آئی ایم ایف کے ورچوئل اجلاس میں دونوں جانب سے سینئر حکام کی عدم شرکت
چین کا قرض دینے والے ممالک سےموجودہ معاشی صورتحال میں پاکستان کی مدد کا مطالبہ، چین کی مخالف عالمی طاقتیں کیوں کر پاکستان کی مدد پر آمادہ ہوں گی، تجزیہ کار

وفاقی حکومت سرتوڑ کوششوں کے باوجود آئی ایم ایف کو اسٹاف لیول معاہدے پر راضی نہیں کرسکی۔گزشتہ روز پاکستانی حکام اور آئی ایم ایف کے مابین ہونے والے ورچوئل اجلاس میں دونوں جانب سے سینئر حکام شریک نہیں ہوئے۔
دوسری جانب چین نے عالمی قوتوں کو پاکستان کی معاشی صورتحال کا ذمے دار قرار دیتے ہوئےقرض دینے والے ممالک سےموجودہ معاشی صورتحال میں پاکستان کی مدد کرنے کا مطالبہ کردیا تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عالمی قوتیں اپنے مخالف چین کے مطالبے پر کیوں پاکستان کی مدد کریں گی؟
یہ بھی پڑھیے
رمضان المبارک سے قبل یوٹیلیٹی اسٹورز پر مہنگائی کا نیا طوفان آگیا
اسٹیٹ بینک کے ذخائر55.65کروڑڈالر اضافے سے 3.81ارب ڈالر ہو گئے
گزشتہ روز ایف آئی ایم کےنویں جائزے کی قسط کے اجرا سے قبل اسٹاف لیول معاہدے کیلیے پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان ورچوئل اجلاس ہوا تاہم اس میں وزیرخزانہ اسحاق ڈار، وزیر مملکت برائے خزانہ عائشہ غوث پاشا اور گورنر اسٹیٹ بینک میں سے کوئی سینئر حکام شریک نہیں ہوا۔ دوسری جانب آئی ایم ایف کی جانب سے بھی کوئی سینئر عہدیدار شریک نہیں ہوا اور اجلاس بغیر کسی پیش رفت کے ختم ہوگیا۔
دریں اثنا چین نے قرض فراہم کرنے والے ممالک اور اداروں کی اجارہ داری پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان سمیت دیگر ترقی پذیر ممالک کی ابتر معاشی صورت حال کی ذمہ دار ایک ترقی یافتہ ملک کی مالیاتی پالیسیاں ہیں۔
چین کی وزارت خارجہ کی ترجمان ماؤننگ نے عالمی خبر رساں ادارے بلوم برگ کے پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہا کہ چین، پاکستان کی اقتصادی اور مالی تعاون کرتا رہا ہے اور آئندہ بھی اقتصادی استحکام برقرار رکھنے، زندگیوں کو بہتر بنانے اور ترقی کے حصول کے لیے پاکستان کی کوششوں کی حمایت کرتا رہے گا۔
ترجمان ماؤننگ نے امریکا کا نام لیے بغیر کہا کہ لیکن یہ بتانا ضروری ہے کہ ایک مخصوص ترقی یافتہ ملک کی بنیاد پرست مالیاتی پالیسیوں کی وجہ سے پاکستان اور بہت سے دوسرے ترقی پذیر ممالک قرضوں میں پھنس کر بے پناہ مالی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔
ترجمان ماؤننگ نے مزید کہا کہ چین اور پاکستان نے ہر مشکل وقت میں ہمیشہ ایک دوسرے کا ساتھ دیا ہے۔ چین پاکستان کے معاشی اور سماجی استحکام کی کوششوں میں تعمیری کردار ادا کرنے کے لیے تمام فریقین سے مشترکہ کوششوں پر زور دیتا ہے۔
چین کی وزارت خارجہ کی ترجمان نے کہا کہ ترقی پذیر ممالک کے قرضوں کا بڑا حصہ مغربی ممالک کے زیر دست تجارتی قرض دہندگان اور کثیر جہتی مالیاتی اداروں کا ہے جو ان بڑے ممالک کے اشاروں پر چلتے ہیں۔
ترجمان وزارت خارجہ ماؤننگ نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کی معاشی صورت حال کو مد نظر رکھتے ہوئے قرض دینے والے مالیاتی ادارے اور ممالک مدد کے لیے آگے بڑھیں۔
چینی وزارت خارجہ کی ترجمان کا پاکستان کی حمایت میں بیان خوش آئند ہے تاہم تجزیہ کاروں کاکہنا ہے کہ چین کے مطالبے پر اس کی مخالف عالمی طاقتیں اور قرض دینے والے ممالک کیوں کر پاکستان کی مالی اعانت کریں گے؟









