مذاکرات کامیاب: حکومت نے ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز کو بڑا ریلیف دے دیا

وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا کہنا ہے پاکستان نے جو برے دن دیکھنے تھے دیکھ لئے، اب مشکل صورتحال سے باہر آرہے ہیں۔

وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار اور اور ٹیکسٹائل  ایکسپورٹرز سمیت تمام برآمدکنندگان کے درمیان ہونے والے مذاکرات کامیاب ہو گئے۔ حکومت نے تمام برآمدکنندگان کو ریلیف دیتے ہوئے فی یونٹ کی بجلی کی قیمت 19 روپے 99 پیسے مقرر کردی۔

اس بات کا اعلان وزیر خزانہ اسحق ڈار نے ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز کے ساتھ کامیاب مذاکرات کے بعد کی گئی پریس کانفرنس کے دوران کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ برآمد کنندگان سے مذاکرات ہوئے ہیں۔ برآمدکنندگان کو نو سینٹ پہ بجلی دینے کی بات کی گئی تھی اور انکا مطالبہ تھا کہ جولائی 2023 تک یہ رعایت دی جائے۔

یہ بھی پڑھیے

اسحاق ڈار نے گھمبیر مسائل کا شکار اپٹما کو اشتہار کی اشاعت سے روک دیا  

پاکستان  کے ساتھ طے شدہ معاہدے اب بھی لاگو ہیں، آئی ایم ایف

اسحق ڈار نے کہا کہ برآمدکنندگان نے 12.7 فیصد برآمدات بڑھائیں، برآمدات صرف 300 ملین ڈالر بڑھیں۔

ان کا کہنا تھا جب میں جہاز میں بیٹھا تو مارکیٹ نے اثر دکھانا شروع کردیا ، روپے کی اصل قدر 200 سے نیچے ہے، ابھی ڈنڈا چلایا نہیں مگر مجھے امید ہے کہ اس کی نوبت آئے گی نہیں۔

وفاقی وزیر خزانہ کا کہنا تھا ڈالر کے ریٹ نیچے آنے سے تقریباً 2600 ارب روپے کے قرضے کم ہوئے ہیں۔

اسحق ڈار نے بتایا کہ حکومت کوشش کررہی وسائل کے اندر رہ کر کاروباری افراد کو ریلیف دیں۔ ہم نے تو آئی ایم ایف کو خدا حافظ کہہ دیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ برآمدکنندگان کے ساتھ روپے میں ریٹ طے ہوا ہے۔ جو فرق ہوگا وہ وزارت خزانہ برداشت کرے گی۔ اس مقصد کے لیے سالانہ 100 ارب روپے کی سبسڈی دی جائے گی۔

اسحق ڈار نے پریس کانفرنس میں کہا کہ ہر چیز دس دن کے اندر نہیں ہو سکتی، ہم ہر چیز کا بندوبست کررہے ہیں ، میں کچھ نہیں کررہا،  بس ٹی وی دیکھ رہا ہوں اور شاباش دے رہا ہوں کہ چیزیں خود ہی ٹھیک ہورہی ہیں۔

اسحق ڈار نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ اس پیکج پر آئی ایم ایف کو اعتماد میں لینے کی ضرورت نہیں ، اس پیکج کی مالی گنجائش موجود ہے میں نے گنجائش پیدا کی ہے۔

وفاقی وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ عمر انڈوز نے ایک فوج تیارکی ہوئی ہے جو فیک نیوز پھیلاتی ہے۔ میری تنخواہ کسی ہسپتال یا ادارے کو جاتی ہے۔ میں نے ایک پیسہ بھی وصول نہیں کیا ، آئی ایم ایف کے ساتھ ملاقاتوں کے لئے پیر کو روانہ ہوں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کے 126 دن دھرنے کو برداشت کیا۔ اس وقت جو کیا وہ عوام کے سامنے کیا تھا ۔ اب دھرنا دیں گے تو قانون اپنا راستہ اپنائے گا۔ پاکستان نے جو برے دن دیکھنے تھے دیکھ لئے۔ اب مشکل صورتحال سے باہر آرہے ہیں۔

متعلقہ تحاریر