لارج اسکیل مینوفیکچرنگ کی پیداوار میں 11.59 فیصد کمی ریکارڈ
پاکستان ادارہ شماریات نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ فروری میں سالانہ بنیادوں پر بڑی صنعتوں کی پیدوار میں 11.59 فیصد کی بڑی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
صنعت کا بھٹہ بیٹھ گیا، لارج اسکیل مینوفیکچرنگ گروتھ منفی 11.59 فیصد، صنعتیں بند، روزگار تباہ، مشروبات، سیمنٹ، کار سازی، کھاد سازی اور ادویات سازی سمیت تمام صنعتیں شٹ ڈاؤن پوائنٹ پر پہنچ گئیں۔
پاکستان شماریات بیورو نے ملک میں صنعتی تباہی کا اعتراف کرلیا۔ لارج اسکیل مینوفیکچرنگ کے تمام یونٹ تباہی کی تصویر پیش کرنے لگے۔ فروری میں سالانہ بنیادوں پر بڑی صنعتوں کی پیدوار میں 11.59 فیصد کی بڑی کمی ہوگئی۔
یہ بھی پڑھیے
ہفتہ وار تعطیلات کے بعد اسٹاک مارکیٹ میں معمولی تیزی مگر ڈالر مہنگا ہوگیا
حکومت نے سالانہ ترقیاتی بجٹ پر مسلسل دوسرے سال کلہاڑا چلادیا
وفاقی ادارہ شماریات نے بڑی صنعتوں کی پیداوار کے اعدادوشمار جاری کردیئے۔ جس کے مطابق فروری میں سالانہ بنیادوں پر بڑی صنعتوں کی پیدوار میں 11.59 فیصد کی بڑی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
اعدادوشمار کے مطابق جولائی تا فروری بڑی صنعتوں کی پیداوار میں 5.56 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی۔ جولائی تا فروری فوڈ 1.97 اور مشروبات شعبے کی پیداوار میں 6.14 فیصد کی کمی ہوئی۔
پاکستان ادارہ شماریات کے مطابق آٹوموبیل شعبے کی پیداوار میں 38.59 فیصدکی کمی ہوئی۔ فارماسیوٹیکلز شعبے کی پیداوار میں 22.41 فیصد کمی ہوئِی۔
ادارہ شماریات کے مطابق آئرن ، اسٹیل مصنوعات کی پیداوار میں 3.89 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ تمباکو 20.42 اور ٹیکسٹائل شعبے کی پیداوار 14.03 فیصد گر گئی۔
وفاقی ادارہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق لکڑی کی مصنوعات کی پیداوار میں 68.65 فیصد کی کمی ہوئی۔ پیپر اور بورڈ کی صنعتوں کی پیداوار میں 3.37 فیصد کمی ہوئی۔
ادارہ شماریات کے مطابق کیمیکلز 4.84 اور فرٹیلائزر شعبے کی پیداوار میں 7.77 فیصد کمی ہوئی۔
واضح رہے کہ حالیہ دنوں عالمی بینک بھی اپنی رپورٹ میں ظاہر کرچکا ہے کہ پاکستان میں مزید 39 لاکھ افراد خط غربت سے نیچے چلے گئے ہیں جبکہ پاکستان میں بےروزگاری کی شرح 6.2 فیصد سے بڑھ 7 فیصد تک پہنچ رہی ہے۔









