جنرل بابر افتخار کا مزید کہنا تھا کہ "ان کی واپسی کے انتظامات ان کے اہل خانہ کے جواب کے بعد کیے جائیں گے۔”
واضح رہے کہ سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کے اہل خانہ نے گزشتہ جمعہ کو ان کے انتقال کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ "سابق صدر وینٹی لیٹر پر نہیں ہیں ، لیکن انہوں نے مزید کہا تھا کہ ان کی صحت یابی ممکن نہیں ہے۔”
سابق (ر) جنرل پرویز مشرف کے آفیشل ٹویٹر اکاؤنٹ سے جاری ایک بیان میں اہلخانہ نے لکھا ہے کہ "وہ (پرویز مشرف) وینٹی لیٹر پر نہیں ہیں۔ اپنی بیماری (امائلائیڈوسس) کی پیچیدگی کی وجہ سے گزشتہ 3 ہفتوں سے اسپتال میں داخل ہیں۔”
Message from Family:
He is not on the ventilator. Has been hospitalized for the last 3 weeks due to a complication of his ailment (Amyloidosis). Going through a difficult stage where recovery is not possible and organs are malfunctioning. Pray for ease in his daily living. pic.twitter.com/xuFIdhFOnc
— Pervez Musharraf (@P_Musharraf) June 10, 2022
انہوں نے مزید لکھا ہے کہ "وہ ایک مشکل مرحلے سے گزر رہے ہیں ، جہاں سے ان کی صحت یابی ممکن نہیں ہے اور اعضاء خراب ہو رہے ہیں۔ اس کی روزمرہ کی زندگی میں آسانی کے لیے دعاؤں کی گزارش ہے۔”
واضح رہے کہ گزشتہ دنوں سابق صدر پرویز مشرف نے اپنی خواہش کا اظہار کیا تھا کہ وہ اپنی باقی زندگی پاکستان میں گزارنا چاہتے ہیں۔
ان کے قریبی ساتھیوں نے ‘طاقتور حلقوں’ اور حکومتی اہلکاروں سے رابطہ کیا ہے تاکہ ان کی وطن واپسی میں کسی بھی رکاوٹ کو دور کیا جا سکے۔
وزیر دفاع خواجہ آصف نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ سابق صدر مشرف کی بیماری کے پیش نظر ان کی پاکستان واپسی میں کوئی رکاوٹ نہیں ہونی چاہیے۔
جنرل مشرف کی خراب صحت کے پیش نظر انکو وطن واپس آنے میں کوئی رکاوٹ نہیں ھونا چاہیے. ماضی کے واقعات کواس سلسلے میں مانع نہیں ھونے دینا چاہیے .اللہ انکو صحت دے اور وہ عمر کے اس حصہ میں وقار کیساتھ اپنا وقت گزار سکیں..
— Khawaja M. Asif (@KhawajaMAsif) June 11, 2022
انہوں نے ان کی صحت کے لیے بھی دعا کی تاکہ وہ اپنی بقیہ زندگی ’وقار‘ کے ساتھ گزار سکیں۔
دفاعی بجٹ
دفاعی بجٹ میں کمی پر تبصرہ کرتے ہوئے میجر جنرل بابر افتخار کا کہنا تھا کہ دفاعی بجٹ میں حقیقی معنوں میں کمی مہنگائی اور روپے کی قدر میں کمی کو مدنظر رکھتے ہوئے کی گئی۔
جمعہ کو بجٹ دستاویز میں ظاہر کیا گیا کہ مالی سال 2022-23 کے لیے دفاعی اخراجات 1,523 ارب روپے ہوں گے جو کہ جاری مالی سال کے لیے مختص کیے گئے 1,483 روپے کے نظرثانی شدہ دفاعی اخراجات کے مقابلے میں ہوں گے۔ تاہم، دفاعی اخراجات میں مجوزہ اضافہ 1,370 ارب روپے کے پری نظرثانی بجٹ کے مقابلے میں 11 فیصد تک پہنچ جائے گا۔
تاہم مبصرین نے دعویٰ کیا کہ حقیقت میں آسمان چھوتی مہنگائی کو دیکھتے ہوئے گزشتہ تین سالوں کے دوران دفاعی اخراجات میں کوئی اضافہ نہیں ہوا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا "تمام عوامل کو مدنظر رکھتے ہوئے، فوج نے 2020 کے بعد سے بجٹ میں کوئی اضافہ نہیں مانگا ہے… دفاعی بجٹ دراصل کم کیا گیا تھا۔ یہ پچھلے سال جی ڈی پی کا 2.8 فیصد تھا اور اب یہ 2.2 فیصد پر کھڑا ہے لہذا جی ڈی پی کے لحاظ سے دفاعی اخراجات کم ہو رہے ہیں۔
کفایت شعاری کے اقدامات کے بارے میں بات کرتے ہوئے میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ ایندھن کی بچت اور اخراجات کو کم کرنے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ "فوج جمعہ کو "خشک دن” کے طور پر منائے گی جب ہنگامی حالات کے علاوہ کوئی سرکاری ٹرانسپورٹ استعمال نہیں کی جائے گی۔
این ایس سی اجلاس کے بارے میں سابق وزیر داخلہ شیخ رشید کے دعوؤں کا جواب دیتے ہوئے فوجی ترجمان نے کہا کہ ہر کسی کو اپنی رائے رکھنے کا حق ہے لیکن "کسی کو جھوٹ پھیلانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی”۔
آئی ایس پی آر کے سربراہ نے کہا کہ وہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کے جاری اجلاس پر تبصرہ نہیں کریں گے، انہوں نے مزید کہا کہ بھارت نے پاکستان کو بلیک لسٹ میں ڈالنے کے لیے لابنگ کی۔









