ای سی سی کی پی ایس او کو ڈیفالٹ سے بچانے کیلئے 100ملین ڈالر کی خصوصی گرانٹ
کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے پی ایس او سے ڈیفالٹ سے بچانے کے لیے 100 ملین ڈالر کی خصوصی گرانٹ منظور کرلی ہے تاکہ کویت پٹرولیم کارپوریشن کی ادائیگیاں بروقت ادا کی جاسکے

اقتصادی رابطہ کمیٹی نے ہنگامی طور پر پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او)کو دیوالیہ سے بچانے کے لیے کویت پٹرولیم کارپوریشن کی ادائیگیوں کے لیے 100 ملین ڈالر کی گرانٹ منظور کرلی۔
کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او)کوڈیفالٹ سے بچانے کیلئے 100 ملین ڈالر (27ارب روپے)کی خصوصی گرانٹ کی منظوری دے دی ہے ۔
یہ بھی پڑھیے
ای سی سی کی ایل این جی کی درآمد کیلئے پی ایس او کو 50 ارب روپے قرض کی منظوری
وفاقی وزیر خزانہ وریونیو اسحاق ڈار کی زیر صدارت کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کا ہنگامی اجلاس منعقد کیا گیا جس میں پاکستان اسٹیٹ آئل کو ڈیفالٹ سے بچانے کے لیے گرانٹ منظور کی گئی۔
پیٹرولیم ڈویژن نے کابینہ اقتصادی رابطہ کمیٹی کو بتایا کہ پی ایس او نے کویت سے کریڈٹ کی سہولت کی وجہ سے ایکسچینج کے نقصانات کے لیے 17 ارب روپے کی سپلیمنٹری گرانٹ مانگی تھی۔
ای سی سی نے قومی ایندھن فراہم کرنے والے ادارے پی ایس او کو باقاعدہ ڈیفالٹ سے بچانے کیلئے کویت پٹرولیم کارپوریشن کی ادائیگیوں کیلئے27 ارب روپے کی خصوصی گرانٹ منظور کی ۔
پاکستان اسٹیٹ آئل کے حکام نے حکومت کو رسمی طور پر ٹیکنیکلی ڈیفالٹ ہونے سے آگاہ کرتے ہوئے اس کے اثرات سے بچنے کے لیے فوری طور پر زرمبادلہ کی فراہمی کی مطالبہ کیا تھا ۔
پی ایس او کے منیجنگ ڈائریکٹر سید محمد طحہٰ نے حکومت کو آگاہ کیا کہ ادارے کا زرمبادلہ ختم ہو چکاہے جبکہ مہنگائی کی وجہ سے بڑھتے ہوئے مالیاتی اخراجات بھی کمپنی کے منافع کو کم کر رہے ہیں ۔
اقتصادی کمیٹی نے15 مارچ ایل این جی کی درآمد کے لیے سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ (ایس این جی پی ایل) کی جانب سے پی ایس او کو 50 ارب روپے قرض لینے کی اجازت دی۔









