شہباز حکومت نے مالی سال کے پہلے ماہ میں معیشت کا دھڑن تختہ کردیا

وزارت خزانہ کی رپورٹ کے مطابق جولائی 2021-22 میں زرمبادلہ کے ذخائر 27 ارب 34 کروڑ 30 لاکھ ڈالر تھے جو گزشتہ ماہ 13 ارب 42 کروڑ 80 لاکھ ڈالر کے رہ گئے۔

رواں مالی سال کے پہلے مہینے نے حکومتی معاشی کارکردگی کی قلعی کھول دی، جولائی 2022 کے دوران ترسیلات زر ، بیرونی سرمایہ کاری ، نان ٹیکس آمد میں کمی ریکارڈ کی گئی۔

حکومت کی معاشی کارکردگی سے بلند بانگ دعوے اپنی جگہ ، لیکن  حکومتی معاشی فیصلوں نے معیشت پر منفی اثرات دکھانا شروع کر دیئے۔ سمندر پار پاکستانیوں کی ترسیلات زر کم ہو گئیں۔

یہ بھی پڑھیے

انٹر بینک اور اوپن مارکیٹ میں امریکی ڈالر نے پاکستانی روپیہ مزید بے قدر کردیا

سعودی عرب کی 8 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی آفر سرخ فیتے کی نذر

وزارت خزانہ نے رواں مالی سال کے پہلے ماہ میں معاشی کارکردگی رپورٹ جاری کردی ہے۔

جولائی 2021-22 میں زرمبادلہ کے ذخائر 27 ارب 34 کروڑ 30 لاکھ ڈالر تھے جو گزشتہ ماہ 13 ارب 42 کروڑ 80 لاکھ ڈالر کے رہ گئے۔

رپورٹ کے مطابق گزشتہ ماہ برآمدات، ایف بی آر ریونیو، زرعی شعبے کے قرضوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

وزارت خزانہ کی ماہانہ اکنامک اپ ڈیٹ آوٹ لک رپورٹ کے مطابق جولائی 2022 کے دوران ترسیلات زر ، بیرونی سرمایہ کاری ، نان ٹیکس آمد میں کمی ریکارڈ کی گئی۔

جولائی کے دوران 2.5 ارب ڈالر کی ترسیلات رہی جبکہ گزشتہ مالی سال جولائی کے دوران 2.7 ارب ڈالر کی ترسیلات زر موصول ہوئی تھی۔

جولائی میں گزشتہ مالی سال جولائی کے مقابلے میں ترسیلات زر میں 7.8 فیصد کی کمی ہوئی۔

ایک سال میں مالیاتی خسارہ 3403 ارب سے بڑھ کر 5260 ارب روپے تک پہنچ گیا۔

جولائی میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 1.2 ارب ڈالر رہا۔

رپورٹ کے مطابق رواں ماہ اگست کے دوران مقامی سطح صارفین کیلئے قیمتوں مزید اضافے کا امکان ہے۔

جولائی 2021-22 میں زرمبادلہ کے ذخائر 27 ارب 34 لاکھ 30 لاکھ ڈالر تھے جو گزشتہ ماہ 13 ارب 42 کروڑ 80 لاکھ ڈالر کے رہ گئے۔

گزشتہ ماہ برآمدات، ایف بی آر ریونیو، زرعی شعبے کے قرضوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، 2020-21 کی نسبت مالی سال 2021-22 میں زرعی شعبے کے قرضے میں 2.3 فیصد کا اضافہ ہوا۔

گزشتہ مالی سال 1219 ارب کے زرعی قرضے دیے گئے۔

رپورٹ کے مطابق بیرونی سرمایہ کاری میں جولائی میں 95.1 فیصد، نان ٹیکس آمدنی میں ماہ جولائی میں 21.5 فیصد کی کمی ہوئی۔

جولائی 2021-22 سے اب تک ڈالر 53.23 روپے مہنگا ہوا، تاہم یہ خوش آئند ہے کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے ٹیکس محصولات میں ماہ جولائی میں 10.2 فیصد کا اضافہ ہوا۔

متعلقہ تحاریر