375 کے ایوان میں صرف 14 اراکین نے صدر مملکت کا خطاب سنا
ڈاکٹر عارف علوی کے خطاب کا مسلم لیگ ن کی اتحادی حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کے اراکین اسمبلی نے بھی بائیکاٹ کررکھا تھا۔
صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ سیلاب اس وقت ملک کا سب سے گمبھیر مسئلہ ہے ، پاک فوج کو مبارکباد جنہوں نے اس مشکل وقت میں شہادتوں کے ساتھ لوگوں کو ریلیف پہنچانے میں کردار ادا کیا ، افسوس ناک امر یہ ہے سیلاب سے 1500 سے زائد افراد جاں بحق ہو گئے۔ صدر کے خطاب کے دوران سینیٹر مشتاق احمد مسلسل نعرے بازی کرتے رہے اور علی وزیر کے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے کا مطالبہ کرتے رہے۔
پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کا کہنا تھا سیلاب میں افواج پاکستان کو کردار لائق تحسین ہے ، سیلاب سے پاکستان کی سرزمین شدید مشکلات سے دوچار ہو گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیے
سیلاب کے ایک ماہ بعد دادو کی صورتحال برقرارہے، ذوالفقار جونیئر
وزیراعظم شہباز شریف نے عمران خان کو فراڈ قرار دے دیا
صدر مملکت کا کہنا تھا گلوبل وارمنگ کے اثرات پاکستان پر پڑ رہے ہیں ، جبکہ گلوبل وارمنگ میں پاکستان کا ایک فیصد بھی نہیں ہے۔
ڈاکٹر عارف علوی کا کہنا تھا میں سیلاب زدگان کی مدد کے لیے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کو سراہتا ہوں ، یو این سیکریٹری جنرل اور امریکی کانگریس کے وفد نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے دورے کیے۔ سیلاب سے فصلوں کو شدید نقصان پہنچا ہے میرا مشورہ ہے کہ حکومت فصلوں کے نقصان کے مستقل حل کے لیے انشورنس پالیسی مرتب کرے۔ دنیا کو سیلاب سے تباہ پاکستان کا احساس ہے۔ زراعت پاکستان میں ریڑھ کی ہڈی حیثیت رکھتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سیلاب زدگان کی بحالی کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو مل کر کام کرنا چاہیے۔ سیلاب کے ریلوں سے ہونے والے نقصان کو کم کرنے کے لیے ملک بھر میں ڈیمز بنانے کی ضرورت ہے۔ پانی ذخیرہ کرنے کے لیے ملک کو مزید ڈیمز کی ضرورت ہے ،
صدر مملکت کا اپنے خطاب میں قوم کو مبارکباد دیتے ہوئے کہنا تھا میں آزادی کے 75 سال مکمل ہونے پر قوم کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔
ان کا کہنا تھا قدرتی آفات سے لڑنے کے لیے این ڈی ایم اے ، پی ڈی ایم اے ، پاکستان ریڈ کراس اور بوائز اینڈ گرلز اسکاؤٹس کو تیار ہونا چاہیے۔ تعلیم سے محروم بچوں کو اسکلز کی تربیت دی جاسکتی ہے۔
سائنس کی ترقی پر گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر عارف علوی کا کہنا تھا دنیا کی جنگیں اب سائبر ورلڈ میں ہوں گی ، دیکھنا ہوگا اس میں ہماری تیاری کیا ہے ، سائبر پاور میں چھوٹے چھوٹے ملک پاکستان سے آگے ہیں۔
صدر عارف علوی کا کہنا تھا پاپولیشن ٹاسک فورس نے موجودہ سیلاب کی صورتحال میں مل کر کام کیا میں ان کا شکرگزار ہوں ، ہماری قوم اتنی امیر نہیں کہ بیماریوں کا علاج کراسکے۔ ملک میں اس وقت 9 فیصد سے زیادہ مریض صرف ہیپاٹائیٹس کے موجود ہیں۔ پولیو پر کافی حد تک قابو پالیا گیا ہے۔
صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے جب پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کیا تو 375 کے ایوان میں صرف 14 ارکان موجود تھے۔ اتحادی حکومت کے اراکین قومی اسمبلی اور سینیٹر نے خطاب کا بائیکاٹ کیا جبکہ پی ٹی آئی کے اراکین نے اجلاس کا بائیکاٹ کررکھا تھا۔









