طیبہ گُل کو اپنے ساتھ ہونے والے ظلم کی تاریخ ، دن اور مہینہ یاد نہیں

سابق چیئرمین نیب پر ہراسگی کا الزام لگانے والی خاتون طیبہ کا کہنا ہے مجھے جب پرائم منسٹر ہاؤس میں رکھا گیا وہ تاریخ اور مہینہ یاد نہیں۔

سابق چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کے خلاف ہراسگی کا الزام لگانے والی خاتون طیبہ گل کو ساری باتیں یاد ہیں مگر اپنے ساتھ ہونے والے ظلم اور پرائم منسٹر ہاؤس میں قید رکھنے کی نہ تاریخ یاد ہے ، نہ مہینہ یاد ہے اور نہ سال یاد ہے۔

ایکسپریس نیوز چینل کے پروگرام "کل تک” میں اینکر پرسن جاوید چوہدری کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے طیبہ گل کا کہنا تھا عمران خان ، طاہر اے خان اور اعظم خان کے ساتھ میری پہلی ملاقات 14 مئی کو ہوئی تھی ، جس جگہ پر میری پہلی ملاقات ہوئی تھی مجھے دوبارہ وہاں نہیں لے جایا گیا۔ جس جگہ ملاقات ہوئی وہ پرائم منسٹر آفس تھا۔ یہ وہ ملاقات کی تھی جس میں انہوں نے مجھ سے "یو ایس بی” لی تھی ۔ مجھے وہاں رکھا گیا اور پھر جیو کے مالک میر شکیل الرحمان کو گرفتار کیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کا سپریم کورٹ کے فیصلے پر تحفظات کا اظہار

اسلام آباد ہائی کورٹ سے ڈی جی نیب شہزاد سلیم کی درخواست نامکمل قرار

سابق چیئرمین نیب پر ہراسگی کا الزام کا لگانے والی خاتون طیبہ گل کا کہنا تھا سیکند ٹائم مجھے پرائم منسٹر ہاؤس بلایا گیا تھا۔ اور مجھے وہاں لاک کردیا گیا۔ اعظم خان نے مجھ سے وہاں ملاقات کی۔ میں نے اعظم خان صاحب سے سوال کیا کہ مجھے اور میرے شوہر کو یہاں کیوں بلایا گیا ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ آپ کو یہاں رکھا جائے کیونکہ آپ کی جان کو خطرہ ہے ، نیب والے باہر آپ پر کوئی اٹیک کرواسکتے ہیں، کیونکہ چیئرمین نیب بہت طاقتور آدمی ہیں ، آپ یہاں رہیں آپ نے جو کہا ہے اس کی انکوائری بھی شروع کرا رہے ہیں ، چونکہ آپ کی ضرورت پڑسکتی ہے اس لیے آپ کو یہاں رکھا جارہا ہے۔

طیبہ گل کا ایک سوال کے جواب میں کہنا تھا کہ جب ہمیں وہاں بہت زیادہ وقت ہوگیا تو میں نے احتجاج کیا ، احتجاج کے بعد انہوں نے میری فیملی سے میرا رابطہ کرایا اور بات چیت بھی کروائی۔

جب دوسری مرتبہ میں پرائم منسٹر ہاؤس گئی تو انہوں نے مجھ سے حلف نامہ پر دستخط کروائے۔

اینکر پرسن جاوید چوہدری نے سوال کیا کہ یہ واقعہ کب ہے ، کون سا دن تھا ، کون سال مہینہ تھا اور کون سا سال تھا؟

اس پر طیبہ گل کا کہنا مجھے ایگزیکٹ یاد نہیں کہ یہ واقعہ کب کا ہے ، اگر مجھے کچھ وقت دیا جائے تو بتا سکتی ہوں۔

انہوں نے اینکر پرسن کے سوال پر اصرار کرتے ہوئے کہا کہ جس دن میر شکیل الرحمان کو گرفتار کیا گیا تھا اس سے اگلے دن وہ مجھے لے گئے اور ڈیڑھ ماہ تک وہاں رکھا گیا۔

ایک اور سوال پر طیبہ گل کا کہنا تھا اس کو مسٹری ہی رہنے دیا جائے تو زیادہ بہتر ہے ، اس معاملے کو میری ہریسمنٹ تک ہی رکھا جائے تو بہتر ہے۔ ورنہ بہت ساری باتیں ایکسپوز ہو جائیں گی۔

متعلقہ تحاریر