پاکستان آئی ایم ایف کے تعاون کے باوجود معاشی عدم استحکام شکار رہے گا، بارکلیز

بارکلیز بینک نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ انٹر نیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف ) کی امداد کے باوجود پاکستان کو قرضوں میں ایڈجسٹمنٹ کی ضرورت پڑسکتی ہے، پاکستان نے اہداف سے انحراف کرکے معاملات نازک موڑ پر پہنچا دیئے ہیں

برطانوی بینک بارکلیز نے کہا ہے کہ پاکستان کو انٹر نیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف ) کی حمایت کے با وجود کسی نہ کسی صورت قرضوں میں ایڈجسٹمنٹ کی ضرورت پڑسکتی ہے۔

بارکلیز بینک نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف ) کی امداد کے باوجود پاکستان کو قرضوں میں ایڈجسٹمنٹ کی ضرورت پڑسکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

آئی ایم ایف کی امداد بھی پاکستانی معیشت کو پٹری پر نہیں لاسکتی ہے، موڈیز

بارکلیز بینک نے اپنی رپورٹ دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان کو اپنی بیرونی پوزیشن میں تیزی سے بگاڑ کے پیش نظر کسی نہ کسی شکل میں قرض کی ایڈجسٹمنٹ کی ضرورت پڑسکتی ہے۔

برطانوی بینک نے کہا ہے کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) یا کسی بھی جانب سے مالیاتی تعاون کے باوجود پاکستان معاشی عدم استحکام کی عکاسی کرتا نظرآتا ہے ۔

بارکلیز نے آئی ایم ایف پروگرام کے حوالے سے کہا ہے کہ قرض دہندہ کا اپنے اہداف سے انحراف کیلئے کم رواداری کا مظاہرہ کرنے کے بعد یہ ایک نازک موڑ پر ہے۔

برطانوی ادارے نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ پاکستان کے خودمختار بانڈز ستمبر 2022 کے بعد سے ڈیفالٹ/ری اسٹرکچرنگ کے امکانات کی قیمتوں کا تعین کررہے ہیں۔

رپورٹ میں کہاگیا کہ نئے مالیاتی معاہدوں کا فقدان پاکستان کے پیچیدہ سیاسی ماحول اور معاشی عدم استحکام کی عکاسی کرتا ہے جبکہ دوطرفہ مالیاتی معاہدے منقسم رہے گے۔

بارکلیز بینک کے مطابق  پاکستان میں بلند افراط زر، سست شرح نمو اور مالیاتی خسارے میں اضافے سے معاشی عدم استحکام صورتحال میں  تبدیلی کی توقع نہیں ہے۔

رپورٹ میں اس بات پر روشنی ڈالی گئی کہ پاکستان کو مسائل کی ایک طویل فہرست کا سامنا ہے جس میں کرنٹ اکاؤنٹ کی خراب صورتحال، قرضوں کی بڑی ادائیگیاں ہیں ۔

متعلقہ تحاریر